ایکشن اور فٹنیس کے لیے مشہور ٹائیگر شروف کی زندگی بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ پردے پر جہاں وہ دشمنوں کو شکست دیتے نظر آتے ہیں، وہاں حقیقی زندگی میں ایک وقت ایسا تھا جب وہ اندر سے کمزور محسوس کر رہے تھے۔
EPAPER
Updated: March 01, 2026, 7:28 PM IST | Mumbai
ایکشن اور فٹنیس کے لیے مشہور ٹائیگر شروف کی زندگی بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ پردے پر جہاں وہ دشمنوں کو شکست دیتے نظر آتے ہیں، وہاں حقیقی زندگی میں ایک وقت ایسا تھا جب وہ اندر سے کمزور محسوس کر رہے تھے۔
بالی ووڈ کی چمک دمک دور سے جتنی دلکش اور خوبصورت لگتی ہے، حقیقت میں اس کے پیچھے اتنا ہی دباؤ اور خوف چھپا ہوتا ہے۔ ایکشن اور فٹنیس کے لیے مشہور ٹائیگر شروف کی زندگی بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ پردے پر جہاں وہ دشمنوں کو شکست دیتے نظر آتے ہیں، وہاں حقیقی زندگی میں ایک وقت ایسا تھا جب وہ اندر سے کمزور محسوس کر رہے تھے۔ انہوں نے کئی انٹرویوز میں فلم ’’ہیروپنتی ۲‘‘ کے فلاپ ہونے کے بعد کے وقت اور اپنے ڈپریشن کے بارے میں کھل کر بات کی۔
۲؍مارچ ۱۹۹۰ء کو ممبئی میں پیدا ہونے والے ٹائیگر کو ۲۰۲۲ء میں ریلیز ہونے والی ’’ہیروپنتی ۲‘‘ سے کافی توقعات تھیں۔ یہ ان کی پہلی فلم ’’ہیروپنتی ‘‘ کا سیکوئل تھی۔ فلم نے ان کے کیریئر کی شاندار شروعات کی تھی، اس لیے وہ اپنی اس دوسری فلم سے بھی بڑی ہٹ کی توقع کر رہے تھے، لیکن جب فلم باکس آفس پر توقع کے مطابق کارکردگی نہیں دکھا سکی، تو اس کا اثر سیدھا ان کے دل اور دماغ پر پڑا۔
مشہور فلم میکر کرن جوہر کے چیٹ شو کافی ود کرن میں ٹائیگر نے اعتراف کیا کہ اس وقت وہ کافی ٹوٹ چکے تھے۔ انہوں نے کرن کو بتایا ’’میں مسلسل باکس آفس کے اعداد و شمار دیکھتا رہتا تھا اور ہر رپورٹ کا اثر مجھ پر ہو رہا تھا۔ فلم کی ناکامی کو میں نے بہت ذاتی طور پر لیا تھا۔ مجھے لگا کہ کہیں نہ کہیں میں ناظرین کی توقعات پر پورا نہیں اترا۔ یہی سوچ مجھے اندر سے پریشان کرتی رہی۔ ایک دور ایسا تھا جب میں ڈپریشن جیسا محسوس کرنے لگا تھا۔ تاہم، میں نے ہار نہیں مانی اور خود کو سنبھالتے ہوئے کام پر توجہ دینے کی کوشش کی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:سونل چوہان دبئی ایئرپورٹ پر پھنس گئیں، وزیراعظم مودی سے مدد کی اپیل
ٹائیگر نے کہاکہ ’’انڈسٹری میں ہر جمعہ ایک امتحان کی طرح ہوتا ہے۔ اگر فلم چلی تو سب تعریف کرتے ہیں، اور اگر فلم نہ چلے تو تنقید شروع ہو جاتی ہے۔ ایسے میں خود پر بھروسہ قائم رکھنا آسان نہیں ہوتا۔ ناکامی نے مجھے مضبوط بنایا اور سکھایا کہ کامیابی ہمیشہ مستقل نہیں ہوتی، اس لیے زمین سے جڑے رہنا ضروری ہے۔‘‘
فلموں کی ناکامی کے علاوہ، ٹائیگر نے اپنی اینگزائیٹی اور پرواز کے خوف کے بارے میں بھی کھل کر بات کی۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ انہیں فلائٹ میں بیٹھنے سے ڈر لگتا ہے۔ ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے ٹائیگر نے کہاکہ ’’ایک بار فلائٹ میں شدید ہلچل ہوئی، جس سے میں بہت گھبرا گیا۔ اس تجربے نے میرے دل میں خوف بٹھا دیا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے انعقاد میں اب صرف ۱۰۰؍ دن باقی،۴۸؍ ٹیمیں مدمقابل
انہوں نے کہاکہ ’’جب بھی ہوائی سفر کرنا ہوتا ہے تو پہلے مجھے ذہنی طور پر خود کو تیار کرنا پڑتا ہے۔ کئی بار میں بے چین محسوس کرتا ہوں، لیکن اپنے کام کی وجہ سے سفر کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اینگزائیٹی کوئی کمزوری نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسی حالت ہے جس سے کئی لوگ گزرتے ہیں، بس ہر کوئی کھل کر نہیں بتاتا۔‘‘ ٹائیگر کا کہنا ہےکہ ’’ذہنی صحت پر بات کرنا ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص فکر یا ڈپریشن سے گزر رہا ہے، تو اسے اسے چھپانے کی بجائے کسی کے ساتھ بانٹنا چاہیے۔