Inquilab Logo Happiest Places to Work

دی اوڈیسی: آئی میکس ۷۰؍ ایم ایم کے تجربے پر شدید تنقید

Updated: July 28, 2026, 8:07 PM IST | Los Angeles

کرسٹوفر نولن کی فلم The Odyssey نے دنیا بھر میں IMAX 70mm سنیما گھروں کے باہر غیرمعمولی بھیڑ لگای دی ہے۔ فلم کو نولن کے وژن کے مطابق دیکھنے کے لیے شائقین ہفتوں پہلے ٹکٹ خرید رہے ہیں، جبکہ دنیا بھر میں صرف ۴۱؍ ایسے سنیما گھر موجود ہیں جہاں فلم کو مکمل 15/70 IMAX فارمیٹ میں دکھایا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب سوشل میڈیا اور فلمی حلقوں میں یہ بحث بھی شدت اختیار کر گئی ہے کہ کیا اعلیٰ معیار کا سنیما صرف ان چند خوش نصیب ناظرین تک محدود ہو گیا ہے جو ایسے سنیما گھروں تک پہنچ سکتے ہیں۔

Odyssey.Photo:INN
اوڈیسی۔ تصویر:آئی این این

کرسٹوفر نولن کی نئی فلم The Odyssey صرف باکس آفس پر ہی نہیں بلکہ سنیما گھروں کے باہر بھی ایک غیرمعمولی رجحان بن چکی ہے۔ فلم کی IMAX 70mm اسکریننگ کے لیے دنیا بھر میں شائقین کی بے مثال دلچسپی نے ٹکٹوں کی فروخت کو ریکارڈ سطح پر پہنچا دیا ہے، جبکہ کئی مقامات پر ابتدائی ہفتوں کے تمام شوز پہلے ہی فروخت ہو چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض مبصرین نے اس صورتِ حال کو "IMAX Stampede" قرار دیا ہے۔ اس غیرمعمولی مانگ کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ The Odyssey پہلی فیچر فلم ہے جسے مکمل طور پر IMAX 70mm فلم کیمروں پر شوٹ کیا گیا ہے۔ نولن نے برسوں سے روایتی فلم فارمیٹ کی حمایت کی ہے اور اس فلم میں بھی اسی ٹیکنالوجی کو ترجیح دی، جس کے باعث ان کا کہنا ہے کہ فلم کا اصل تجربہ صرف مکمل 15/70 IMAX فارمیٹ میں ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ 
تاہم یہی بات تنازع کا سبب بھی بن گئی ہے۔ دنیا بھر میں صرف ۴۱؍ ایسے IMAX سنیما گھر موجود ہیں جو فلم کو اس کے مکمل 1.43:1 امیج ریشو اور 15/70mm فارمیٹ میں پیش کر سکتے ہیں۔ ان میں سے ۲۵؍ یا ۲۶؍ امریکہ میں واقع ہیں، جبکہ ایشیا، افریقہ اور جنوبی امریکہ کے بیشتر ممالک میں اس معیار کی اسکرین موجود ہی نہیں۔ نتیجتاً لاکھوں فلم بین نولن کے مطابق ’’اصل‘‘ تجربے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ گلف نیوز کے مطابق اس صورتحال نے فلمی شائقین میں شدید بحث چھیڑ دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر کسی فلم کا بہترین تجربہ دنیا کے صرف چند درجن سنیما گھروں تک محدود ہو تو یہ سنیما کو ایک ’’اشرافیہ کا تجربہ‘‘ (Elite Experience) بنا دیتا ہے، جہاں صرف وہی لوگ مکمل فلم دیکھ سکتے ہیں جو مخصوص شہروں میں رہتے ہوں یا طویل سفر اور مہنگے ٹکٹ برداشت کر سکیں۔ دوسری جانب نولن کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہی کمیابی اس فارمیٹ کی کشش اور اہمیت کو برقرار رکھتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:زین الدین زیدان فرانس کی قومی فٹبال ٹیم کے نئے ہیڈ کوچ مقرر


فلم کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ متعدد سنیما گھروں میں ٹکٹ جاری ہوتے ہی چند منٹوں یا گھنٹوں میں فروخت ہو گئے، جبکہ کئی ناظرین نے سینکڑوں میل سفر کر کے فلم دیکھنے کا منصوبہ بنایا۔ بعض شہروں میں ٹکٹ دوبارہ فروخت کرنے والوں نے بھی زیادہ قیمتیں وصول کرنا شروع کر دیں، جس سے فلم دیکھنا مزید مہنگا ہو گیا۔ اس دوران IMAX کے چیف ایگزیکٹو رچ گیلفونڈ نے بھی اس فارمیٹ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ The Odyssey جیسی فلمیں ثابت کرتی ہیں کہ بڑے پردے پر فلم دیکھنے کا تجربہ اب بھی منفرد ہے۔ انہوں نے کہا کہ نولن کی فلم نے ایک بار پھر 70mm IMAX ٹیکنالوجی میں دلچسپی پیدا کی ہے اور اس فارمیٹ کے مستقبل کو نئی زندگی دی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:دہلی ہائی کورٹ سے سلمان خان کو بڑی راحت، فلم ’’کالا ہرن ‘‘کے ٹیزر کو ہٹانے کا حکم


تاہم ایک عملی مسئلہ بھی سامنے آیا ہے۔ کئی دہائیوں پرانے IMAX 70mm پروجیکٹرز کو برقرار رکھنا نہایت مشکل ہوتا جا رہا ہے کیونکہ ان کے پرزے نایاب ہیں، نظام پیچیدہ ہے اور انہیں چلانے کے لیے خصوصی تربیت یافتہ پروجیکشنسٹ درکار ہوتے ہیں۔ بعض سنیما گھروں میں تکنیکی خرابیوں کی وجہ سے شوز بھی منسوخ کرنا پڑے۔ ماہرین کے مطابق یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں ایسے سنیما گھروں کی تعداد محدود ہے اور انہیں تیزی سے بڑھانا آسان نہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کچھ صارفین نے لکھا کہ اگر فلم کا اصل ورژن صرف چند مقامات پر دستیاب ہو تو یہ عام ناظرین کے ساتھ ناانصافی ہے، جبکہ دیگر نے کہا کہ ہر فارمیٹ میں فلم دیکھی جا سکتی ہے اور IMAX 70mm صرف ان لوگوں کے لیے ایک اضافی تجربہ ہے جو اسے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یوں The Odyssey صرف ایک فلم نہیں بلکہ جدید سنیما، ٹیکنالوجی، رسائی اور فلم بینی کے مستقبل پر جاری بحث کا بھی مرکز بن گئی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK