Updated: April 17, 2026, 12:29 PM IST
| Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری جنگ کو ایک ’’چھوٹا سا رخ بدلنا‘‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ یہ جلد ختم ہو سکتی ہے اور معیشت پر مثبت اثر ڈالے گی۔ دوسری جانب، عوامی سروے ظاہر کرتے ہیں کہ امریکی عوام کی اکثریت اس جنگ کو مہنگا اور غیر ضروری سمجھتی ہے اور حکومتی پالیسیوں سے نالاں ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ ان کی دوسری مدتِ صدارت کے دوران ایک ’’چھوٹا سا رخ بدلنا‘‘ (ڈائیورژن) تھی جبکہ حالیہ سروے ظاہر کرتے ہیں کہ یہ تنازع امریکی عوام، خصوصاً نوجوان ریپبلکن ووٹرز میں غیر مقبول ہے۔ جمعرات کو ریاست نیواڈاکے شہر لاس ویگاس میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، جہاں وہ گزشتہ سال منظور ہونے والے بڑے ٹیکس اصلاحاتی بل کے تحت’’ٹپس پر ٹیکس نہ ہونے‘‘کے اقدام کی تشہیر کر رہے تھے، ۷۹؍ سالہ صدر نے۲۰۲۵ء میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد اپنی معاشی کارکردگی پر فخر کیا۔ انہوں نے کہا:’’اپنی پہلی مدت میں ہماری معیشت ملکی تاریخ کی بہترین تھی، اور اب ہم اسے مزید آگے لے جا رہے ہیں اور ایران جیسے خوبصورت ملک کے ساتھ ہماری اس چھوٹی سی مداخلت کے باوجود۔ ‘‘ انہوں نے مزید کہا: ’’ہمیں یہ کرنا پڑا، ورنہ بہت بری چیزیں ہو سکتی تھیں، واقعی بہت بری۔ ‘‘ یہ کہتے ہوئے انہوں نے ایران کی ممکنہ جوہری صلاحیت کا حوالہ دیا۔
یہ بھی پڑھئے: لبنان اسرائیل کا۱۰؍ روزہ جنگ بندی پر اتفاق
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران میں جنگ بہت اچھے طریقے سے جاری ہے۔ انہوں نے کہا’’ہم جو چاہیں کر سکتے ہیں، اور یہ جلد ہی ختم ہو جانی چاہئے۔ یہ مکمل طور پر کامیاب رہی۔ ‘‘گزشتہ ہفتے کئے گئے ایک Ipsos سروے کے مطابق، ۱۰۰۰؍سے زائد افراد میں سے۵۱؍ فیصد کا خیال ہے کہ ایران کی جنگ اس کے اخراجات کے قابل نہیں تھی، جبکہ صرف۲۴؍ فیصد نے اس کے برعکس رائے دی۔ بدھ کو شائع ہونے والے ایک اور سروے میں، جو کونیپیاک یونیورسٹی نے جاری کیا، بتایا گیا کہ ۶۵؍فیصد امریکی ووٹرز آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث بڑھتی ہوئی پیٹرول قیمتوں کا ذمہ دار امریکی حکومت کو ٹھہراتے ہیں، جو ایران جنگ کے آغاز کے بعد ہوا۔
یہ بھی پڑھئے: نیپال: بالین شاہ حکومت کا بدعنوانی کیخلاف مہم، سیاستدانوں کی املاک کی جانچ ہوگی
اسی سروے کے مطابق صرف ۳۶؍فیصد ووٹرز ٹرمپ کے ایران سے متعلق اقدامات کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ ۵۸؍فیصد نے عدم اطمینان ظاہر کیا۔ نیواڈا کے دورے سے قبل، ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ ایران کے ساتھ معاہدے کے بہت قریب ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی اپنی مدت کے اختتام کے قریب ہے۔ انہوں نے کہا:’’اگر ایسا ہوتا ہے تو تیل کی قیمتیں کم ہو جائیں گی، مہنگائی کم ہو جائے گی، اور آپ کو ایٹمی تباہی کا خطرہ نہیں ہوگا۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا:’’ہم نئے ایرانی لیڈروں کے ساتھ بہت اچھے تعلقات میں ہیں۔ درحقیقت یہ ایک نظام کی تبدیلی ہے۔ ‘‘ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر معاہدہ طے پا گیا تو وہ اسلام آباد کا دورہ کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: پولینڈ: غزہ میں اسرائیلی اقدامات کی مذمت، یوکرین پر سخت مؤقف برقرار
جب آئندہ مذاکرات کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ شاید ہفتے کے آخر میں ہوں گے۔ بتا دیں کہ پہلا دور سنیچرکو اسلام آباد میں ہوا تھا، تاہم، ۲۸؍ فروری سے شروع ہونے والی امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کے مستقل خاتمے پر فوری اتفاق نہ ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے کا اعلان ’جلد‘ کیا جائے گا اور مزید کہا:’’اس سے ہمیں مفت تیل اور آبنائے ہرمز پر آزاد رسائی ملے گی۔ سب کچھ بہتر ہو جائے گا اور تیل کی قیمتیں پہلے سے بھی کم ہو جائیں گی۔ ‘‘