Updated: August 24, 2026, 10:13 AM IST
| London
برطانیہ کے پانی کے شعبے کے نگران ادارے آف واٹ (Ofwat) کے زیرِ نگرانی پانی کی بچت کے لیے ایک سرکاری معاونت یافتہ مہم میں مسلمانوں کو وضو کے دوران نل مسلسل کھلا رکھنے کے بجائے تقریباً ایک لیٹر پانی استعمال کرنے کی ترغیب دی گئی ہے، جبکہ ایشیائی برادریوں کو چاول کم مرتبہ دھونے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ کیمبرج میں کیے گئے پائلٹ منصوبے کے مطابق اس اقدام سے روزانہ ہزاروں لیٹر پانی کی بچت ممکن ہے، تاہم ناقدین نے مذہبی و ثقافتی عادات پر توجہ دینے کے بجائے پانی کی رسنے والی پائپ لائنوں کی مرمت کو ترجیح دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
برطانیہ میں پانی کے استعمال کو کم کرنے کی ایک سرکاری معاونت یافتہ مہم کے تحت مسلمانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ وضو کرتے وقت کم پانی استعمال کریں، جبکہ ایشیائی برادریوں کو چاول دھونے میں پانی کی مقدار کم کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ یہ اقدام برطانیہ کے پانی کے شعبے کے نگران ادارے آف واٹ (Ofwat) کے ’’واٹر ایفیشنسی اِن فیتھ اینڈ ڈائیورس کمیونٹیز‘‘ پروگرام کا حصہ ہے۔
وضو میں صرف ایک لیٹر پانی استعمال کرنے کی تجویز
اس منصوبے کے تحت کیمبرج میں ایک پائلٹ پروگرام شروع کیا گیا، جس میں مقامی مسلمانوں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ وضو کے لیے نل کو مسلسل کھلا رکھنے کے بجائے تقریباً ایک لیٹر پانی استعمال کریں۔ آف واٹ کے مطابق بعض افراد نل کھلا رکھ کر ہر مرتبہ وضو میں کافی زیادہ پانی استعمال کرتے ہیں۔ اگر کوئی شخص دن میں پانچ مرتبہ وضو کرے تو ایک مقررہ مقدار میں پانی استعمال کرنے سے روزانہ ۵۵؍ لیٹر تک پانی کی بچت ممکن ہو سکتی ہے۔ کیمبرج میں کیے گئے پائلٹ منصوبے کے دوران روزانہ تقریباً ۵؍ ہزار ۹۰۰؍ لیٹر پانی کی بچت کا تخمینہ لگایا گیا۔ اس منصوبے میں ساؤتھ اسٹافورڈ شائر واٹر، یونیورسٹی آف کیمبرج کی فیکلٹی آف ڈیوینیٹی اور کیمبرج سینٹرل مسجد سمیت مختلف اداروں نے حصہ لیا۔
یہ بھی پڑھئے: لوک سبھا اجلاس ملتوی مگر اب بھی جاری!
سنتِ نبویؐ کا حوالہ
منصوبے میں اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی گئی کہ اسلامی روایت میں وضو کے دوران پانی کے اسراف سے بچنے کی اہمیت پہلے ہی موجود ہے۔ مہم میں مسلمانوں کو وضو کے لیے تقریباً ایک لیٹر پانی استعمال کرنے کی ترغیب دی گئی اور اسے سنتِ نبویؐ سے جوڑا گیا۔ پروگرام کا مقصد وضو کے شرعی طریقے میں تبدیلی کرنا نہیں بلکہ پانی کے غیر ضروری استعمال سے بچنے کی ترغیب دینا تھا۔ منتظمین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پیغام مسلمانوں پر الزام عائد کرنے یا انہیں دوسرے معاشروں کے مقابلے میں زیادہ پانی ضائع کرنے والا ظاہر کرنے کے انداز میں نہیں دیا جانا چاہیے۔
ایشیائی برادریوں کو چاول کم دھونے کا مشورہ
اسی پروگرام کے تحت ایشیائی خاندانوں میں چاول دھونے کے دوران پانی کے استعمال کو کم کرنے پر بھی توجہ دی گئی۔ منصوبے میں لوگوں کو مشورہ دیا گیا کہ چاولوں کو بار بار دھونے کے بجائے کم مرتبہ دھویا جائے۔ اس مہم میں پنگ کومبس نے بھی حصہ لیا، جو ۲۰۱۴ء کی ماسٹر شیف فاتح رہ چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بعض لوگ چاولوں کو پانچ سے سات مرتبہ اس وقت تک دھوتے ہیں جب تک پانی صاف دکھائی نہ دینے لگے، تاہم ان کے مطابق اب وہ خود چاول صرف دو مرتبہ دھوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر سرکار بھی حرکت میں آئی، تعلیمی نظام کو بہتر کرنے کیلئے ’’مشن موڈ‘‘ میں کام
منصوبے پر تنقید
اس مہم کو بعض حلقوں کی جانب سے تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ پانی کی کمپنیاں اور حکام لوگوں کی مذہبی یا ثقافتی عادات تبدیل کرنے پر توجہ دینے کے بجائے پانی کی فراہمی کے پرانے نظام اور رسنے والی پائپ لائنوں کی مرمت پر زیادہ توجہ دیں۔ گرین پیس برطانیہ کی جولائی میں جاری ایک تحقیق کے مطابق انگلینڈ اور ویلز میں رسنے والی پائپ لائنوں کے ذریعے روزانہ تقریباً ۸۷ء۲؍ ارب لیٹر پانی ضائع ہو جاتا ہے، جو تقریباً ایک ہزار ۱۵۰؍ اولمپک سائز کے سوئمنگ پولز کو بھرنے کے برابر ہے۔ برطانوی حکومت نے جون میں ۷۵؍ ملین پاؤنڈ کی ’’لیٹس سیو واٹر‘‘ مہم بھی شروع کی تھی، جس کا مقصد شہریوں کو روزمرہ زندگی میں پانی کا استعمال کم کرنے کی ترغیب دینا ہے۔
آف واٹ کا مؤقف
آف واٹ نے منصوبے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ طویل عرصے تک جاری رہنے والی خشک سالی اور کم بارشوں نے پانی کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی ضرورت واضح کر دی ہے۔ ادارے کے مطابق یہ منصوبہ رضاکارانہ نوعیت کا تھا اور اس کا مقصد کسی مذہبی عبادت یا ثقافتی روایت میں مداخلت کرنا نہیں تھا۔ آف واٹ کے مطابق پانی کا تحفظ صرف گھریلو استعمال کم کرنے سے ممکن نہیں ہوگا بلکہ پائپ لائنوں سے پانی کے اخراج میں کمی اور پانی کے نئے ذرائع میں اضافہ بھی ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز: ۸۰؍ فیصد بحری ٹریفک غائب، امریکہ نے ایران کی حکمتِ عملی الٹ دی
اس طرح برطانیہ کی یہ مہم ایک طرف پانی کے بڑھتے ہوئے بحران اور خشک موسم کے پیش نظر گھریلو سطح پر پانی بچانے کی کوشش ہے، جبکہ دوسری جانب اس نے یہ بحث بھی چھیڑ دی ہے کہ سرکاری اداروں کو مذہبی اور ثقافتی طریقوں سے متعلق پانی کے استعمال کے معاملات میں کس حد تک مداخلت یا رہنمائی کرنی چاہیے۔