Inquilab Logo Happiest Places to Work

عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: تیر انداز

Updated: June 12, 2026, 4:14 PM IST | Shahebaz Khan | Mumbai

برطانیہ کے معروف مصنف آرتھر میکن کی شہرہ آفاق کہانی’’دی بومین‘‘The Bowmenکا اردو ترجمہ (خیال رہے کہ یہ کہانی پہلی عالمی جنگ کے پس منظر میں لکھی گئی تھی)

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

اگست ۱۹۱۴ء کے آخری دن تھے۔ 
یورپ ایک ایسی آگ میں داخل ہو چکا تھا جس کی شدت کا اندازہ شاید کسی کو بھی نہیں تھا۔ چند ہفتے پہلے تک جن شہروں میں لوگ معمول کی زندگی گزار رہے تھے، وہاں اب فوجی ٹرینیں گزر رہی تھیں اور اخبارات ہر روز نئی جنگی خبروں سے بھر جاتے تھے۔ بیشتر سپاہی یہ سمجھ کر روانہ ہوئے تھے کہ جنگ چند مہینوں میں ختم ہو جائیگی۔ ان کے ذہنوں میں بہادری، تمغوں اور فتح کے خواب تھے مگر محاذ پر پہنچتے ہی وہ خواب بارود کے دھوئیں، خون آلود میدانوں اور مسلسل تھکن کے نیچے دبنے لگے۔ ان ہی دنوں میں برطانوی فوج بلجیم کے علاقے مونز کے قریب جرمن افواج کے مقابل کھڑی تھی۔ پہلے چند دنوں تک مزاحمت جاری رہی لیکن دشمن کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ ایک کے بعد ایک مورچہ چھوڑنا پڑا۔ اور پھر وہ لمحہ آیا جب پسپائی ناگزیر ہو گئی۔ 
جارج میکلین جو مانچسٹر کا ایک نوجوان سپاہی تھا، پچھلے تین دنوں سے تقریباً مسلسل چل رہا تھا۔ اس کی وردی گرد سے اٹی ہوئی تھی۔ بوٹ مٹی اور خون سے بھر چکے تھے۔ کندھوں پر لدا سامان پہلے سے کئی گنا زیادہ بھاری محسوس ہو رہا تھا۔ اور آنکھوں میں نیند یوں جل رہی تھی جیسے کسی نے ریت بھر دی ہو۔ اس کے ساتھ چلنے والے بیشتر سپاہیوں کی حالت بھی یہی تھی۔ سبھی خاموش تھے۔ ہزاروں تھکے ہوئے قدم اور ہزاروں ایسے آدمی جو پیچھے ہٹ رہے تھے، مگر پھر بھی اپنی صفیں برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ 
شام ڈھل رہی تھی۔ آسمان پر بادل جمع تھے۔ دور کہیں توپوں کی گونج مسلسل سنائی دے رہی تھی۔ یہ آوازیں اب معمول بن چکی تھیں۔ جارج نے ایک بار پیچھے مڑ کر دیکھا۔ افق دھوئیں سے بھرا ہوا تھا۔ کسی گاؤں میں آگ لگی ہوئی تھی۔ شعلے کبھی نظر آتے، کبھی دھوئیں میں گم ہو جاتے۔ اس نے نظریں پھیر لیں۔ 
رات ہونے سے پہلے انہیں ایک مختصر وقفہ ملا۔ سپاہی سڑک کے کنارے بیٹھ گئے۔ کچھ فوراً سو گئے، بعض نے خشک روٹی نکالی۔ اور کچھ صرف خاموش بیٹھے رہے۔ جارج نے اپنی پانی کی بوتل سے آخری چند گھونٹ لئے۔ اس کے برابر میں بیٹھا سپاہی ولیم خالی نگاہوں سے زمین دیکھ رہا تھا۔ کافی دیر بعد اس نے پوچھا، ’’کیا تمہیں لگتا ہے ہم بچ جائیں گے؟‘‘

