Updated: March 11, 2026, 10:35 PM IST
| Tehran
ایران نے تہران میں ایک بینک پر مبینہ امریکی اسرائیلی فضائی حملے کے بعد خطے میں امریکہ اور اسرائیل سے وابستہ بینکوں اور اقتصادی مراکز کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ ایرانی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ اس حملے کے بعد ایران کو جوابی کارروائی کا مکمل حق حاصل ہے۔
ایران کی فوج نے تہران میں ایک بینک پر ہونے والے فضائی حملے کے بعد امریکہ اور اسرائیل کو سخت انتقامی کارروائی کی دھمکی دے دی ہے۔ ایرانی مسلح افواج کی متحد کمان خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر کے ترجمان نے بدھ کو جاری بیان میں کہا کہ منگل کو تہران میں ایک بینک کو امریکہ اور اسرائیل نے نشانہ بنایا۔ ترجمان نے اس حملے کو شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’’جنگ کا ایک ناجائز اور غیر روایتی عمل‘‘ ہے جس کے بعد ایران کو خطے میں امریکہ اور اسرائیل سے منسلک اقتصادی مراکز اور بینکوں کو نشانہ بنانے کا حق حاصل ہو گیا ہے۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’’امریکیوں کو ہماری دردناک انتقامی کارروائی کا انتظار کرنا چاہیے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: خامنہ ای کےایکس اکاؤنٹ سےٹرمپ کا کارٹون وائرل، وحشی درندہ قرار دیا، ایپسیٹن فائلز معاملے پر بھی طنز
ترجمان نے ان ممالک کے عوام کو بھی خبردار کیا جہاں امریکی یا اسرائیلی بینک موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ ان مالیاتی اداروں سے کم از کم ایک کلومیٹر کے فاصلے پر رہیں کیونکہ وہ ممکنہ اہداف بن سکتے ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق شمالی تہران میں ایک بینک پر ہونے والے اس حملے میں متعدد بینک ملازمین ہلاک ہو گئے۔ رپورٹس کے مطابق حملے کے وقت بینک کے ملازمین فروری کے آخر کی تنخواہوں کی تقسیم کی تیاری کے لیے اضافی شفٹ میں کام کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ: کشیدگی تیز، گرفتاریوں اور فوجی تیاریوں سے خطہ بے چین
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ۲۸؍ فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد سے ایران میں ہلاکتوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق اب تک ۱۲۰۰؍ سے زیادہ افراد ہلاک اور تقریباً ۱۰؍ ہزار زخمی ہو چکے ہیں۔ ایران نے ان حملوں کے جواب میں اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک کے ان حصوں کو نشانہ بنایا ہے جہاں امریکی بیس ہیں۔