نصرہ پور ملزم کے خلاف دیئے گئے بیان پر اسیم سرودے کا انتباہ، عوام کو مشتعل کرنے والے بیان نہ دینے کی تلقین۔
راج ٹھاکرے۔ تصویر:آئی ائی این
حال ہی میں پونے کے نصرہ پور علاقے میں ایک ساڑھے ۳؍ سالہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی اورقتل کا معاملہ سامنے آیا جے کی وجہ سےپوری ریاست میں غم و غصہ ہے۔ لوگ ملزم کو فوری طور پر سخت سزا دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ انہی میں مہاراشٹر نونرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے مشورہ دیا تھا کہ اس معاملے میں حکومت کو یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ قانون کیا کہتا ہے اور لوگ کیا کہتے ہیں بلکہ ملزم کو تڑپا تڑپا کر مار دینا چاہئے۔ ان کے اس بیان پر ریاست کے مشہور قانون داں اسیم سرودے نے اعتراض ظاہر کیا ہے۔
سرودے کا کہنا ہے کہ یہ بیان غیر قانونی ہے اور اس پر راج ٹھاکرے کے خلاف معاملہ درج کیا جا سکتا ہے۔ اسیم سرودے کا کہنا ہےکہ ’’نصرہ پور کیس کے ملزم کو ۱۰۱؍ فیصد سزائے موت دی جائے گی۔ تاہم کچھ لوگ اس معاملے میں بیہودہ بیانات دے کر لوگوں کو قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا’’ کوئی کہہ رہا ہے کہ ملزم کے ۴؍ ٹکڑے کر دیجئے، کوئی کہہ رہا ہے اسے تڑپا تڑپا کے مار دیجئے۔ اس طرح کے مطالبات پروین ترڈے (اداکار)، راج ٹھاکرے اور دیگر لوگوں کی طرف سے کئے جا رہے ہیں ۔‘‘ سرودے نے بتایا کہ ’’ پروین ترڈے نے تو یہ تک کہا ہے کہ اس معاملے میں ملزم کو قتل کرنے والے کو ایم ایل اے یا ایم پی بنایا جانا چاہئے۔‘‘ اسیم سرودے نے سوال کیا’’ ایسا ہے تو پھر پروین ترڈے خود جا کر ملزم کو کیوں نہیں ماردیتے؟‘‘
قانون داں کا کہنا ہے کہ اگرچہ راج ٹھاکرے نے جو جذبات ظاہرکئے ہیں وہ درست ہیں لیکن قانون کا ایک اصول ہے۔ اس کیس کے ملزم کو اپنا کیس پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔ نیز ملزمین کو قانون کے ذریعے سزا دی جائے۔ راج ٹھاکرے جیسے ذمہ دار لیڈر کیلئے ایسے بیانات دینا اور لوگوں کو قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے پر اکسانا درست نہیں ہے۔‘‘ سرودے کے مطابق ’’ پولیس کو چاہئےکہ راج ٹھاکرے کو سمجھائے کہ وہ اس طرح کے بیانات نہ دیں۔‘‘ سرودے نے یہ بھی کہا کہ اسطرح کے بیانات کی وجہ سے راج ٹھاکرے کے خلاف مقدمہ درج کیا جا سکتا ہے ۔
جو کرنا ہے وہ کر لیجئے
اسیم سرودے کے بیان کے جواب میں ایم این ایس نے کہا ہے کہ ’’ آپ کو جو کرنا ہے وہ کر لیجئے!‘‘ پارٹی کے ممبئی صدر سندیپ دیشپانڈے کا کہنا ہے کہ ’’ ہم نے جو کہا ہے وہ کہا ہے، آپ کو جو کرنا ہے کر لیجئے!حکومت ’شکتی قانون‘ پر عمل در آمد کب کرے گی؟ قانون کی ساکھ قائم نہیں رہی، اسی وجہ سے اس طرح کے واقعات پیش آتے ہیں۔ یہ بات اسیم سرودے جیسے لوگوں کی سمجھ میں نہیں آئے گی۔‘‘