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: دادا شام

’’مجھے نہیں معلوم!‘‘ جارج کا جواب تھا۔ اور یہ سچ بھی تھا۔ ہر گزرتے گھنٹے کے ساتھ صورتحال خراب ہوتی جا رہی تھی۔ دشمن قریب آرہا تھا۔ اسی دوران افواہیں پھیلنے لگیں۔ جنگ میں افواہیں بارود کی طرح تیزی سے سفر کرتی ہیں۔ کسی نے کہا جرمن فوج تعداد میں اتنی زیادہ ہے کہ ان کا آخر نظر نہیں آتا۔ کسی نے دعویٰ کیا کہ فرانسیسی کمک راستے میں ہے۔ ایک اور سپاہی نے قسم کھا کر کہا کہ اس نے سنا ہے دشمن چند ہی میل کے فاصلے پر ہے۔ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ ان میں سے کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ، مگر مسلسل تھکن اور بے یقینی کے عالم میں ہر بات ممکن محسوس ہونے لگتی ہے۔ فوجی زندگی میں آدمی بہت سی چیزوں کا عادی ہو جاتا ہے، مگر ایک چیز ایسی ہے جس کی عادت کبھی نہیں پڑتی، اور وہ ہے مسلسل غیر یقینی۔ گولی سے بچ جانے والا سپاہی بھی نہیں جانتا کہ اگلے گھنٹے میں اس کا کیا بنے گا۔ آج جو آدمی اس کے ساتھ چل رہا ہے، ممکن ہے کل موجود نہ ہو۔ آج جو گاؤں محفوظ دکھائی دیتا ہے، ممکن ہے کل راکھ کا ڈھیر بن چکا ہو۔ 
رات کو قریب بیٹھے سپاہیوں کے گروہ میں کسی نے ایک پرانی کہانی چھیڑ دی۔ بات انگلستان کے ماضی کی ہو رہی تھی۔ کسی نے قدیم جنگوں کا ذکر کیا، کسی نے بادشاہوں کا، اور پھر گفتگو ان افسانوی تیر اندازوں تک پہنچ گئی جنہوں نے صدیوں پہلے انگلستان کی مشہور لڑائیوں میں حصہ لیا تھا۔ ایک بوڑھا سپاہی کہنے لگا، ’’میرے دادا کہتے تھے کہ بعض اوقات آدمی اس وقت اکیلا نہیں ہوتا جب اسے لگتا ہے کہ وہ اکیلا ہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: مخملی خرگوش

کسی نے ہنسنے کی کوشش کی، مگر ہنسی مکمل نہ ہو سکی۔ 
سپاہی نے بات جاری رکھی، ’’پرانے زمانوں میں لوگ یقین رکھتے تھے کہ بعض جنگوں میں ایسے مددگار آتے ہیں جو عام آنکھوں سے نظر نہیں آتے۔ ‘‘
ایک نوجوان سپاہی نے کہا، ’’اگر ایسا ہے تو اب وقت آ گیا ہے کہ وہ دوبارہ آ جائیں۔ ‘‘ اس جملے پر چند کمزور سی مسکراہٹیں ابھریں، مگر فوراً غائب بھی ہو گئیں کیونکہ سب جانتے تھے کہ یہ مزاح کے پردے میں چھپی ہوئی ایک خواہش تھی۔ لوگ امید کے کسی بھی سہارے کو پکڑ لینا چاہتے تھے۔ اسی دوران ایک پیغام آیا۔ فوج کو صبح ہونے سے پہلے دوبارہ حرکت کرنی تھی۔ اطلاعات کے مطابق جرمن افواج تیزی سے آگے بڑھ رہی تھیں۔ چند افسروں کے چہروں سے اندازہ ہو رہا تھا کہ صورتحال توقع سے زیادہ سنگین ہے۔ جارج نے پہلی بار محسوس کیا کہ بعض افسر بھی خوفزدہ ہیں، اگرچہ وہ اسے ظاہر نہیں ہونے دے رہے۔ 
صبح ابھی پوری طرح طلوع نہیں ہوئی تھی جب فوج دوبارہ حرکت میں آ گئی۔ زمین پر دھند بچھی ہوئی تھی۔ درختوں کی قطاریں بھوتوں کی طرح دکھائی دے رہی تھیں۔ اور ہر طرف طوفان سے پہلے والا سکوت طاری تھا۔ سپاہی خاموشی سے آگے بڑھتے رہے۔ دوپہر تک دشمن کی موجودگی کے آثار واضح ہونے لگے۔ دور سے گولہ باری کی آوازیں قریب آتی محسوس ہوئیں۔ فوج کو پوزیشن قائم کرنے کا حکم ملا۔ جارج نے اپنی رائفل مضبوطی سے پکڑ رکھی تھی۔ اس کی انگلیاں تھکن سے اکڑ چکی تھیں۔ آنکھیں بار بار جلنے لگتی تھیں۔ مگر وہ جانتا تھا کہ ایک لمحے کی غفلت بھی مہنگی پڑ سکتی ہے۔ 
اسی دوران اس نے اپنے قریب بیٹھے ایک سپاہی کو آہستہ آہستہ کچھ کہتے سنا۔ پہلے اسے لگا کہ وہ خود سے بات کر رہا ہے۔ پھر اس نے غور کیا تو محسوس ہوا کہ وہ دعا پڑھ رہا ہے۔ سپاہی کا نام ہارپر تھا۔ وہ زیادہ مذہبی آدمی نہیں سمجھا جاتا تھا، مگر اس لمحے اس کے ہونٹ خاموشی سے حرکت کر رہے تھے اور اس کی نظریں دھند میں کہیں گم تھیں۔ جنگ عجیب چیز ہے۔ وہ بعض لوگوں سے ان کا عقیدہ چھین لیتی ہے اور بعض کو پہلی بار دعا کرنا سکھا دیتی ہے۔ جارج خود کسی خاص مذہبی عقیدے کا پابند نہیں تھا لیکن اس وقت اسے محسوس ہوا کہ انسان بعض حالات میں اپنے سے بڑی کسی طاقت کے بارے میں سوچنے لگتا ہے۔ دھند مسلسل گہری اور ہلکی ہوتی رہتی تھی۔ کبھی میدان چند لمحوں کیلئے صاف دکھائی دیتا اور پھر دوبارہ سفید پردے کے پیچھے چھپ جاتا۔ 

