اقوام متحدہ کی تنظیم برائے تارکین وطن کے مطابق ۲۰۲۵ء میں ۸؍ ہزار سے زائد تارکین وطن ہلاک یا لاپتہ ہوئے ہیں، تنظیم نے یہ بھی انکشاف کیا کہ یورپ کے سمندری راستے تارکین وطن کیلئے سب سے مہلک ثابت ہوئے ہیں۔
EPAPER
Updated: April 23, 2026, 10:00 AM IST | New York
اقوام متحدہ کی تنظیم برائے تارکین وطن کے مطابق ۲۰۲۵ء میں ۸؍ ہزار سے زائد تارکین وطن ہلاک یا لاپتہ ہوئے ہیں، تنظیم نے یہ بھی انکشاف کیا کہ یورپ کے سمندری راستے تارکین وطن کیلئے سب سے مہلک ثابت ہوئے ہیں۔
بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت (IOM) کے نئے اعداد و شمار کے مطابق،۲۰۲۵ء میں تقریباً ۸؍ ہزار افراد ہجرت کے دوران ہلاک یا لاپتہ ہو گئے۔ ایجنسی نے عالمی سطح پر۷۹۰۴؍ اموات اور لاپتہ افراد کی اطلاع دی ہے، جس کے بعد۲۰۱۴ء سے مجموعی تعداد۸۲؍ ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس نے خبردار کیا کہ تقریباً۳۴۰۰۰۰؍ خاندان کے افراد ان نقصانات سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔بعد ازاں اقوام متحدہ کی ایجنسی نے منگل کو بتایا کہ یورپ کے سمندری راستے سب سے زیادہ مہلک تھے، اور بہت سے متاثرین خفیہ جہاز کے حادثات میں جان بحق ہوئے۔تنظیمنے ان اعداد و شمار کو ’’ ان المیوں کو روکنے میں ہماری اجتماعی ناکامی کا ثبوت‘‘ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز کے لیے فوجی منصوبہ بندی کیلئے برطانیہ اور فرانس کی عالمی کانفرنس
ایجنسی کی انسانی اور ردعمل کی شعبہ کی سربراہ ماریا موئیتا نے جنیوا میں پریس بریفنگ میں بتایا کہ ریکارڈ شدہ اموات یا گمشدگیوں میں سے ہر دس میں سے چار سے زیادہ واقعات یورپ کے سمندری راستوں پر پیش آئے۔ اس کے علاوہ انہوں نے نام نہادپوشیدہ جہاز کے حادثات کے مسلسل خطرے پر روشنی ڈالی، جس میں پوری کشتیاں بغیر کوئی نشان چھوڑے ڈوب جاتی ہیں یا غائب ہو جاتی ہیں، جس سے نہ لاشیں ملتی ہیں اور نہ ہی کوئی زندہ بچتا ہے۔اگرچہ مجموعی تعداد۲۰۲۴ء میں ریکارڈ کی گئی ۹۱۹۷؍ اموات سے کم تھی، لیکن ایجنسی نے کہا کہ یہ کمی جزوی طور پر تقریباً۱۵۰۰؍ مشتبہ معاملوں کی وجہ سے ہے جن کی تصدیق امداد اور نگرانی میں خامیوں کی وجہ سے نہیں ہو سکی۔تاہم تنظیم کا کہنا تھا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصل تعداد زیادہ ہو سکتی ہے۔ادارے کے ڈسپلیسمنٹ ٹریکنگ میٹرکس اور گمشدہ تارکین وطن کے منصوبے سے حاصل کردہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ہجرت کے راستے بدل رہے ہیں نہ کہ آسان ہو رہے ہوں۔کینری جزائر کی طرف مغربی افریقی راستے پر تقریباً ۱۲۰۰؍ اموات ہوئیں۔
دریں اثناء ایشیا میں، اموات بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں، جن میں میانمار میں تشدد سے فرار ہونے والے اور بنگلہ دیش کے کیمپوں میں مشکل حالات کا سامنا کرنے والے سینکڑوں روہنگیا مہاجرین شامل ہیں۔ ننظیم کی ڈائریکٹر جنرل ایمی پوپ نے کہا، ’’تنازعات، موسمی دباؤ اور پالیسی تبدیلیوں کے جواب میں راستے بدل رہے ہیں، لیکن خطرات اب بھی بہت حقیقی ہیں۔ ان اعداد ش وشمار میں وہ لوگ پوشیدہ ہیں جو خطرناک سفر کر رہے ہیں اور وہ خاندان جوان کی خیریت کی خبر کا انتظار کر رہے ہیں جو کبھی نہیں آ سکتی۔‘‘