پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سے امریکی نائب صدر وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر قالیباف کی علاحدہ علاحدہ ملاقاتیں،خطے میں امن کیلئے ۲؍ گھنٹے سے زائد گفتگو۔
EPAPER
Updated: April 12, 2026, 9:36 AM IST | Islamabad
پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف سے امریکی نائب صدر وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر قالیباف کی علاحدہ علاحدہ ملاقاتیں،خطے میں امن کیلئے ۲؍ گھنٹے سے زائد گفتگو۔
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی پر مذاکرات شروع ہو گئے ہیں۔ یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب حالیہ جنگ بندی کے بعد خطے میں قیام امن کی کوششیں تیز ہو رہی ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے بھی کہاکہ بات چیت کا باضابطہ آغاز ہو چکا ہے۔ذرائع کے مطابق ان مذاکرات میں جنگ کوپوری طرح ختم کرنے،آبنائے ہرمز کو لے کر رضا مندی اور مستقبل میں سیکوریٹی کے تعلق سے بات چیت ہو رہی ہے۔ واضح رہے کہ۱۹۷۹ء کے بعد پہلی مرتبہ ایران اور امریکی وفود کے درمیان براہ راست گفتگو ہوئی ہے جو ۲؍ گھنٹے جاری رہی ۔ پاکستان یہاںثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ واضح رہے کہ یہ ملاقاتیں اسلام آباد کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں ہو رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ نے ہندوستان دورے پر شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ دہرایا
خبر لکھے جانے تک مذاکرات کا آغاز ہو گیا تھا اور تکنیکی موضوعات پر گفتگو ہو رہی تھی ۔ ان مذاکرات میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور جیرڈ کشنر شامل ہیں جبکہ ایران کی جانب سے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکرمحمد باقرقالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ پاکستان کے جنرل عاصم منیر بھی گفتگو کے ٹیبل پر موجود ہیں۔ ایران نے گفتگو کیلئے ۷۱؍ رکنی وفد روانہ کیا ہے جن میں اعلیٰ سفارتکار، سائنسداں، تاجر اور دیگر اہم شخصیات بھی ہیں۔ دریں اثناء ٹرمپ کے بیانات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ جہاں ایک طرف مذاکرات کر رہا ہے ،وہیں وہ دباؤ کی حکمت عملی بھی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ایرانی وفد، جس کی قیادت پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کر رہے ہیں، پہلے ہی پیش رفت کے لئے سخت شرائط پیش کر چکا ہے۔ تہران نے باضابطہ مذاکرات سے قبل لبنان میں اسرائیلی حملوں کے فوری خاتمے اور منجمد اثاثوں کی بحالی کو لازمی قرار دیا ہے۔ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا ہے کہ وہ ایران امریکی مذاکرات میں ایرانی اسپیکرمحمد باقرکی کامیابی کیلئے دعاگو ہیں۔
گفتگو کے آغاز سے قبل امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سنیچر کی صبح اسلام آباد پہنچےاورپاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔جے ڈی وینس کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈکشنر بھی موجود تھے جبکہ پاکستان کی جانب سے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور وزیر داخلہ محسن نقوی بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ ایک ہزار گھنٹے سے تجاوز کر گیا: انٹرنیٹ واچ ڈاگ
اعلامیے کے مطابق ملاقات میں خطے میں امن، استحکام اور باہمی تعاون کے امکانات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔دوسری جانب شہباز شریف سے ایرانی وفد نے بھی علاحدہ ملاقات کی ہے۔ اس میں بھی خطے میں امن قائم رکھنے پر گفتگو کی گئی ۔ ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ واشنگٹن نے تہران کے منجمد اثاثے جو قطر اور دیگر غیر ملکی بینکوں میں رکھے گئے ہیں، جاری کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام آبنائے ہرمز میں محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانے سے بھی براہ راست منسلک ہے۔امکان ہےکہ سنیچر کو بات چیت مکمل نہ ہونے اور کسی معاہدہ پر نہ پہنچنے کی صورت میں اتوار اور پھر پیر کو بھی بات چیت جاری رکھی جاسکتی ہے۔