Updated: August 24, 2026, 12:17 PM IST
| New York
اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیزے نے مقبوضہ مغربی کنارے، مقبوضہ مشرقی یروشلم اور غزہ میں ’’بین الاقوامی تحفظ کی موجودگی‘‘ فوری طور پر تعینات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی عدالتِ انصاف کی مشاورتی رائے کے تحت تیسرے ممالک پر اسرائیل کے غیر قانونی قبضے کے خاتمے کے لیے اقدامات کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، جبکہ سلامتی کونسل میں موجود تعطل کے باعث اس معاملے پر جنرل اسمبلی کے ’’یونائٹنگ فار پیس‘‘ طریقۂ کار کے استعمال پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔
فرانسسکا البانیز۔ تصویر : آئی این این
اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیزے نے مقبوضہ مغربی کنارے، مقبوضہ مشرقی یروشلم اور غزہ میں ’’بین الاقوامی تحفظ کی موجودگی‘‘ تعینات کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی تعیناتی ’’انتہائی ضروری‘‘ ہے۔ البانیزے نے ایکس پر لکھا، ’’بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) کے مطابق تیسرے ممالک پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اسرائیل کے غیر قانونی قبضے کے خاتمے کے لیے اقدامات کریں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایران کے خلاف امریکہ کا ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ منصوبہ، نئی پابندیوں کا اعلان متوقع
انہوں نے جولائی ۲۰۲۴ء میں عالمی عدالتِ انصاف کی جانب سے جاری کردہ مشاورتی رائے کا حوالہ دیا، جس میں فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ ممالک اس قبضے کو برقرار رکھنے میں معاونت نہ کریں۔ البانیزے نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس کی سفارتی کوششیں اور جنرل اسمبلی کا ’’یونائٹنگ فار پیس‘‘ طریقۂ کار تنازع کے حوالے سے سلامتی کونسل میں موجود تعطل کو ختم کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ: مسلمانوں کو وضو، ایشیائی برادریوں کو چاول دھونے میں پانی بچانے کا مشورہ
اس طریقۂ کار کے تحت جنرل اسمبلی کو بین الاقوامی امن و سلامتی سے متعلق معاملات پر غور کرنے کا اختیار حاصل ہے، جب سلامتی کونسل اپنے مستقل ارکان کے درمیان اتفاقِ رائے نہ ہونے کے باعث کارروائی کرنے سے قاصر ہو۔ غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے کے معاملے پر سلامتی کونسل متعدد مرتبہ کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کی بڑی وجہ امریکا کی جانب سے ویٹو کا استعمال ہے۔