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: ایک گھنٹے کی کہانی

پھر اچانک دشمن نمودار ہوا۔ پہلے چند سائے دکھائی دیئے۔ پھر مزید۔ اور پھر پوری ایک قطار۔ جرمن فوج آگے بڑھ رہی تھی۔ ان کی تعداد دیکھ کر کئی سپاہیوں کے دل بیٹھ گئے۔ وہ منظم انداز میں آگے بڑھ رہے تھے، جیسے ایک بے رحم موج زمین پر پھیلتی چلی آ رہی ہو۔ 
برطانوی سپاہیوں نے فائر کھول دیا۔ چند ہی لمحوں میں پورا میدان بارود اور دھوئیں سے بھر گیا۔ جارج بھی مشین کی طرح فائر کر رہا تھا لیکن اسے صاف محسوس ہو رہا تھا کہ دشمن کی تعداد ان سے کہیں زیادہ ہے۔ ہر چند لمحوں بعد نئی صفیں نمودار ہو جاتی تھیں۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ ختم ہی نہیں ہوں گی۔ اور پھر پہلی بار جارج کو لگا کہ وہ یہ لڑائی نہیں جیت سکتے۔ شاید اس بار واپسی ممکن نہیں۔ یہ خیال صرف اس کے نہیں دیگر سپاہیوں کے ذہنوں میں بھی تھا۔ جب فوج کو اپنی کمزوری کا احساس ہونے لگے تو میدانِ جنگ کا منظر بدل جاتا ہے۔ 
اسی دوران ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ جارج نے دھند میں عجیب وغریب حرکت دیکھی۔ اسے لگا شاید کوئی افسر گھوڑے پر سوار ہے۔ پھر اسے لگا شاید روشنی کا دھوکا ہے۔ مگر وہ منظر دوبارہ ظاہر ہوا۔ اس بار کچھ زیادہ واضح۔ دھند کے پیچھے ایک بلند سا سایہ۔ پھر ایک اور۔ اور پھر کئی سائے۔ جیسے کوئی خاموش لشکر میدان کے دوسرے کنارے پر کھڑا ہو۔ جارج نے اپنی نظریں میدان کے ایک حصے پر جما دیں جہاں دھند نسبتاً ہلکی تھی۔ چند لمحوں کیلئے اسے ایسا لگا جیسے اس نے لمبی قطاروں میں کھڑے آدمیوں کو دیکھا ہو۔ ان کے جسموں پر پرانے زمانے کے لباس تھے، ایسے لباس جو اس نے صرف کتابوں کی تصویروں میں دیکھے تھے۔ ان کے سروں پر دھاتی خول نہیں تھے، نہ جدید فوجی ٹوپیاں۔ ان کے ہاتھوں میں لمبی کمانیں تھیں۔ اس نے پلکیں جھپکیں۔ منظر غائب ہو گیا۔ مگر پھر دوبارہ ظاہر ہوا۔ اس بار صرف ایک لمحے کیلئے نہیں بلکہ چند سیکنڈ تک۔ اس کے آس پاس کھڑے دوسرے سپاہی بھی اسی سمت دیکھ رہے تھے۔ کسی نے کچھ نہیں کہا۔ شاید اس لئے کہ ہر شخص کو ڈر تھا کہ اگر وہ بولے گا تو دوسروں کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ بھی وہی عجیب منظر دیکھ رہا ہے۔ پھر اچانک کسی کی آواز سنائی دی۔ ’’خدا کی قسم!وہ تیر انداز ہیں۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: انوکھی شہزادی

