مغربی ایشیا کے بحران سے پیدا ہونے والی عالمی غیر یقینی صورتحال اور خام تیل کی قیمتوں میں تیز اضافے کے درمیان امریکی فیڈرل ریزرو نے مارکیٹ کی توقعات کے برخلاف ریپو شرح میں کوئی کمی نہیں کی۔
EPAPER
Updated: March 19, 2026, 10:38 AM IST | New York
مغربی ایشیا کے بحران سے پیدا ہونے والی عالمی غیر یقینی صورتحال اور خام تیل کی قیمتوں میں تیز اضافے کے درمیان امریکی فیڈرل ریزرو نے مارکیٹ کی توقعات کے برخلاف ریپو شرح میں کوئی کمی نہیں کی۔
مغربی ایشیا کے بحران سے پیدا ہونے والی عالمی غیر یقینی صورتحال اور خام تیل کی قیمتوں میں تیز اضافے کے درمیان امریکی فیڈرل ریزرو نے مارکیٹ کی توقعات کے برخلاف ریپو شرح میں کوئی کمی نہیں کی۔ فیڈ کی دو روزہ میٹنگ کے بعد بدھ کو جاری بیان میں کہا گیا کہ معیشت کی ترقی مضبوط ہے، لیکن حالیہ مہینوں میں نئی ملازمتوں کی رفتار سست پڑ گئی ہے اور مہنگائی بدستور بلند ہے۔ ساتھ ہی مغربی ایشیا کے حالات کے امریکی معیشت پر اثرات کے حوالے سے بھی غیر یقینی صورتحال موجود ہے۔
امریکی مرکزی بینک کے مطابق کمیٹی نے شرح سود کو ۵ء۳؍ سے۷۵ء۳؍ فیصد کے درمیان برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ ۱۲؍ میں سے۱۱؍اراکین نے اس فیصلے کی حمایت کی، جبکہ اسٹیفن مائرن نے ایک چوتھائی فیصد کمی کے حق میں ووٹ دیا۔بیان میں کہا گیا کہ فیڈ کا ہدف زیادہ سے زیادہ روزگار اور مہنگائی کو۲؍ فیصد تک محدود رکھنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:تل ابیب پر لرزہ خیز میزائل حملے ، ۲۰۰؍ ہلاک
نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے فیڈ کے چیئرمین جیروم پاویل نے کہا کہ اس وقت بے روزگاری کی شرح طویل مدتی اوسط کے قریب ہے جبکہ مہنگائی اس سے ایک فیصد زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی میں جس کمی کی توقع کی جا رہی تھی، وہ اس حد تک سامنے نہیں آئی۔غیر یقینی حالات کے باوجود فیڈ کے آئندہ اندازوں میں اس سال ایک چوتھائی فیصد کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، تاہم مہنگائی کا تخمینہ پہلے کے مقابلے میں بڑھا دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ہندوستان میں ایل پی جی کی پیداوار میں۴۰؍فیصد اضافہ
ریپو شرح کو برقرار رکھنے کے اس فیصلے کو امریکی شیئر بازار نے مثبت انداز میں نہیں لیا، کیونکہ سرمایہ کار شرح میں کمی کی توقع کر رہے تھے۔ فیصلے کے بعد امریکی اسٹاک مارکیٹس تقریباً ڈیڑھ فیصد تک گر گئیں۔