• Wed, 28 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مرکزی بجٹ میں دفاع، اہم معدنیات، توانائی اور بنیادی ڈھانچے پر رہے گا خاص زور

Updated: January 28, 2026, 7:21 PM IST | New Delhi

یکم فروری کو پیش ہونے والے مرکزی بجٹ ۲۰۲۶ء میں دفاع، اہم معدنیات، بجلی، الیکٹرانکس، بنیادی ڈھانچے اور سستے ہاؤسنگ جیسے شعبوں پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔

Nirmala Sitharaman.Photo:INN
نرملا سیتارمن۔ تصویر:آئی این این

یکم فروری کو پیش ہونے والے مرکزی بجٹ ۲۰۲۶ء میں دفاع، اہم معدنیات، بجلی، الیکٹرانکس، بنیادی ڈھانچے اور سستے ہاؤسنگ جیسے شعبوں پر زیادہ توجہ دی جائے گی۔ بدھ کو جاری کردہ  مو تی  لال  اوسوال کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ عالمی غیر یقینی صورتحال کے درمیان پالیسی ساز ترقی کی ترجیحات اور مالیاتی نظم و ضبط کے درمیان توازن قائم رکھیں گے۔
موتی لال  اوسوال  فائنانشل  سروسیز لمیٹڈ کی انڈیا اسٹریٹیجی  رپورٹ کے مطابق  بجٹ میں اگرچہ بہت بڑے اعلان نہیں ہوں گے، مگر کچھ منتخب فیصلے بھی اسٹاک مارکیٹ میں اچھا ماحول پیدا کر سکتے ہیں۔ آنے والے مالی سال ۲۷۔۲۰۲۶ء کے بجٹ میں حکومت کو اقتصادی ترقی کو برقرار رکھنے اور خسارے کو قابو میں رکھنے کے درمیان صحیح توازن قائم کرنا ہوگا۔ ساتھ ہی، دنیا میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگیوں سے پیدا ہونے والے چیلنجز کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہوگا۔
 رپورٹ میں کہا گیا کہ مذاکرات کے دوران محسوس ہوا کہ سرمایہ کار بڑے اور بھاری فیصلوں کی توقع نہیں کر رہے ہیں۔ وزیر خزانہ کے سامنے کئی مسائل ہیں، اس لیے بجٹ کے حوالے سے توقعات کم ہیں، جس سے اگر کوئی اچھا فیصلہ ہوتا ہے تو وہ مثبت طور پر حیران کن ہو سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق  گزشتہ چند برسوں میں بجٹ کا اثر کچھ کم ہوا ہے  کیونکہ حکومت بجٹ کے علاوہ بھی کئی اقتصادی فیصلے کرتی  رہی ہے۔ ایسے میں اسٹاک مارکیٹ اب بجٹ سے ان خاص اقدامات کی توقع کر رہا ہے، جو کچھ منتخب شعبوں میں ترقی کو فروغ دیں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد مضبوط کریں۔

یہ بھی پڑھئے:معین علی کا گھریلو کرکٹ میں واپسی کا اعلان، یارکشائر کے ساتھ معاہدہ

حکومت مسلسل مالیاتی نظم و ضبط قائم رکھنے کی طرف آگے بڑھ رہی ہے۔ کووِڈ کے دوران مالیاتی خسارہ جہاں۲ء۹؍ فیصد کے بلند سطح تک پہنچ گیا تھا، وہاں اب اس کے مالی سال ۲۰۲۶ء کے اختتام تک ۴ء۴؍ فیصد تک آنے کی توقع ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ حکومت عام طور پر اخراجات کو کنٹرول میں رکھے گی اور اس حوالے سے کوئی بڑا تبدیلی کی توقع نہیں ہے۔ تاہم، مالی سال  ۲۰۲۷ء میں قرض اور جی ڈی پی کے نئے ہدف کا تعین کیا جائے گا اور صارفیت ابھی پوری طرح نہیں بڑھی، اس لیے معمولی اضافی اخراجات کی امکان سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ اگر حکومت کا اضافی خرچ صحیح سمت میں ہوا، جیسے پیداواری سرمایہ کاری یا عوام کی خریداری بڑھانے پر، تو ایکویٹی مارکیٹ اس کی حمایت کر سکتا ہے۔ لیکن غیر ضروری انتظامی اخراجات یا کم اثر والے ادائیگیوں سے بچنا ضروری ہوگا۔

یہ بھی پرھئے:پربھاس نے راشا تھڈانی کی گائیکی کی پزیرائی کی

مالی سال ۲۰۲۶ء کے بجٹ میں حکومت نے درمیانے طبقے کی خریداری بڑھانے کے لیے ایک لاکھ کروڑ روپے کی انکم ٹیکس  راحت  دی تھی، جس کا پورا اثر ابھی دیکھنا باقی ہے۔ اس لیے رپورٹ کا ماننا ہے کہ مالی سال ۲۰۲۷ء کے بجٹ میں خریداری بڑھانے کے لیے بہت محدود اقدامات کیے جائیں گے۔ رپورٹ کے مطابق  آنے والا بجٹ سرمایہ کاری پر زیادہ توجہ دے گا، خاص طور پر ان شعبوں میں جو موجودہ عالمی حالات کی وجہ سے ملک کے لیے اسٹریٹجک طور پر اہم سمجھے جا رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK