لارڈز ٹیسٹ میں انگلینڈ کے گیندبازوں کا قہر، نیوزی لینڈ کو دوسری اننگز میں ۱۳۸؍رنوں پر آؤٹ کرکے ۱۱۵؍ رنوں سے شکست دے دی۔
EPAPER
Updated: June 08, 2026, 1:26 PM IST | London
لارڈز ٹیسٹ میں انگلینڈ کے گیندبازوں کا قہر، نیوزی لینڈ کو دوسری اننگز میں ۱۳۸؍رنوں پر آؤٹ کرکے ۱۱۵؍ رنوں سے شکست دے دی۔
انگلینڈ نے لارڈز کے تاریخی میدان پر کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ کے چوتھے ہی دن مہمان ٹیم نیوزی لینڈ کو ۱۱۵؍ رنوں کے بڑے فرق سے شکست دے کر ۳؍ میچوں کی سیریز میں ایک صفرکی برتری حاصل کر لی ہے۔ یہ لارڈز کرکٹ گراؤنڈ پر کھیلا جانے والا ۱۵۰؍واں تاریخی ٹیسٹ میچ تھا، جو کسی بھی گراؤنڈ پر سب سے زیادہ ٹیسٹ میچوں کی میزبانی کا ایک نیا ریکارڈ ہے۔
جیت کیلئے ۲۵۴؍ رنوں کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کی پوری ٹیم چوتھے دن لنچ سے پہلے ہی محض ۱۳۸؍رنوں پر ڈھیر ہو گئی۔ انگلینڈ کے تیز گیندباز گس اٹکنسن نے شاندار گیند بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ۳۰؍ رن دے کر ۵؍ وکٹیں حاصل کیں اور کیوی بیٹنگ لائن کو تہس نہس کر دیا۔ لارڈز کے میدان پر کھیلے گئے اپنے آخری ۳؍ ٹیسٹ میچوں میں یہ چوتھا موقع ہے جب اٹکنسن نے ایک اننگز میں ۵؍وکٹیں حاصل کی ہیں۔ پورے میچ کے دوران ابر آلود موسم اور پچ کے غیر یقینی باؤنس کی وجہ سے دونوں ٹیموں کے گیندباز بلے بازوں پر حاوی رہے۔
یہ بھی پڑھئے: فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء: سعودی عرب نے پورٹو ریکو کو ۰۔۳؍گول سے ہرا دیا
۲؍ سال سے زائد عرصے کے بعد انگلش ٹیم میں واپسی کرنے والے اولی رابنسن نے نیوزی لینڈ کی پہلی اننگز میں تباہ کن بولنگ کی اور ۳۹؍رنوں کے عوض ۵؍وکٹیں حاصل کی تھیں جس کی وجہ سے کیوی ٹیم پہلی اننگز میں صرف ۱۱۳؍ رن بنا سکی۔ یہ رابنسن کے ٹیسٹ کریئر کی بہترین گیندبازی ہے۔ انگلینڈ کی جانب سے ڈیبیو کرنے والے بلے باز امیلیو گے نے دوسری اننگز میں ۵۷؍ رنوں کی انتہائی اہم اور ذمہ دارانہ اننگز کھیل کر ٹیم کی پوزیشن مستحکم کی، جس کی بدولت انگلینڈ نے دوسری اننگز میں ۲۲۶؍رن بنائے۔ جنوری میں آسٹریلیا کے خلاف ایشیز سیریز میں چار ایک کی شرمناک شکست کے بعد، انگلینڈ کی نئے ہوم سیزن میں یہ پہلی اور انتہائی شاندار فتح ہے۔ سیریز کا دوسرا ٹیسٹ ۱۷؍ جون سے لندن کے اوول گراؤنڈ پر کھیلا جائے گا۔