Updated: August 05, 2026, 6:04 PM IST
| Port Of Spain
عبداللہ شفیق (ناٹ آؤٹ ۱۶۰؍رن) کی شاندار سنچری کے بعد ساجد خان ( ۴؍وکٹ) اور عثمان علی (۲؍ وکٹ) کی بہترین گیند بازی کی بدولت پاکستان نے دوسرے ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن کھیل ختم ہونے تک ویسٹ انڈیز کی دوسری اننگز میں ۱۰۳؍ رنز پر۶؍ وکٹیں حاصل کرکے میچ پر اپنی گرفت مضبوط کرلی ہے۔
عبداللہ شفیق (ناٹ آؤٹ ۱۶۰؍رن) کی شاندار سنچری کے بعد ساجد خان ( ۴؍وکٹ) اور عثمان علی (۲؍ وکٹ) کی بہترین گیند بازی کی بدولت پاکستان نے دوسرے ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن کھیل ختم ہونے تک ویسٹ انڈیز کی دوسری اننگز میں ۱۰۳؍ رنز پر۶؍ وکٹیں حاصل کرکے میچ پر اپنی گرفت مضبوط کرلی ہے۔ تیسرا دن گیند بازوں کے نام رہا اور مجموعی طور پر ۱۴؍ وکٹیں گریں۔
تیسرے دن پاکستان نے ۲؍ وکٹ پر ۲۶۶؍ رنز سے آگے کھیلنا شروع کیا۔ ابھی اسکور عبداللہ شفیق (ناٹ آؤٹ ۱۶۰؍رن) کی شاندار سنچری کے بعد ساجد خان ( ۴؍وکٹ) اور عثمان علی (۲؍ وکٹ) کی بہترین گیند بازی کی بدولت پاکستان نے دوسرے ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن کھیل ختم ہونے تک ویسٹ انڈیز کی دوسری اننگز میں ۱۰۳؍ رنز پر۶؍ وکٹیں حاصل کرکے میچ پر اپنی گرفت مضبوط کرلی ہے۔۲۸۱؍ رنز تک ہی پہنچا تھا کہ بابر اعظم نے ایسا سنگل لینے کی کوشش کی جو ممکن نہیں تھا اور واپس لوٹتے ہوئے کنگ کی براہ راست تھرو کا شکار ہو گئے۔ پاکستانی کپتان سنچری سے ۱۲؍ رنز دور رہ گئے، لیکن اہم بات یہ تھی کہ کنگ گیند اٹھا کر پھینکتے ہوئے غلط انداز میں گر گئے اور انہیں اسٹریچر پر میدان سے باہر لے جانا پڑا۔ کمر کے نچلے حصے میں کھنچاؤ کے باعث وہ دوبارہ فیلڈنگ یا بلے بازی کے لیے میدان میں نہیں آ سکے۔
اس کے بعد واریکن نے اویس جعفر کو آؤٹ کیا اور پھر شمر جوزف نے سلمان آغا کو بغیر کوئی رن بنائے ایل بی ڈبلیو کر دیا۔ پاکستان نے صرف ۵؍ رنز کے اندر ۳؍ وکٹیں گنوا دیں، جس سے میچ دلچسپ موڑ پر پہنچ گیا۔ محمد رضوان نے ۱۸؍ رنز کی اپنی اننگز میں ۳؍ چوکے لگائے، لیکن واریکن کی آرم بال پر بولڈ ہو گئے، جس سے پاکستان کا اسکور۳۱۱/۶ ؍ہو گیا۔ اس کے بعد ساجد نے سنچری ساز شفیق کے ساتھ ۵۹؍رنز کی شراکت کرکے ٹیم کو سنبھالا۔ واریکن ایک سرے سے مسلسل گیند بازی کرتے رہے، لیکن ساجد نے اپنے شاٹس کھیلنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں دکھائی اور لنچ تک پاکستان ویسٹ انڈیز کی پہلی اننگز کے اسکور سے صرف ۱۱؍رنز پیچھے تھا۔
دوسرے سیشن میں پاکستان نے برتری حاصل کرلی اور جب واریکن کو آرام دیا گیا تو شفیق نے کیویم ہاج کی جز وقتی اسپن گیند پر آگے بڑھ کر لانگ آن کے اوپر سے زوردار شاٹ لگا کر ۱۵۰؍ رنز مکمل کیے۔ اس کے بعد روسٹن چیز نے واریکن کو دوبارہ گیند بازی کے لیے بلایا۔ ساجد اور شفیق کی جوڑی ڈرنکس بریک تک قائم رہی، لیکن اس کے فوراً بعد جیڈن سیلز نے ساجد کو ۳۰؍رنز پر آؤٹ کردیا۔
