Inquilab Logo Happiest Places to Work

دھولیہ کے گم شدہ بچے محمد عمر کیلئے احتجاج، ساڑھے۳ ؍ ماہ بعد بھی سراغ نہیں

Updated: May 07, 2026, 11:12 AM IST | Ismail Shaad | Dhule

’گم شدہ بچوں کی تلاش‘ نامی گروپ کے کارکنان نے نئے ضلع ایس پی کو میمورنڈم دے کر بچے کو جلد سے جلد ڈھونڈ نکالنے کا مطالبہ کیا۔

Social Workers Protesting Outside The Dhulia SP Office.Photo:INN
دھولیہ ایس پی دفتر کے باہر احتجاج کرتے ہوئے سماجی کارکنان-آئی این این
دھولیہ کے مولوی گنج علاقے سے ۳؍ ماہ قبل محمد عمر حافظ سلمان انصاری نامی ۶؍ سالہ بچہ غائب ہوا تھا جس کا اب تک کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔ پولیس نے اس کی تلاش کیلئے ایس آئی ٹی بھی شکیل دی تھی لیکن کوئی نتیجہ بر آمد نہیں ہوا۔ لہٰذا بدھ کو ایک سماجی تنظیم نے ضلع سپرنٹنڈنٹ کے دفتر میں احتجاج کیا اور معصوم محمد عمر کو جلد از جلد تلاش کرنے کا مطالبہ کیا۔ 
یاد رہے کہ ۲۴؍ جنوری ۲۰۲۶ء کو محمد عمر اپنے گھر سے کھیلنے نکلا تھا مگر لوٹ کر نہیں آیا۔ مقامی باشندوں اور سماجی کارکنان نے احتجاج کیا، حکام سے ملاقاتیں کیں ، پولیس نے ایس آئی ٹی بھی تشکیل دی لیکن محمد عمرکا کچھ پتہ نہیں چلا۔ اب ’گم شدہ بچوں کی تلاش گروپ ‘ نامی تنظیم نے پولیس کے تساہل کے خلاف ایس پی دفتر کے باہر احتجاج کیا ۔ یاد رہے کہ ایس وشال آنند سنگوری  کی حال ہی میں دھولیہ ضلع میں بطور ایس پی تقرری ہوئی ہے۔ 
 
 
محمد عمر کی تلاش میں پیش پیش رہنے والے اشفاق دھوبی سر نے انقلاب کو بتایا کہ ۲۴؍ جنوری ۲۰۲۶ءکو یہ یتیم بچہ گھر کے پاس کھیلتے کھیلتے اچانک گم ہوگیا۔جس دن بچہ گم ہوا اسی دن آزاد نگر پولیس میںشکایت درج کروائی گئی۔ گمشدگی کو ۲۰؍ دن گزرجانے کے بعد بھی پولیس بچے کو تلاش نہیں کرپائی ۔ لہٰذا  اہل خانہ کے علاوہ سماجی کارکنان۱۳؍فروری کو خاموش ریلی نکالنے کا فیصلہ کیا ۔‘‘ وہ آگے بتاتے ہیں’’ پولیس نے ریلی کی منظوری بھی دے دی تھی لیکن پولیس کو خفیہ ذرائع سے اطلاع ملی کہ ریلی میں ۲۵؍ تا ۳۰؍ ہزارافراد شامل ہوسکتے ہیں ۔لہٰذا پولیس نے نظم و نسق کا جواز پیش کر کے ریلی کی اجازت منسوخ کردی۔البتہ اس وقت کے ضلع ایس پی شری کانت دھیورے نے بچے کی تلاش کیلئے ایس آئی ٹی تشکیل دی مگر اب تک بچے کی کوئی خبر نہیں ہے۔ بچے کے بڑے ابو نعمان انصاری نے بتایا کہ جب بھی بچے کے تعلق سےپوچھنے پولیس اسٹیشن جاتے تو پولیس کا جواب ہوتا’ ابھی تک بچہ نہیں ملا ہے۔ اس کی تلاش جاری ہے۔ کارروائی ہو رہی ہے۔ہم ساری باتیں آپ کو بتا نہیں سکتے۔‘‘
 
 
اشفاق سر نے کہا کہ بچے کی جدائی میں ماں کا رو رو کر برا حال ہے۔ چار مہینے کا طویل عرصہ گزرجانے کے بعد بھی پولیس اب تک بچے کو تلاش کرنے میں ناکام رہی ہے۔پولیس کی سست روی سے لوگوں میں شدید ناراضگی ہے۔عوام نے بچے کی حمایت میں راستے پر اترنے اور بڑے پیمانے پر احتجاج کا اشارہ دیا ہے۔ اس لیے نو منتخب ضلع ایس پی وشال آنند سنگوری سے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ بچے کو جلد سے جلد تلاش کرکے اہل خانہ کے حوالے کیا جائے۔ اس موقع پر ضلع ایس پی کو ایک میمورنڈم بھی پیش کیا گیا۔ اس وفد میں اشفاق دھوبی سر، احمد حسین، نعمان انصاری، ندیم انصاری، محسن انصاری، جمیل شاہ، سلیم ٹیلر، نوید اختر، رئیس احمد، عطاوالرحمن انصاری، عزیز عمیر و دیگرشامل تھے۔یاد رہے کہ محمد عمر کی تلاش کیلئے الگ الگ تنظیموں اور گروپوں کی جانب سے پہلے بھی مظاہرے کئے گئے ہیں لیکن پولیس اب تک اسے ڈھونڈنے میں ناکام رہی ہے۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK