پروازوں کے نقشوں میں ایران، عراق، کویت، اسرائیل اور بحرین کی فضائی حدود کو عملاً خالی دکھایا گیا جبکہ یورپ اورمشرق وسطیٰ کی ایئرلائنز نے بڑے پیمانے پر پروازوں کی منسوخی کا اعلان کیا۔
EPAPER
Updated: March 02, 2026, 12:16 PM IST | Dubai
پروازوں کے نقشوں میں ایران، عراق، کویت، اسرائیل اور بحرین کی فضائی حدود کو عملاً خالی دکھایا گیا جبکہ یورپ اورمشرق وسطیٰ کی ایئرلائنز نے بڑے پیمانے پر پروازوں کی منسوخی کا اعلان کیا۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں اور ایرانی میزائلوں کی جوابی کارروائی کے بعد مشرق وسطیٰ کے بڑے ایئرپورٹس بشمول دنیا کا مصروف ترین بین الاقوامی سفری مرکز دبئی ایئرپورٹ بند کر دیا گیا۔ اس نئی پیش رفت کے نتیجے میں عالمی ہوا بازی کیلئے برسوں کی شدید ترین رکاوٹ پیدا ہو گئی ہیں۔ عرب خلیجی ریاستوں کے مقامات پر راتوں رات ایرانی جوابی حملے کے دوران دبئی بین الاقوامی ایئرپورٹ کو نقصان پہنچا جو ایک دن میں ایک ہزار سے زیادہ پروازوں کا انتظام کرتا ہے جبکہ ابوظہبی اور کویت کے بین الاقوامی ایئرپورٹس بھی متاثر ہوئے۔ واضح رہےکہ مشرق وسطیٰ کے بیشترممالک نے امریکی حملوں اور ایران کی جوابی کارروائی کے بعد اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں جس کے نتیجے میں یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: پوتن نے خامنہ ای کی شہادت کوسفاکانہ قتل قراردیا، چین اورشمالی کوریا کی بھی مذمت
پروازوں کے نقشوں میں ایران، عراق، کویت، اسرائیل اور بحرین کی فضائی حدود کو عملاً خالی دکھایا گیا جبکہ یورپ اورمشرق وسطیٰ کی ایئرلائنز نے بڑے پیمانے پر پروازوں کی منسوخی کا اعلان کیا۔ دبئی اور ہمسایہ ملک قطر شرقی-غربی ہوائی سفر کے مقامِ اتصال پر واقع ہیں جہاں سے مربوط پروازوں کے ایک انتہائی مصروف نیٹ ورک کے ذریعے یورپ اور ایشیا کے درمیان طویل فاصلے تک چلنے والا ٹریفک گزرتا ہے۔ یہاں کے ایئرپورٹس کی کسی بھی طویل بندش کے اثرات خطے سے بہت آگے تک پہنچتے ہیں جس کے باعث تمام دنیا کی ایئرلائنز نئے سفری راستے اختیار کرنے یا اپنی خدمات منسوخ کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ برطانیہ میں مقیم ایوی ایشن تجزیہ کار جان سٹرک لینڈ کاکہنا ہے ’’آج ان سفری مراکز کا پیمانہ بہت وسیع ہے۔ لاکھوں لوگ دنیا کے غلط حصوں میں پھنسے ہوں گے بغیر کسی یقین کے کہ وہ کب سفر کر سکیں گے۔ ‘‘انہوں نے مزیدکہا ’’اس کا اثر کئی سطحوں پر ہوتا ہے۔ آج جو ہوتا ہے، اس کا فوری اثر ہوتا ہے اور یہ کب تک برقرار رہتا ہے، اس کا ایک ضمنی اثر ہوتا ہے۔ امارات اور قطر ایئرویز جیسی بڑی خلیجی ایئرلائنز دنیا میں مال برداری کے بھی بڑے ذرائع میں شامل ہیں۔ ‘‘دبئی ایئرپورٹس نے دبئی انٹرنیشنل اور المکتوم انٹرنیشنل پر تمام پروازیں تا حکم ثانی معطل کر دی ہیں اور مسافروں سے سفر نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ ایوی ایشن سیکوریٹی ایڈوائزری دیامی کے سربراہ ایرک شوٹن نے کہا’’مسافر اور ایئرلائنز کچھ عرصے کیلئے فضائی حدود کےبند رہنے کی توقع کر سکتے ہیں۔ ‘‘پیرس سے دبئی جانے والے طلبہ نے بتایا کہ ان کا کالج کا سفر روک دیا گیا تھا۔ چارلس ڈی گال ایئرپورٹ پر تھائی لینڈ جانے والے مسافروں نے بتایا کہ ان کی اگلی پرواز براستہ دوحہ منسوخ کر دی گئی ہے۔ رائٹرز کےمطابق دوحہ کے حمد بین الاقوامی ایئرپورٹ پر دروازے تقریباً خالی تھے کیونکہ پھنسے ہوئے مسافر ہوٹل کے انتظامات کرنے کیلئے قطار میں کھڑے تھے۔