Updated: October 22, 2026, 8:01 PM IST
| London
ہندوستانی سنیما کی لازوال کلاسیکی فلم ’’پاکیزہ‘‘ نے ایک بار پھر اپنی مقبولیت ثابت کردی ہے۔ معروف اداکارہ مینا کماری اور ہدایت کار کمال امروہی کی ۱۹۷۲ء کی مشہور فلم کے جدید ترین ’فور کے ‘ بحال شدہ نسخے کی لندن فلم فیسٹیول میں نمائش کے تمام ٹکٹ بکنگ شروع ہونے کے صرف ایک دن میں فروخت ہوگئے۔
مینا کماری : تصویر:آئی این این
ہندوستانی سنیما کی لازوال کلاسیکی فلم ’’پاکیزہ‘‘ نے ایک بار پھر اپنی مقبولیت ثابت کردی ہے۔ معروف اداکارہ مینا کماری اور ہدایت کار کمال امروہی کی ۱۹۷۲ء کی مشہور فلم کے جدید ترین ’فور کے ‘ بحال شدہ نسخے کی لندن فلم فیسٹیول میں نمائش کے تمام ٹکٹ بکنگ شروع ہونے کے صرف ایک دن میں فروخت ہوگئے۔ فلم کی خصوصی نمائش ۱۸؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو برطانیہ کے معروف بی ایف آئی آئی میکس سنیما میں فیسٹیول کی اختتامی تقریب کے طور پر منعقد ہوئی۔ نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود فلم کے لیے شائقین کا یہ جوش ہندوستانی کلاسیکی سنیما کی دیرپا مقبولیت اور عالمی سطح پر اس کی ثقافتی اہمیت کا ثبوت ہے۔
’’پاکیزہ‘‘ کے اصل فلمی مواد کی بحالی کا کام فلم ہیریٹیج فاؤنڈیشن نے انجام دیا۔ یہ ادارہ ہندوستانی سنیما کے تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنے اور پرانی فلموں کو نئی نسلوں تک پہنچانے کے لیے کام کرتا ہے۔ ادارے کے سربراہ شیویندر سنگھ ڈنگرپور کی قیادت میں اس منصوبے پر تقریباً دو سال تک محنت کی گئی۔فلم کی بحالی کا عمل انتہائی مشکل تھا، کیونکہ اصل کیمرہ نیگیٹو دستیاب نہیں تھا اور محفوظ رہ جانے والا فلمی مواد بھی بہت خراب حالت میں تھا۔ اس میں رنگ پھیکے پڑچکے تھے، خراشیں اور پھپھوندی کے نشانات موجود تھے، جبکہ آواز کی بحالی بھی ایک بڑا چیلنج ثابت ہوئی۔ ماہرین نے دستیاب فلمی مواد اور تاریخی تصاویر کی مدد سے فلم کو اس کی اصل بصری خوب صورتی کے قریب لانے کی کوشش کی۔
یہ بھی پڑھئے:بیلن ڈی اور جیتنے والے بہترین سیزن کی رائے شماری میں کرسٹیانو رونالڈو سب سے آگے
شیویندر سنگھ ڈنگرپور نے بتایا کہ ’’پاکیزہ‘‘ کو بحال کرنا ان کا دیرینہ خواب تھا۔ انہوں نے بچپن میں اپنی دادی کے ساتھ سنیما گھر میں یہ فلم دیکھی تھی اور اس کے ساتھ ان کی جذباتی وابستگی برقرار رہی۔ ان کے مطابق، اس فلم کو بڑی اسکرین پر دوبارہ پیش ہوتے دیکھنا کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔
لندن میں فلم کی خصوصی نمائش کے موقع پر آنجہانی ہدایت کار کمال امروہی کے خاندان کے افراد بھی موجود تھے۔ ان کے بیٹے تاجدار امروہی، بیٹی رخسار امروہی اور پوتے بلال امروہی نے اس تقریب میں شرکت کی۔ اس موقع پر خاندان کے مجموعی طور پر۱۴؍ افراد ہندوستان سے لندن پہنچے تھے۔تقریب کے آغاز میں شیویندر سنگھ ڈنگرپور نے کمال امروہی کے خاندان کے افراد کے ساتھ فلم اور اس کی بحالی کے سفر پر گفتگو کی۔ اس نشست کی نظامت برٹش فلم انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ اریکے اوکے نے کی۔
تاجدار امروہی نے اپنی جذباتی گفتگو میں فلم کے اصل نیگیٹو کی خراب حالت کا موازنہ اپنی سوتیلی والدہ مینا کماری کی زندگی کے آخری ایام سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح مینا کماری اپنی زندگی کے آخری دنوں میں بے ہوشی کی حالت میں تھیں، اسی طرح ’’پاکیزہ‘‘ کا اصل فلمی نیگیٹو بھی گویا بے جان ہوچکا تھا، لیکن شیویندر سنگھ ڈنگرپور اور ان کی ٹیم نے اسے دوبارہ زندگی دے دی۔ رخسار امروہی نے بھی فلم کی بحالی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے والد نے ’’پاکیزہ‘‘ جیسی غیر معمولی تخلیق کے ذریعے ایسا کام کیا جسے آنے والی نسلیں یاد رکھیں گی۔ ہدایت کار کمال امروہی کی فلم ’’پاکیزہ‘‘ ۴؍ فروری ۱۹۷۲ء کو سنیما گھروں میں ریلیز ہوئی تھی۔ اس میں مینا کماری نے صاحب جان اور ان کی والدہ نرگس کے کردار ادا کیے، جبکہ اشوک کمار اور راج کمار سمیت دیگر معروف فنکار بھی اہم کرداروں میں نظر آئے۔فلم کی کہانی لکھنؤ کے نوابی دور کے پس منظر میں پروان چڑھتی ہے اور اس میں محبت، سماجی پابندیوں، عزت، شناخت اور جذباتی قربانیوں کو پیش کیا گیا ہے۔ فلم کی تیاری کئی برس تک جاری رہی اور مختلف مشکلات کے باعث اس کی تکمیل میں تقریباً۱۵؍ سال لگے۔ مینا کماری کی زندگی کے آخری دور سے اس فلم کی وابستگی نے بھی اس کی تاریخ کو مزید جذباتی بنا دیا۔
یہ بھی پڑھئے:امیتابھ بچن کا سوشل میڈیا سے عارضی وقفہ، مداحوں سے جذباتی پیغام میں معذرت
’’چلتے چلتے‘‘، ’’موسم ہے عاشقانہ‘‘، ’’انہیں لوگوں نے‘‘ اور ’’تھڑے رہیئو‘‘ جیسے گیت آج بھی ہندوستانی فلمی موسیقی کے مقبول ترین گیتوں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ فلم کی شاندار منظر نگاری، ملبوسات، موسیقی اور مینا کماری کی یادگار اداکاری نے اسے کلاسیکی ہندوستانی سنیما میں ایک نمایاں مقام دلایا۔ لندن فلم فیسٹیول میں ’’پاکیزہ‘‘ کے بحال شدہ نسخے کی کامیاب نمائش فلم ہیریٹیج فاؤنڈیشن کی اس کوشش کا حصہ ہے جس کے تحت ہندوستانی سنیما کی اہم فلموں کو جدید تکنیک کے ذریعے محفوظ کرکے عالمی ناظرین کے سامنے پیش کیا جارہا ہے۔ اس سال ادارے کی بحال کردہ دیگر فلمیں بھی برلن، کانز اور وینس جیسے معروف بین الاقوامی فلمی میلوں میں دکھائی گئی ہیں۔’’پاکیزہ‘‘ کی نمائش کے ٹکٹوں کا ایک ہی دن میں فروخت ہوجانا اس بات کی علامت ہے کہ معیاری کلاسیکی فلمیں آج بھی نئی نسل اور بین الاقوامی ناظرین کو اپنی طرف متوجہ کرسکتی ہیں۔ فلم کی بحالی نے نہ صرف مینا کماری اور کمال امروہی کے فن کو دوبارہ بڑی اسکرین پر زندہ کیا بلکہ ہندوستانی سنیما کے تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنے کی اہمیت بھی اجاگر کردی۔