یورپی فٹبال تنظیم (یوئیفا) نے فیفا کے مجوزہ نجی سرمایہ کاری منصوبے کی مخالفت کے لیے اپنے ۵۵؍ رکن ممالک کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں فیفا ورلڈ کپ کے ممکنہ بائیکاٹ سمیت مختلف متبادل پر غور کیا جائے گا۔
EPAPER
Updated: July 29, 2026, 4:01 PM IST | Zurich
یورپی فٹبال تنظیم (یوئیفا) نے فیفا کے مجوزہ نجی سرمایہ کاری منصوبے کی مخالفت کے لیے اپنے ۵۵؍ رکن ممالک کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں فیفا ورلڈ کپ کے ممکنہ بائیکاٹ سمیت مختلف متبادل پر غور کیا جائے گا۔
یورپی فٹبال تنظیم (یوئیفا) نے فیفا کے مجوزہ نجی سرمایہ کاری منصوبے کی مخالفت کے لیے اپنے ۵۵؍ رکن ممالک کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں فیفا ورلڈ کپ کے ممکنہ بائیکاٹ سمیت مختلف متبادل پر غور کیا جائے گا۔فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو نے اعلان کیا ہے کہ تنظیم ’فیفا فارورڈ انٹرپرائز (ایف ایف ای)‘ کے لیے بیرونی سرمایہ کاروں سے سرمایہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اس منصوبے کے تحت مردوں اور خواتین کے مستقبل کے ورلڈ کپ سمیت تجارتی اور انتظامی امور کے لیے تقریباً ۲۰؍ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے:’’میری خواہش ہے کہ میں ہدایتکار سنجے لیلا بھنسالی کے ساتھ کام کروں ‘‘
یوئیفا نے اس منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’’فٹبال فیفا کی فروخت کی جائیداد نہیں ہے۔‘‘ تنظیم کا کہنا ہے کہ فٹبال کی روح، اس کی حکمرانی اور مستقبل کو تجارتی اثاثے کے طور پر نہیں بیچا جا سکتا، خصوصاً جب اس عمل میں شفافیت نہ ہو۔ برطانیہ کے وزیر اعظم اینڈی برنہم نے بھی فیفا کی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ’’فٹبال سرمایہ کاروں کی ملکیت نہیں ہے۔‘‘
اطلاعات کے مطابق یوئیفا اس ہفتے اپنے تمام ۵۵؍ رکن ممالک کا ورچوئل اجلاس منعقد کرے گا تاکہ فیفا کی تجویز کے خلاف مشترکہ حکمت عملی تیار کی جا سکے۔ یاد رہے کہ ۲۰۲۱ء میں بھی یوئیفا کی سخت مخالفت کے باعث فیفا کو ہر دو سال بعد ورلڈ کپ کرانے کی تجویز واپس لینا پڑی تھی۔
یہ بھی پڑھئے:اسپین اور فرانس میں شدید گرمی کا نیا انتباہ جاری، جنگلات کی آگ بے قابو
فیفا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایف ایف ای کے ذریعے رواں سال کے آخر تک ۲ء۴؍ ارب ڈالر جمع کیے جائیں گے جبکہ۲۰؍ ارب ڈالر کی ابتدائی مالیت کی بنیاد پر محدود حصص طویل مدتی سرمایہ کاروں کو فروخت کیے جائیں گے۔ فیفا کا کہنا ہے کہ وہ مقابلوں، قوانین، میچ کیلنڈر اور کھیل سے متعلق تمام فیصلوں پر اپنا مکمل اختیار برقرار رکھے گا۔