Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسٹیون اسپیلبرگ کی یو ایف او تھریلر ’’ڈسکلوزر ڈے‘‘ کا ٹریلر جاری

Updated: May 29, 2026, 6:26 PM IST | Los Angeles

ہالی ووڈ کے لیجنڈری فلم ساز اسٹیون اسپیلبرگ اپنی نئی سائنس فکشن تھریلر’’ڈسکلوزر ڈے‘‘ کے ساتھ ایک بار پھر بڑی اسکرین پر واپسی کر رہے ہیں۔ یو ایف او اور ماورائے زمین زندگی کے موضوع پر مبنی اس فلم میں ایملی بلنٹ، جوش او کونر، کولن فرتھ، ایو ہیوجن اور کولمین ڈومینگو اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

دنیا کے سب سے بااثر اور کامیاب فلم سازوں میں شمار کیے جانے والے اسٹیون اسپیلبرگ ایک بار پھر ایک بڑے سینمائی منصوبے کے ساتھ ناظرین کے سامنے آنے کیلئے تیار ہیں۔ ان کی نئی سائنس فکشن اور یو ایف او تھریلر فلم ’’ڈسکلوزر ڈے‘‘ ۱۲؍ جون ۲۰۲۶ء کو عالمی سطح پر سنیما گھروں میں ریلیز ہونے جا رہی ہے۔ فلم کی ریلیز سے قبل سامنے آنے والے ابتدائی ناقدانہ ردعمل نے شائقین کے جوش و خروش میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ یونیورسل پکچرز اور اسپیلبرگ کی ٹیم نے غیر معمولی اعتماد کا مظاہرہ کرتے ہوئے فلم کے بارے میں سوشل میڈیا ردعمل کی پابندی ریلیز سے تقریباً دو ہفتے قبل ہی ختم کر دی، جس کے بعد ناقدین نے اپنے تاثرات عوام کے ساتھ شیئر کرنا شروع کر دیے۔ فلم میں ایملی بلنٹ مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں، جبکہ ان کے ساتھ جوش او کونر، کولن فرتھ، ایو ہیوجن اور کولمین ڈومینگو بھی نمایاں کرداروں میں نظر آئیں گے۔

ابتدائی ردعمل کے مطابق ’’ڈسکلوزر ڈے‘‘ صرف ایک یو ایف او فلم نہیں بلکہ اسرار، جذبات، محبت اور انسانی تعلقات پر مبنی ایک گہری اور پرت دار کہانی پیش کرتی ہے۔ ناقدین نے اسے اسپیلبرگ کے کلاسیکی انداز اور جدید سائنسی تخیل کا منفرد امتزاج قرار دیا ہے۔ ایک معروف فلمی نقاد نے اپنے جائزے میں لکھا کہ ’’ڈسکلوزر ڈے‘‘ ایک سنسنی خیز رولر کوسٹر سواری کی مانند ہے جس میں تعاقب، محبت کی کہانی، پراسرار واقعات اور سائنس فکشن کے حیرت انگیز عناصر یکجا ہو جاتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ گزشتہ بیس برسوں میں اسپیلبرگ کی بہترین فلم ہے اور اس میں وہی جادو موجود ہے جس نے ان کی فلموں کو عالمی سنیما میں منفرد مقام دلایا۔

ایک اور ناقد نے فلم کا موازنہ ای ٹی: دی ایکسٹراٹریسٹریئل اور لوسٹ سے کرتے ہوئے کہا کہ اسپیلبرگ نے ایک دلکش اسرار تخلیق کیا ہے جو ناظرین کو ابتدا سے آخر تک اپنی گرفت میں رکھتا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر ایملی بلنٹ اور کولمین ڈومنگو کی اداکاری کو سراہا۔ تیسرے جائزہ نگار نے فلم کو ’’مسحور کن‘‘ اور ’’روح کو جھنجھوڑ دینے والا‘‘ تجربہ قرار دیا۔ ان کے مطابق اسکرین رائٹر ڈیوڈ کوئپ نے ایک جرأت مندانہ اور مضبوط اسکرین پلے تخلیق کیا ہے جبکہ ایملی بلنٹ اور جوش او کونر کی آن اسکرین کیمسٹری فلم کا سب سے طاقتور پہلو ہے۔ ایک اور ناقد نے اپنے تاثرات میں لکھا کہ فلم جزوی طور پر ایک معمہ، جزوی طور پر ایک نفسیاتی سنسنی خیز کہانی اور جزوی طور پر سائنس فکشن کا ایسا تجربہ ہے جو مکمل طور پر نیا محسوس ہوتا ہے۔ ان کے مطابق فلم کے اختتام نے انہیں جذباتی کر دیا اور وہ اسے سال کی سب سے یادگار فلموں میں شمار کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: شویتا ترپاٹھی نے کہا: علی فضل اور نمرت کور کی ترقی دیکھ کر فخر ہوتاہے

فلمی حلقوں میں ’’ڈسکلوزر ڈے‘‘ کو پہلے ہی ۲۰۲۶ء کی اہم ترین ہالی ووڈ ریلیز میں شمار کیا جا رہا ہے۔ اسپیلبرگ اس سے قبل فلم ’’جاز‘‘، ’’ای ٹی: دی ایکسٹرا ٹریسٹریئل‘‘، ’’جراسک پارک‘‘، ’’سیونگ پرائیویٹ راین‘‘ اور ’’شندلرس لسٹ‘‘ جیسی کلاسیکی فلموں کے ذریعے سنیما کی تاریخ میں اپنا نام امر کر چکے ہیں۔ اب شائقین اور ناقدین دونوں کی نظریں ۱۲؍ جون پر مرکوز ہیں، جب ’’ڈسکلوزر ڈے‘‘ باقاعدہ طور پر سینما گھروں میں نمائش کیلئے پیش کی جائے گی۔ اگر ابتدائی ردعمل درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ فلم نہ صرف ۲۰۲۶ء کی سب سے بڑی سائنس فکشن کامیابیوں میں شامل ہو سکتی ہے بلکہ اسپیلبرگ کے شاندار کیریئر میں ایک اور یادگار اضافہ بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK