Updated: June 08, 2026, 2:12 PM IST
| Tehran
یمن کے حوثی گروپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ بحیرۂ احمر میں اسرائیل سے منسلک بحری جہاز رانی پر ’’ مکمل پابندی‘‘ نافذ کرے گا اور اسرائیلی مفادات کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں تیز کرے گا۔ گروپ نے جافا کے علاقے میں حساس اسرائیلی اہداف پر میزائل حملوں کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل، ایران اور لبنان کے درمیان کشیدگی میں دوبارہ اضافہ ہورہاہے۔
یمن کے حوثیوں نے پیر کواعلان کیا کہ وہ بحیرۂ احمر میں اسرائیلی بحری جہاز رانی پر ’’مکمل اور مکمل پابندی‘‘ عائد کرے گا اور اسرائیل سے وابستہ بحری جہازوں کو دوبارہ نشانہ بنانے کی کارروائیاں شروع کی جائیں گی۔ گروپ نے خبردار کیا کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو اس کی فوجی سرگرمیوں میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔ اپنے بیان میں حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے جافا کے علاقے میں حساس اسرائیلی اہداف پر میزائل حملے کیے ہیں۔ گروپ کے مطابق، ’’حملوں نے اپنے اہداف کو مکمل درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا۔‘‘ حوثیوں نے کہا کہ یہ کارروائیاں ایران، فلسطین، لبنان، عراق اور یمن میں اسرائیلی کارروائیوں کے جواب میں کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’جنگ بندی‘ کے باوجود لبنان پر پھر اسرائیلی حملہ
گروپ نے مزید کہا کہ ’’ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ہم کشیدگی کا جواب مزید شدت کے ساتھ دیں گے،‘‘ اور عندیہ دیا کہ زمینی صورتحال کے مطابق فوجی کارروائیاں بڑھائی جا سکتی ہیں۔ اسرائیل نے حوثیوں کے تازہ دعووں پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم اسرائیلی میڈیا کے مطابق یمن سے داغے گئے ایک میزائل کو روکنے کے بعد اسرائیلی فضائی حدود کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا تھا۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران کی جانب سے شمالی اسرائیل کی طرف میزائل داغے گئے، جبکہ اسرائیل نے ایران کے مختلف علاقوں میں فضائی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق تبریز، اصفہان، تہران اور کرج کے اطراف دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
اسرائیلی فوج نے پیر کی صبح دعویٰ کیا کہ اس کی فضائیہ نے ’’ایرانی حکومت کے فوجی مقامات‘‘ کو نشانہ بنایا ہے۔ دوسری جانب ایرانی ذرائع ابلاغ نے متعدد شہروں میں دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں، تاہم نقصانات کی تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔ حالیہ کشیدگی کا آغاز اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب اسرائیل نے بیروت کے جنوبی مضافات میں فضائی حملہ کیا۔ اسرائیل کا کہنا تھا کہ اس کارروائی میں حزب اللہ کے ایک کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق اس حملے میں دو افراد ہلاک اور ۲۰؍ زخمی ہوئے۔
ایران نے اس حملے کے بعد اسرائیل کی جانب میزائل داغے اور تہران نے واضح کیا کہ خطے میں کسی بھی پائیدار امن معاہدے کے لیے لبنان میں جاری تنازع کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان علی سفاری نے مقامی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ایرانی ردعمل ’’ہفتوں کے تحمل کے بعد اسرائیلی جارحیت کا جواب‘‘ تھا۔
یہ بھی پڑھئے: گفتگو میں سب سے بڑی رکاوٹ امریکہ کی دوغلی پالیسی ہے: ایران
ٹرمپ کا ردعمل
ادھر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دونوں فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’آپ نے اپنے میزائل داغ دیے ہیں، اب یہ کافی ہے۔ مذاکرات کی میز پر واپس آئیں اور معاہدہ کریں۔‘‘ ٹرمپ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ تہران کے ساتھ ممکنہ معاہدہ آئندہ چند روز میں طے پا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ہفتے کے پیر، منگل یا بدھ کو ایک معاہدے پر دستخط کیے جا سکتے ہیں۔‘‘ امریکی صدر نے مزید انکشاف کیا کہ وہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو سے رابطہ کر رہے ہیں تاکہ انہیں جوابی کارروائی سے روکا جا سکے۔ ان کے بقول، ’’میں ابھی بی بی کو فون کرنے جا رہا ہوں اور ان سے کہوں گا کہ وہ جوابی کارروائی نہ کریں۔‘‘
دوسری جانب برطانوی وزیر خارجہ یوویٹ کوپر نے بھی کشیدگی میں کمی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ’’ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازع کی بحالی کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔‘‘
یاد رہے کہ خطے میں حالیہ مہینوں کے دوران متعدد محاذوں پر کشیدگی دیکھی گئی ہے، جن میں غزہ، لبنان، یمن اور ایران شامل ہیں۔ اپریل میں نافذ ہونے والی جنگ بندی کے باوجود وقفے وقفے سے حملے جاری رہے ہیں، جس سے سفارتی کوششوں کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ مبصرین کے مطابق تازہ فوجی کارروائیاں نہ صرف جنگ بندی کے مستقبل کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں بلکہ پورے خطے میں ایک وسیع تر تنازع کے خدشات کو بھی بڑھا سکتی ہیں۔