پھر واریکن نے زبردست گیند بازی کرتے ہوئے ۴؍ گیندوں میں ۳؍ وکٹ حاصل کرکے پاکستان کے نچلے آرڈر کے بلے بازوں کو سمیٹ دیا۔ انہوں نے مجموعی طور پر ۶؍وکٹ حاصل کئے اور شفیق دوسرے سرے سے بے بسی کے ساتھ یہ سب دیکھتے رہے۔ چائے کے وقت تک ویسٹ انڈیز نے پاکستان کی برتری کو ۴۳؍ رنز تک محدود کردیا تھا۔ پاکستان کی پہلی اننگز ۳۸۷؍ رنز پر ختم ہوئی۔ ویسٹ انڈیز نے اپنی دوسری اننگز کا مثبت آغاز کیا اور ہاج کو ٹیگنارائن چندرپال کے ساتھ اننگز شروع کرنے کے لیے بھیجا گیا۔ تیز گیند بازوں کے خلاف مسلسل اسٹرائیک بدلنے اور باؤنڈری لگانے سے انہوں نے خسارہ کم کیا۔ محمد علی پاکستان کے لیے مہنگے ثابت ہوئے۔ تاہم مہمان ٹیم کے لیے اسپن گیند بازی کا حربہ کامیاب رہا اور ساجد نے اپنے پہلے ہی اوور میں چندرپال کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کردیا۔
اسی اوور میں ویسٹ انڈیز نے برتری حاصل کرلی اور ۶۲/ ایک کے اسکور پر صورتحال مضبوط دکھائی دے رہی تھی، لیکن اسپن گیند بازوں نے کھیل کا رخ ہی بدل دیا۔ عامر جنگو نے ایسی گیند پر پیچھے رہ کر کھیلنے کی کوشش کی جس پر انہیں آگے آنا چاہیے تھا اور ساجد نے انہیں بولڈ کردیا۔ اس کے بعد بائیں ہاتھ کے اسپنر عثمان نے کامیاب جائزے کے بعد ہاج کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کردیا۔ شائی ہوپ اور چیز نے مل کر ۸۸؍ گیندوں تک جدوجہد کی اور صرف ۲۵؍ رنز بنائے، لیکن گھومتی ہوئی گیندوں کے سامنے مسلسل دفاع کرتے رہنے سے بلے بازوں کو کوئی فائدہ نہیں ہو رہا تھا۔ آخرکار ایک گیند ہوپ کے لیے مہلک ثابت ہوئی۔ ساجد کی گیند نے گھومتے ہوئے اپنی رفتار کم کی اور نیچی رہی، جس کے نتیجے میں ہوپ وکٹوں کے عین سامنے پھنس گئے اور آؤٹ ہوگئے۔ نائٹ واچ مین سیلز کا بھی یہی انجام ہوا۔ ساجد نے سیدھی گیند پر انہیں آؤٹ کرکے اپنی چوتھا وکٹ حاصل کیا۔ دن کے کھیل کے آخری لمحات میں چیز نے عثمان کو آسان کیچ دے دیا۔
یہ بھی پڑھئے:’’آدی پُروش‘‘ توقعات پر پوری نہیں اتری، اسے تسلیم کرنے میں کوئی شرم نہیں: منوج منتشر
۹۹/۳ سے ۱۰۳/۶؍ تک اسکور کا اچانک لڑکھڑا جانا اور کنگ کی بلے بازی کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال نے ویسٹ انڈیز کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ وہ ایک بار پھر چوتھے دن کی صبح جسٹن گریوز (ناٹ آؤٹ وَن) سے امید کریں گے کہ وہ ٹیم کو مشکل صورتحال سے نکالیں اور برتری کو ایک چیلنجنگ ہدف تک پہنچائیں۔
عبداللہ شفیق کی تاریخی ۱۶۰؍ رنز کی اننگز، ۴۹؍ سال بعد ویسٹ انڈیز میں نیا پاکستانی ریکارڈ
پاکستان کے سلامی بلے باز عبداللہ شفیق نے ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں شاندار۱۶۰؍ رنز کی ناٹ آؤٹ اننگز کھیل کر نہ صرف ٹیم کو مضبوط پوزیشن میں پہنچایا بلکہ ۴۹؍ سال پرانا پاکستانی ریکارڈ بھی اپنے نام کر لیا۔ کوئینز پارک اوول میں تیسرے روز کھیل کا آغاز ہوا تو عبداللہ شفیق ۱۰۷؍ اور کپتان بابر اعظم ۸۴؍ رنز کے ساتھ کریز پر موجود تھے۔
یہ بھی پڑھئے:مودی حکومت کا کھیلوں میں ترقی کا دعویٰ، اعداد و شمار کچھ اور ہی تصویر پیش کرتے ہیں
پاکستان نے اپنی پہلی اننگز ۳۸۷؍ رنز پر ختم کی، جس میں عبداللہ شفیق ۱۶۰؍ رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ ان کی یہ اننگز پاکستانی ٹیم کے لیے میچ میں انتہائی اہم ثابت ہوئی۔ عبداللہ شفیق ۴۹؍ برس بعد ویسٹ انڈیز کی سرزمین پر ٹیسٹ کرکٹ میں ۱۵۰؍سے زائد رنز بنانے والے پہلے پاکستانی بلے باز بن گئے ہیں۔ اس سے قبل۱۹۷۷ء میں ماجد خان نے گیانا میں ۱۶۷؍ رنز کی اننگز کھیل کر یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی جانب سے بیرون ملک ٹیسٹ کرکٹ میں کھیلی گئی ۱۵۰؍سے زائد رنز کی آخری چار اننگز میں سے تین عبداللہ شفیق کے نام ہیں، جو ان کی غیر معمولی مستقل مزاجی کا ثبوت ہے۔