یہ جملہ شور کے درمیان گونجا اور فوراً کئی نگاہیں اسی طرف اٹھ گئیں۔ جارج نے دیکھا کہ دھند میں موجود وہ خاموش لشکر اب پہلے سے زیادہ واضح تھا۔ وہ کسی جدید فوج کی طرح نہیں لگتا تھا۔ ان کی صف بندی مختلف تھی۔ ان کے لباس مختلف تھے۔ اور ان کے ہاتھوں میں موجود کمانیں ایسی تھیں جیسے وہ صدیوں پرانی کسی جنگ سے نکل کر آئی ہوں۔ اس لمحے وقت جیسے رُک گیا۔ 
پھر ایک ایسی چیز ہوئی جسے بعد میں بیان کرنا سب سے مشکل ثابت ہوا۔ ان خاموش تیر اندازوں نے اپنی کمانیں بلند کیں۔ کسی نے ان کے چلنے کی آواز نہیں سنی۔ کسی نے ان کے احکامات نہیں سنے۔ کسی نے ان کے چہروں کو واضح طور پر نہیں دیکھا۔ لیکن بہت سے لوگوں نے ایک ہی چیز دیکھی۔ ہزاروں کمانیں ایک ساتھ کھینچی گئیں اور پھر ایسا لگا جیسے آسمان میں کسی نے ایک غیر مرئی طوفان چھوڑ دیا ہو۔ جارج نے کوئی تیر واضح طور پر نہیں دیکھا۔ شاید کسی اور نے بھی نہیں۔ مگر اگلے ہی لمحے دشمن کی صفوں میں غیر معمولی ہلچل پیدا ہو گئی۔ 
جرمن سپاہی جو ابھی چند لمحے پہلے منظم انداز میں آگے بڑھ رہے تھے، اچانک رکنے لگے۔ بعض گرے۔ بعض پیچھے ہٹے۔ بعض اِدھر اُدھر یوں دیکھنے لگے جیسے انہیں کسی ایسی سمت سے خطرہ محسوس ہوا ہو جہاں کچھ موجود ہی نہ تھا۔ میدان کا منظر بدلنے لگا۔ صفیں بکھرنے لگیں۔ جارج نے اپنے ارد گرد دیکھا۔ اس کے ساتھی بھی حیران تھے۔ کسی کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ صرف اتنا واضح تھا کہ کچھ بدل گیا ہے۔ بہت بڑی اور بہت اچانک تبدیلی۔ یہ سب چند لمحوں میں ہوا یا کئی منٹوں میں، اس کا بھی کوئی درست اندازہ نہ لگا سکا۔ کچھ دیر بعد دھند دوبارہ گہری ہونے لگی۔ سائے مدھم پڑنے لگے۔ اور پھر آہستہ آہستہ غائب ہو گئے۔ 
لیکن میدانِ جنگ کا ماحول پہلے جیسا نہیں رہا تھا۔ برطانوی سپاہیوں کے دلوں میں ایک نئی قوت پیدا ہو گئی تھی۔ وہ اب بھی تھکے ہوئے تھے، اب بھی تعداد میں کم تھے، اور اب بھی خطرے میں تھے، مگر ان کے اندر کچھ بدل چکا تھا۔ بعض نے اسے امید کہا، بعض نے ایمان، اور بعض نے صرف ایک عجیب سا حوصلہ جس کا کوئی نام نہیں تھا۔ جنگ جاری رہی۔ ایک لڑائی ختم ہوتی تو دوسری شروع ہو جاتی۔ نئے محاذ کھلتے، نئی فہرستیں شائع ہوتیں، اور ہر روز ایسے نام سامنے آتے جو اب کبھی اپنے گھروں کو واپس نہیں لوٹنے والے تھے۔ پہلی جنگ عظیم کے ابتدائی مہینوں میں واقعات اس تیزی سے رونما ہو رہے تھے کہ بعض اوقات ایک ہفتہ بھی ایک سال جتنا طویل محسوس ہوتا تھا۔ مگر ان تمام تبدیلیوں کے درمیان مونز کے قریب پیش آنے والے اُس پراسرار واقعے کی سرگوشیاں خاموش ہونے کے بجائے آہستہ آہستہ پھیلنے لگیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: بھوکے پتھر

