• Thu, 03 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پاکستانی کوک اسٹوڈیو میں ایک جادو ہے جو ہندوستانی ورژن میں نہیں: عاطف اسلم

Updated: September 03, 2026, 9:05 PM IST | Karachi

عاطف اسلم کے مطابق پاکستانی کوک اسٹوڈیو میں ایک خاص ’’جادو‘‘ موجود ہے، جو انہیں ہندوستانی ورژن میں اسی شدت کے ساتھ محسوس نہیں ہوتا۔ انہوں نے اس کی وجہ موسیقی کی گہری جڑوں، اصل دھنوں اور فنکاروں کو اپنی انفرادی طرزِ گائیکی پیش کرنے کی آزادی کو قرار دیا۔

Atif Aslam.Photo:INN
عاطف اسلم۔ تصویر:آئی این این

پاکستانی گلوکار عاطف اسلم  نے کوک اسٹوڈیو پاکستان اور کوک اسٹوڈیو  ہندوستان  کے درمیان موسیقی کے انداز اور تخلیقی آزادی کے فرق پر کھل کر بات کی ہے۔ عاطف اسلم کے مطابق پاکستانی کوک اسٹوڈیو میں ایک خاص ’’جادو‘‘ موجود ہے، جو انہیں ہندوستانی ورژن میں اسی شدت کے ساتھ محسوس نہیں ہوتا۔ انہوں نے اس کی وجہ موسیقی کی گہری جڑوں، اصل دھنوں اور فنکاروں کو اپنی انفرادی طرزِ گائیکی پیش کرنے کی آزادی کو قرار دیا۔  اسی گفتگو کے دوران عاطف اسلم نے اپنے بالی ووڈ کریئر کے ایک مشہور گانے ’’تیرے لیے‘‘ کے حوالے سے بھی حیران کن اعتراف کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں دوبارہ موقع ملتا تو شاید وہ یہ گانا کسی دوسرے گلوکار سے گوایا جانا پسند کرتے۔

یہ بھی پڑھئے:ہیری پوٹر سیریز کا نیا ٹریلر جاری، جادوگروں کی نئی نسل ہاگ وارٹس پہنچ گئی

عاطف اسلم  نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ دونوں جانب کی موسیقی اور کمپوزیشن اچھی ہیں، لیکن ان کے خیال میں پاکستانی موسیقی کی جو بنیادی جڑیں اور خام پن ہے، وہ ہندوستانی  ورژن میں کم نظر آتا ہے۔ عاطف کے مطابق ہندوستانی کوک اسٹوڈیو میں تجارتی پہلو کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے  جبکہ پاکستانی کوک اسٹوڈیو میں اصل کمپوزیشن، موسیقی کی روایت اور فنکار کے ذاتی انداز کو زیادہ جگہ ملتی ہے۔  عاطف اسلم نے پاکستانی کوک اسٹوڈیو کے تخلیقی عمل کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ کئی افراد مل کر ایک کمپوزیشن تیار کرتے ہیں اور پھر گلوکار کو اسے اپنے انداز میں پیش کرنے کی گنجائش دی جاتی ہے۔
عاطف کے  مطابق، یہی تعاون اور فنکارانہ آزادی موسیقی کو منفرد بناتی ہے۔ ایک طرف کمپوزیشن کی بنیادی ساخت برقرار رہتی ہے اور دوسری طرف گلوکار اپنی شخصیت، آواز اور انداز کو اس میں شامل کر سکتا ہے۔ عاطف کے خیال میں یہی توازن کوک اسٹوڈیو پاکستان کو ایک الگ شناخت دیتا ہے۔  اسی انٹرویو میں عاطف اسلم سے پوچھا گیا کہ کیا ان کے گائے ہوئے کسی گانے کے بارے میں انہیں کبھی ایسا لگا کہ اسے کسی دوسرے گلوکار کو گانا چاہیے تھا۔ عاطف نے فوراً ’’تیرے لیے‘‘ کا نام لیا، جو فلم ’’پرنس‘‘  کے لیے ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس گانے میں عاطف اسلم کے ساتھ  شریا گھوشال  نے بھی آواز دی تھی، جبکہ فلم میں  وویک اوبرائے  مرکزی کردار میں تھے۔

یہ بھی پڑھئے:توحید ہردوئے کی ریکارڈ ساز اننگز نے ٹیسٹ کرکٹ کے دروازے پر پھر دستک دے دی

عاطف نے اعتراف کیا کہ انہیں لگتا ہے کہ یہ گانا کسی دوسرے گلوکار کی آواز میں زیادہ بہتر لگ سکتا تھا۔ یہ ان کے مداحوں کے لیے ایک حیران کن بیان تھا کیونکہ ’’تیرے لیے‘‘ ان کے ہندوستان  میں مقبول بالی ووڈ گانوں میں شمار ہوتا ہے۔   عاطف اسلم کے ’’تیرے لیے‘‘ سے متعلق تبصرے پر کمپوزر  سچن گپتا  نے بھی ردعمل ظاہر کیا۔ رپورٹس کے مطابق  گپتا نے عاطف سے سوال کیا کہ کیا انہیں اس گانے کی ریکارڈنگ کے لیے زبردستی اسٹوڈیو لایا گیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ یہی گانا  ہندوستان میں عاطف اسلم کی مقبولیت میں اہم ثابت ہوا تھا۔ سچن گپتا کے مطابق، عاطف اس گانے کی تیاری کے وقت خود بھی خاصے پرجوش تھے۔ 
’’تیرے لیے‘‘ فلم پرنس  کے ساؤنڈ ٹریک کا حصہ تھا اور اسے عاطف اسلم اور شریا گھوشال نے گایا تھا۔ گانے کی کمپوزیشن سچن گپتا نے کی تھی۔ یہ گانا عاطف اسلم کے بالی ووڈ دور کے ان گانوں میں شامل رہا ہے جنہوں نے انہیں بھارتی موسیقی کے شائقین میں مزید مقبولیت دلائی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK