امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ ایک اسرائیلی یرغمالی کی لاش تلاش کرنے میں سیکڑوں فلسطینیوں کی لاشیں برآمد ہوئیں، انہوں نے مزید کہاکہ انہیں تمام ۲۸ ؍لاشیں مل گئیں، جو ناممکن معلوم ہورہا تھا۔
EPAPER
Updated: February 27, 2026, 12:03 PM IST | Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ ایک اسرائیلی یرغمالی کی لاش تلاش کرنے میں سیکڑوں فلسطینیوں کی لاشیں برآمد ہوئیں، انہوں نے مزید کہاکہ انہیں تمام ۲۸ ؍لاشیں مل گئیں، جو ناممکن معلوم ہورہا تھا۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کو کہا کہ محصور غزہ کی پٹی سے برآمد ہونے والے ہر مردہ اسرائیلی یرغمال کی لاش کے بدلے، اس فلسطینی علاقے کے تباہ شدہ کھنڈرات میں سے سو تک دیگر لاشیں برآمد ہوئیں۔ٹرمپ نے اپنے سالانہ اسٹیٹ آف دی یونین خطاب کے دوران کہا، ’’یقین کریں یا نہ کریں، حماس نے اسرائیل کے ساتھ مل کر کام کیا، اور انہوں نے کھدائی کی اور کھدائی کی اور کھدائی کی۔ یہ کرنا ایک مشکل کام ہے، ادھر ادھر لاشیں پڑی ہیں، بعض اوقات انہیں ملنے والی ہر ایک اسرائیلی یرغمال کی لاش کے بدلے ۱۰۰ ؍لاشوں سے گزرنا پڑتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’انہیں تمام ۲۸ ؍لاشیں مل گئیں۔ کسی نے نہیں سوچا تھا کہ یہ ممکن ہے، لیکن ہم نے کر دکھایا،‘‘دراصل ان کا اشارہ ان یرغمالوں کی لاشوں کی طرف تھا جو بالآخر اسرائیل واپس کر دی گئیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی محکمہ خزانہ نے وینزویلا کے صدر کے قانونی اخراجات ادا کرنےکی رعایت ختم کی
تاہم ٹرمپ نے غزہ پر جاری اسرائیلی حملوں کو کم اہمیت دینے کی بھی کوشش کی، جو اکتوبر میں ان کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود جاری ہیں۔انہوں نے کہا، ’’یقیناً، غزہ کی جنگ، جو بہت نچلی سطح پر جاری ہے، بس ختم ہونے والی ہے۔ اور میں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا مدد کے لیے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔‘‘یاد رہے کہ وٹکوف اور کشنر نے غزہ اور اس سے باہر صدر کی سفارتی کوششوں کی قیادت کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی افواج کارٹیل کے سربراہ کے خلاف کارروائی میں شامل نہیں: صدر میکسیکو
واضح رہے کہ اسرائیل نے ۸ ا؍کتوبر ۲۰۲۳ ءکو غزہ کی پٹی پرجارحانہ حملہ شروع کیا، جس میں ۷۲؍ ہزار سے زیادہفلسطینی شہید ہوئے، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے تھے، اور ۱۷۱۰۰۰؍سے زائد زخمی ہوئے۔اس کے علاوہ غزہ کا ۹۰؍ فیصد شہری نظام تباہ ہوچکا ہے، اور غزہ کی پوری آبادی عملاً بے گھر ہوچکی ہے۔