جارج میکلین نے خود اس کے بارے میں کسی سے بات کرنے کی کوشش نہیں کی تھی۔ درحقیقت وہ کئی دنوں تک یہ فیصلہ ہی نہیں کر سکا کہ اس نے واقعی کچھ غیر معمولی دیکھا تھا یا نہیں۔ جب آدمی مسلسل تھکن، خوف اور نیند کی کمی کا شکار ہو تو اس کی یادداشت ہمیشہ قابلِ اعتماد نہیں رہتی۔ مگر جلد ہی اسے احساس ہوا کہ وہ اکیلا نہیں تھا۔ 
ایک شام جب اس کی یونٹ نسبتاً محفوظ علاقے میں آرام کر رہی تھی تو چند سپاہیوں کے درمیان اسی موضوع پر گفتگو شروع ہو گئی۔ ایک سپاہی نے ہچکچاتے ہوئے کہا کہ اسے دھند کے اندر عجیب سی شکلیں دکھائی دی تھیں، تو دوسرے نے فوراً جواب دیا کہ اس نے بھی کچھ ایسا ہی دیکھا تھا۔ پھر تیسرے نے کہا کہ اسے کمانیں نظر آئی تھیں۔ چوتھے نے دعویٰ کیا کہ اس نے کسی سوار کو دیکھا تھا۔ اور پانچویں نے کہا کہ اسے یوں محسوس ہوا تھا جیسے میدان میں کوئی ایسی موجودگی آ گئی ہو جو انسانی نہیں تھی۔ سب کو لگتا تھا کہ اُس دن کچھ غیر معمولی ہوا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ باتیں فوج کے مختلف حصوں میں پھیلنے لگیں۔ ہر بار جب کوئی شخص یہ کہانی سناتا، اس میں کوئی نیا رنگ شامل ہو جاتا۔ بعض لوگوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے روشن پروں والے وجود دیکھے تھے۔ بعض نے کہا کہ وہ فرشتے تھے۔ کچھ نے قسم کھا کر کہا کہ انہوں نے قدیم جنگجوؤں کی پوری فوج دیکھی تھی جو دشمن اور برطانوی سپاہیوں کے درمیان آ کھڑی ہوئی تھی۔ ان بیانات میں ایک دلچسپ بات مشترک تھی۔ کسی کے پاس مکمل یقین نہیں تھا۔ 
برسوں بعد جب جارج میکلین واپس اپنے گھر پہنچا تو وہ وہی نوجوان نہیں رہا تھا۔ جنگ نے اس کے بالوں میں وقت سے پہلے سفیدی پیدا کر دی تھی۔ ایک شام بیٹے نے جارج سے سوال کیا، ’’کیا آپ نے واقعی مونز کے فرشتے دیکھے تھے؟‘‘
جارج نے جواب دیا، ’’مجھے نہیں معلوم۔ ‘‘
بیٹا خاموشی سے باپ کا منہ تکنے لگا۔ 

یہ بھی پڑھئے: عالمی کہانیوں کا اردو ترجمہ: راشومون

آج بھی اگر کوئی مونز کے میدانوں کی طرف جائے، تو اسے وہاں عام کھیت، سڑکیں اور خاموش مناظر ہی دکھائی دیں گے۔ ہوا گھاس کے اوپر سے گزرے گی، پرندے آسمان میں پرواز کریں گے، اور سورج ہر شام ویسے ہی غروب ہوگا جیسے ایک صدی پہلے غروب ہوتا تھا۔ جب شام کی دھند آہستہ آہستہ میدانوں پر اترتی ہے، تو تاریخ کی گہری خاموشی میں اب بھی اُن پرانی کمانوں کی ایک مدھم بازگشت سنائی دیتی ہے۔ 
ایسی بازگشت جس کے بارے میں کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ وہ حقیقت ہے یا تخیل۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک صدی گزر جانے کے باوجود یہ داستان گُم نہیں ہوئی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK