• Thu, 29 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سمن کلیانپورکےگیتوں میں انفرادیت پائی جاتی ہے

Updated: January 29, 2026, 3:36 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

جب ہم ہندوستانی فلمی موسیقی کے سنہرے دور یعنی ۱۹۵۰ء سے ۱۹۷۰ءتک کی بات کرتے ہیں، تو سب سے پہلے لتا منگیشکر کا نام آتا ہے،مگر اسی دور میں ایک اور آواز بھی تھی، کہ جو دل کی خاموش گہرائیوں تک پہنچتی تھی اور وہ آواز سمن کلیانپور کی تھی۔

The songs of Suman Kalyanpur are still sung today. Picture: INN
سمن کلیانپور کے گیت آج بھی گنگنائے جاتے ہیں۔ تصویر: آئی این این
جب ہم ہندوستانی فلمی موسیقی کے سنہرے دور یعنی ۱۹۵۰ء سے ۱۹۷۰ءتک کی بات کرتے ہیں، تو سب سے پہلے لتا منگیشکر کا نام آتا ہے،مگر اسی دور میں ایک اور آواز بھی تھی، کہ جو دل کی خاموش گہرائیوں تک پہنچتی تھی اور وہ آواز سمن کلیانپور کی تھی۔ یہ وہ گلوکارہ تھیں جن کی آواز میں ایک ایسی مٹھاس تھی  جسے سنتے ہی روح جھوم اٹھتی تھی۔ سمن کلیانپور کا اصل نام سمن ہمادی تھا، اور وہ ۲۸؍ جنوری ۱۹۳۷ء کو ڈھاکہ (موجودہ بنگلہ دیش) میںپیدا ہوئیں۔ بچپن میں خاندان ممبئی منتقل ہوا، اور وہیں ان کے اندر موسیقی کے لیے محبت نے پروان چڑھنا شروع کیا۔سمن نےنہ صرف اپنے اندر کے سُروں کو پہچانابلکہ آل انڈیا ریڈیو پر اپنی پہلی پرفارمنس کے ذریعے راستہ بنایا۔ 
سمن کےکریئرکاآغاز۱۹۵۳ءمیں ریلیز ہونے والی مراٹھی فلم ’شکراچی چاندنی‘ سے ہوا۔اسی وقت شیخ مختار فلم’منگو‘ بنارہے تھے اور اس کے میوزک ڈائریکٹر محمد شفیع تھے۔شیخ مختار میرے مراٹھی گانے سے اس قدر متاثر تھے کہ انہوں نے منگو میں مجھے ۳؍ گانے گانے کا موقع دیا۔ لیکن کسی وجہ سے محمد شفیع کی جگہ او پی نیئر کو موسیقی کی ذمہ داری سونپ دی گئی اورفلم میں میرا ایک ہی گیت رکھا گیا۔
ہندوستانی فلموں کے عظیم کمپوزرز جیسے نوشاد، شنکر جےکشن، ایس ڈی برمن، روشن، کلیان جی آنندجی، ہیمنت کمار اور لکشمی کانت پیارے لال  نے سمن کے سُروں کو فلمی دھنوں کا روپ دیا، اور اس دور کی یادگار گیتوں میں سمن کا حصہ آج بھی زندہ ہے۔ 
سمن کلیانپور کے سُروں میں ایسی مٹھاس تھی کہ چاہے لوک گیت ہوں یا فلمی گیت، ان کے گیت آج بھی لوگوں کے دلوں میں بسے ہیں۔ مثال کے طور پر’نہ نہ کرتے پیار‘ ایک ایسا گیت جسے اکثر لتا منگیشکر ہی کا سمجھ لیا جاتا تھا، مگر حقیقت میں سمن کی آواز ہے۔ ’آج کل تیرے میرے پیار کے چرچے‘ میںسمن نے اپنی روح ڈال دی۔ ان کے علاوہ  ایسے ہی کئی ڈُویٹس ہیں جن میں محمد رفیع، منّا دے، کشور کمار جیسے عظیم گلوکاروں کے ساتھ ان کی آوازمدغم ہوگئی۔ 
سمن کی آواز اتنی لطیف اور دلنشین تھی کہ بہت سے لوگوں نے اسے لتا منگیشکر کی آواز سمجھ لیا۔ لوگ ریکارڈز اور ریڈیو کے دور میں اکثر دونوں گلوکاراؤں کی آوازوں کو غلط شناخت کرتے تھے۔ یہ مماثلت سمن کے کریئرکیلئےنعمت بھی تھی اور المیہ بھی۔ نعمت اس لیے کہ ان کی آواز کو لوگ لتا کی آواز سمجھ کر بڑی تعداد میں سنتے تھے مگر المیہ اس لیے کہ وہ اپنے اصل نام سے پہچان نہ بنا سکیں۔موسیقی کےکچھ مبصرین کا خیال ہے کہ فلم انڈسٹری کی سیاست اور مقابلہ آرائی نے انہیں وہ مقام نہیں دیا جس کی وہ مستحق تھیں۔ سمن کلیانپور نے اپنے دور میں ہزاروںگیت ریکارڈ کیے، اور ان میں سے بہت سے آج بھی روایتی محفلوں، فلمی یادوں اور موسیقی کےشائقین کے دلوں میں زندہ ہیں۔ ان کی آوازنے محبت، جدائی، امید اور ماضی کی خوبصورت یادوں کو ہمارے اندر زندہ رکھا۔  ۱۹۵۸ء میںسمن نے رامانند کلیانپور سے شادی کی، اور وہ اپنے خاندان کے ساتھ ممبئی میں نئی زندگی کے راستے پر آگئیں۔ ان کی ایک بیٹی چارُل اگنی ہے، جو امریکہ میں مقیم ہے۔ زندگی نے سمن کو بہت کچھ سکھایا، شکوک و شبہات، شہرت اور نامور ہستیوں کی دنیا مگر انہوں نے ہر مشکل میں اپنے سروں کی دلکشی کو برقرار رکھا۔ہندستانی موسیقی کی تاریخ میں سمن کا نام وہ روشن ستارہ ہے جو شاید مرکزی روشنی میں نہ آیا، مگر سائے کے اندر بھی اپنی چمک برقرار رکھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK