پنجابی گلوکار و اداکار نے۹۰ء کی دہائی کی گووندا۔ڈیوڈ دھون جوڑی اور ان کی مزاحیہ اداکاری کو یاد کیا؛ کہا ان فلموں میں ایک ایسی خوشی تھی جو آج کی فلموں میں کم دکھائی دیتی ہے۔
EPAPER
Updated: September 16, 2026, 8:02 PM IST | Mumbai
پنجابی گلوکار و اداکار نے۹۰ء کی دہائی کی گووندا۔ڈیوڈ دھون جوڑی اور ان کی مزاحیہ اداکاری کو یاد کیا؛ کہا ان فلموں میں ایک ایسی خوشی تھی جو آج کی فلموں میں کم دکھائی دیتی ہے۔
پنجابی گلوکار و اداکار دلجیت دوسانجھ نے بالی ووڈ کے معروف اداکار گووندا کو ’’لیجنڈری آرٹسٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے ان کے ساتھ کام نہ کر پانے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ دلجیت نے حالیہ انسٹاگرام لائیو کے دوران گووندا کے گانوں اور فلموں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے بہت بڑے مداح ہیں اور ایک وقت سے ان کے ساتھ کسی فلم میں کام کرنے کی خواہش رکھتے تھے، جو اب تک پوری نہیں ہوسکی۔
دلجیت اس وقت اپنےاورا ورلڈ ٹور میں مصروف ہیں۔ انسٹاگرام لائیو میں انہوں نے گووندا کی فلم ’جس دیش میں گنگا رہتا ہے‘ کے گانے ’کیم چھ‘(Kem Chhe) کی چند سطریں گائیں اور پھر گووندا کے فلمی سفر اور اپنی پسند کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ گووندا کو پسند کرتے ہیں اور ان کی اداکاری، خصوصاً مزاحیہ انداز، کا کوئی مقابلہ نہیں۔
یہ بھی پڑھئے:کیا زینڈایا اور ٹام ہالینڈ کی شادی ’’ڈُون ۳‘‘ کے بعد ہوگی؟
دلجیت نے گووندا اور ہدایت کار ڈیوڈ دھون کی جوڑی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی فلموں میں ایک خاص ’’ذائقہ‘‘ اور خوشی تھی۔ ان کے مطابق ایک زمانے میں اگر کوئی شخص مزاحیہ فلم دیکھنا چاہتا تھا تو اس میں گووندا کا ہونا تقریباً یقینی سمجھا جاتا تھا۔ دلجیت نے ان کے گانوں کو بھی یادگار قرار دیا اور کہا کہ ان فلموں نے ناظرین کو حقیقی خوشی فراہم کی۔
دلجیت نے موجودہ فلمی ماحول کا ماضی سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ آج کامیابی کو اکثر فلم کے ۱۰۰؍کروڑ روپے یا اس سے زیادہ کمانے کی خبر سے جوڑا جاتا ہے، جب کہ گووندا کے دور کی فلموں میں ناظرین کو محض باکس آفس اعداد و شمار سے زیادہ تفریح اور خوشی ملتی تھی۔ یہ دلجیت کی اپنی رائے تھی، جس کا اظہار انہوں نے گووندا کی فلموں کو یاد کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے گووندا کی خاص طور پر مزاحیہ ٹائمنگ، رقص، تاثرات اور اسکرین پر کردار کو سنبھالنے کے انداز کی تعریف کی۔ دلجیت کے مطابق گووندا ایک منفرد فنکار تھے اور ان جیسا دوسرا اداکار دوبارہ آنا مشکل ہے۔ انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’مجھے گووندا سے محبت ہے۔‘‘
گووندا اور ڈیوڈ دھون نے ۱۹۹۰ءکی دہائی میں متعدد کامیاب فلموں میں ایک ساتھ کام کیا، جن میں ’شولا اور شبنم‘، ’آنکھیں‘، ’راجا بابو‘، ’کولی نمبر 1‘، ’ہیرو نمبر 1‘ اور ’بڑے میاں چھوٹے میاں‘ شامل ہیں۔ ان فلموں میں گووندا کی مزاحیہ اداکاری، رقص اور مکالموں کی ادائیگی ان کی شناخت کا اہم حصہ بنے۔
یہ بھی پڑھئے:شاہ رخ خان نے ’’کنگ‘‘ کے ٹریلر ریلیز میں تاخیر کی وجہ بتائی
دلجیت نے اپنی خواہش کا ذکر ایسے وقت کیا ہے جب وہ خود بھی موسیقی اور اداکاری دونوں شعبوں میں نمایاں مقام بناچکے ہیں۔ وہ اس وقت اورا ورلڈ ٹور کے سلسلے میں مختلف شہروں میں پرفارم کررہے ہیں اور حال ہی میں لندن کے ویمبلی اسٹیڈیم میں پرفارم کرنے والے پہلے پنجابی فنکار بننے کا اعزاز بھی حاصل کرچکے ہیں۔
دوسری جانب گووندا طویل عرصے سے بڑے پردے پر باقاعدہ نظر نہیں آئے۔ ان کی آخری تھیٹر ریلیز ’رنگیلا راجا‘ ۲۰۱۹ء میں ہوئی تھی۔ دلجیت کی تازہ گفتگو نے ایک بار پھر گووندا کے ۹۰ء کی دہائی کے فلمی دور اور ان کی مزاحیہ اداکاری کو موضوع بحث بنا دیا ہے۔