امریکہ گرین لینڈ پر حملے کیلئے سنجیدہ ہے، اس تعلق سے ٹرمپ نے فوجی سربراہوں کو منصوبہ تیار کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں، تاہم، اعلیٰ فوجی اہلکار اس منصوبے کو قانونی حیثیت اور سیاسی حکمت عملی کے لحاظ سے درست نہیں سمجھتے۔
EPAPER
Updated: January 11, 2026, 10:17 PM IST | Washington
امریکہ گرین لینڈ پر حملے کیلئے سنجیدہ ہے، اس تعلق سے ٹرمپ نے فوجی سربراہوں کو منصوبہ تیار کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں، تاہم، اعلیٰ فوجی اہلکار اس منصوبے کو قانونی حیثیت اور سیاسی حکمت عملی کے لحاظ سے درست نہیں سمجھتے۔
وینزویلا پر حملے اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری سے حوصلہ پا کر،امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے خصوصی دستوں کے کمانڈروں کو گرین لینڈ پر حملے کا منصوبہ تیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ اعلیٰ فوجی اہلکار اس منصوبے کو قانونی حیثیت اور سیاسی حکمت عملی کے لحاظ سے درست نہیں سمجھتے۔دی میل کی ایک رپورٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ ،سیاسی مشیر اسٹیفن ملر کی قیادت میں روس یا چین کے اقدام سے پہلے جزیرے پر قبضہ کرنے کے لیے جلدی کرنا چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران آزادی کی طرف دیکھ رہا ہے، واشنگٹن مدد کیلئے تیار ہے: ٹرمپ
دریں اثناء ذرائع کے مطابق، ٹرمپ نے جوائنٹ اسپیشل آپریشنز کمانڈ (JSOC) سے حملے کا منصوبہ تیار کرنے کو کہا ہے۔ واضح رہے کہ مادورو کی گرفتاری کے بعد، ٹرمپ نے گرین لینڈ پر قبضے کا بار بار ذکر کیا ہے۔وائٹ ہاؤس میں تیل کی کمپنیوں کے ایگزیکٹوز کے ساتھ ہونے والی ایک ملاقات میں ٹرمپ نے کہا، ’’ہم گرین لینڈ پر کچھ نہ کچھ کریں گے، چاہے وہ (گرین لینڈ کے لوگ) پسند کریں یا نہ کریں۔ کیونکہ اگر ہم نے ایسا نہیں کیا، تو روس یا چین گرین لینڈ پر قبضہ کر لے گا، اور ہم روس یا چین کو پڑوسی نہیں بننے دیں گے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اگر ہم نے نہیں کیا تو روس یا چین، گرین لینڈ پر قبضہ کرلیں گے: ٹرمپ کا دعویٰ
بعد ازاں ٹرمپ نے ڈنمارک کے خدشات کو بھی مخاطب کرتے ہوئے کہا، ’’میں بھی ڈنمارک کا مداح ہوں، لیکن آپ جانتے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے۵۰۰؍ سال پہلے ایک کشتی وہاں لنگر انداز کی تھی اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ اس زمین کے مالک ہیں۔‘‘ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ٹرمپ گرین لینڈ پر قبضے کی بات کر رہے ہیں، جو۵۷۰۰۰؍ کی آبادی کے ساتھ ڈنمارک کی بادشاہی کا خود مختار علاقہ ہے،جو فوجی حکمت عملی کے لحاظ سے اہم مقام ہے، اس کے علاوہ پورا علاقہ قدری دولت اور معدنیات سے مالا مال ہے۔جہاں ۱۹۵۱ء کے ایک معاہدے کے تحت جزیرے پر امریکہ کی فوجی موجودگی پہلے سےقائم ہے۔