• Fri, 23 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بورڈ آف پیس کے بعد امریکہ کا ’نیوغزہ‘ منصوبہ پیش، ماہرین کا رد عمل

Updated: January 23, 2026, 10:59 AM IST | Washington

امریکہ کی جانب سے غزہ کی ازسرِ نو تعمیر کیلئے پیش کیا گیا ’’نیو غزہ‘‘ منصوبہ عالمی سطح پر بحث و تنقید کا مرکز بن گیا ہے۔ ترقی اور سرمایہ کاری کے دعوؤں کے باوجود ناقدین اسے فلسطینی عوام کو نظرانداز کرنے اور انسانی پہلو سے خالی منصوبہ قرار دے رہے ہیں۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

امریکہ نے بورڈ آف پیس کے بعد ’’نیو غزہ‘‘ منصوبہ پیش کردیا جس پر ملا جلا رجحان سامنے آیا ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے’رائٹرز‘ کے مطابق یہ منصوبہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے داماد اور مشیر جیرڈ کشنر نے عالمی اقتصادی فورم (WEF) میں پیش کیا جسے ’’نیو غزہ‘‘ پروجیکٹ کا نام دیا گیا ہے۔ جیرڈ کشنر نے بتایا کہ اس منصوبے میں غزہ کے بڑے علاقوں کو فلوریسٹک سٹی اسکائی اسکریپرز، لگژری رہائشی یونٹس، ڈیٹا سینٹرز، سیاحت زونز، پارکس، زرعی اور صنعتی علاقے کے طور پر دوبارہ تعمیر کرنے کا خاکہ شامل ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ غزہ میں ایک لاکھ مستقل رہائشی یونٹس تعمیر کئے جائیں گے جبکہ۷۵؍ طبی مراکز کو بحال اور فعال کیا جائے گا۔ ان کے بقول۲۰۰؍ سے زائد تعلیمی، ثقافتی اور پیشہ ورانہ عمارتیں بھی منصوبے کا حصہ ہیں اس کے علاوہ راہداری، سمندری بندرگاہ اور ہوائی اڈے سمیت متعدد ترقیاتی اقدامات تجویز کئے گئے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: داؤس: عالمی لیڈروں نے غزہ ’بورڈ آف پیس‘ منشور پر دستخط کئے

جیرڈ کشنر نے بتایا کہ یہ بڑا ترقیاتی منصوبہ تقریباً۲۵؍ بلین ڈالر لاگت کا ہے جس کے ذریعے غزہ میں امن اور خوشحالی آئی گی۔ قبل ازیں صدر ٹرمپ نے بھی اس منصوبے کے متعلق کہا تھا کہ یہ خوبصورت مقام سمندر کے کنارے ہے اور بہتر زندگی کے امکانات رکھتا ہے۔ لیکن ناقدین نے اسے غزہ کو صرف سرمایہ کاری کے مقاصدکیلئے دیکھا جانے والا پروجیکٹ قرار دیا ہے۔ کاروباری اور سیاسی مبصر ڈیویڈ الحدّاد نے کہا کہ نسل کشی کا منصوبہ دو مرحلوں میں ہے، پہلے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مارنا، پھر بچ جانے والوں کو ترقی کے نام پر وہاں سے نکال دینا۔ بین الاقوامی وکیل ایتائی اپسشتائن نے کہا کہ یہ منصوبہ نہ کسی قانون میں ہے، نہ حقائق پر مبنی ہے۔ صرف جیرڈ کشنر کے شاندار رئیل اسٹیٹ ڈیکز کا مجموعہ ہے جس میں حقیقی انسانی امداد، بحالی اور امن کو بالائے طاق رکھا گیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: گرین لینڈ تنازع: ٹرمپ نے داؤس میں نیٹو کے ساتھ ”فریم ورک ڈیل“ کا اعلان کیا، ٹیرف کا حکم واپس لے لیا

الجزیرہ کے تجزیہ کار ہانی محمود نے کہا کہ غزہ کو ان لوگوں کی نظر سے نہیں دیکھا جا رہا ہے جو روزانہ قتل، قحط اور مصائب کی زد میں ہیں بلکہ ایک ایسی جگہ تصور کی جا رہی ہے جسے سرمایہ کاری کیلئے استعمال کیا جائے۔ انسانی حقوق کے مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا بورڈ آف پیس ہو یا جیرڈ کشنر کا نیو غزہ پراجیکٹ، دونوں میں فلسطینیوں کو، ان کے جذبات کو اور احساسات کو نظر انداز کیا گیا۔ جس میں فلسطینی نمائندگان شامل نہیں ہیں، دراصل ایک غلط بین الاقوامی شمولیت کا مظاہرہ ہے۔ کچھ کے مطابق اس میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی موجودگی بھی تشویش کا باعث ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK