میزبان امریکہ کی قومی فٹ بال ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ورلڈ کپ کے راؤنڈ آف ۳۲؍ میں بوسنیا ہرزیگووینا کو ۰۔۲؍گول سے شکست دے کر ٹورنامنٹ کے اگلے مرحلے میں کوالیفائی کر لیا ہے۔
EPAPER
Updated: July 02, 2026, 8:09 PM IST | New York
میزبان امریکہ کی قومی فٹ بال ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ورلڈ کپ کے راؤنڈ آف ۳۲؍ میں بوسنیا ہرزیگووینا کو ۰۔۲؍گول سے شکست دے کر ٹورنامنٹ کے اگلے مرحلے میں کوالیفائی کر لیا ہے۔
میزبان امریکہ کی قومی فٹ بال ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ورلڈ کپ کے راؤنڈ آف ۳۲؍ میں بوسنیا ہرزیگووینا کو ۰۔۲؍گول سے شکست دے کر ٹورنامنٹ کے اگلے مرحلے میں کوالیفائی کر لیا ہے۔ فولارین بالوگون نے ہاف ٹائم سے ٹھیک پہلے امریکہ کے لیے فیصلہ کن گول کیا۔ ٹورنامنٹ میں یہ ان کا تیسرا گول تھا۔ لیکن پھر کھیل کے ایک گھنٹے کے ٹھیک بعد ایک متنازع فیصلے میں انہیں میدان سے باہر بھیج دیا گیا، جس کی وجہ سے انہیں بلجیم کے خلاف راؤنڈ آف ۱۶؍ کے میچ کے لیے معطل کیا جا سکتا ہے۔
FOUND A WAY THROUGH! 🇺🇸 pic.twitter.com/bZBjTcZyW2
— U.S. Soccer Men`s National Team (@USMNT) July 2, 2026
امریکی فارورڈ لائن کے اندر ہی بالوگون اور بوسنیائی ڈیفینڈر طارق محمدووچ کے درمیان ٹکر ہونے پر انہیں ریڈ کارڈ دکھایا گیا۔ شروعات میں دونوں کھلاڑی زمین پر گر پڑے تھے، لیکن پھر ویڈیو اسسٹنٹ ریفری نے ریفری، برازیل کے رافیل کلوس کو مانیٹر پر بلایا۔اسلو موشن فوٹیج دیکھنے کے بعد، کلوس نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ بالوگون نے اپنا جوتا محمدووچ کے پیر پر رگڑا تھا اور ان کے ٹخنے پر بھی چوٹ پہنچائی تھی، جس کی وجہ سے انہیں سنگین فاؤل پلے کے باعث میدان سے باہر بھیج دیا گیا۔
بالوگون صدمے میں نظر آئے، وہ لڑکھڑاتے ہوئے سائیڈ لائن پر گئے جہاں کرسٹین پولسچ اور ٹم ویہ نے انہیں دلاسا دیا۔ ورلڈ کپ میں ریڈ کارڈ کے لیے ایک میچ کی معطلی لازمی ہے، حالانکہ امریکہ ممکنہ طور پر اس فیصلے کے خلاف اپیل کرے گا۔ بالوگون ورلڈ کپ میں ریڈ کارڈ پانے والے پانچویں امریکی کھلاڑی ہیں اور ۲۰۰۶ء کے فائنل میں فرانس کے زین الدین زیدان کے بعد کسی بھی ملک کے پہلے ایسے کھلاڑی ہیں جنہوں نے ایک ہی ناک آؤٹ میچ میں گول کرنے کے ساتھ ساتھ ریڈ کارڈ بھی حاصل کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:وزیر اعلیٰ وجےکی فلم ’’جنا نائیگن ‘‘ کو سینسر بورڈ سے ہری جھنڈی مل گئی
دس کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے، امریکہ نے نہ صرف اپنی برتری برقرار رکھی، بلکہ ۸۲؍ ویں منٹ میں ملک ٹلمین کی بوسنیائی دیوار کو بھیدتی ہوئی شاندار فری کک نے امریکہ کے لیے جیت کو یقینی بنا دیا۔ امریکہ نے تاریخ میں صرف دوسرا اور ۲۰۰۲ء کے بعد پہلا ورلڈ کپ ناک آؤٹ میچ جیتا ہے۔ اس جیت کے ساتھ ہی امریکی ٹیم نے یورپی ٹیموں کے خلاف مسلسل ۱۰؍ میچوں میں شکست کا سلسلہ بھی توڑ دیا ہے اور اب اگلے مرحلے میں ان کا سامنا بلجیم سے ہوگا، جہاں ان کے پاس بدلہ لینے کا موقع ہوگا۔
بلجیم نے انہیں ۲۰۱۴ء ورلڈ کپ کے راؤنڈ آف ۱۶؍ میں ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا تھا۔ کھیل کا شروعات کا حصہ کافی متوازن لگ رہا تھا۔ امریکہ کا کھیل پر پورا کنٹرول تھا اور گیند پر ان کا زیادہ وقت تک قبضہ تھا، لیکن ایسا لگ رہا تھا کہ بوسنیا یہی چاہتا تھا۔ انہوں نے امریکی حملوں کو ناکام بنایا، ڈیفینڈرز کو پھرتی سے بدلتے رہے اور کھیل کو میدان کے کناروں کی طرف ہی لے جاتے رہے۔ کچھ خطرناک مواقع بھی آئے، لیکن ہاف ٹائم آتے آتے امریکہ نے صرف ایک ہی شاٹ گول پر لگایا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:فیفا ورلڈ کپ:انگلینڈ نے ڈی آر کانگو کو ہرایا، راؤنڈ آف ۱۶؍ میں جگہ بنائی
بالوگون سب سے زیادہ مایوس کھلاڑیوں میں سے تھے، انہوں نے کئی بار اپنا ہاتھ زمین پر پٹکا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ بوسنیائی ڈیفینڈر مسلسل ان کی قمیض کھینچ رہے تھے، انہوں نے ریفری سے پنالٹی کا مطالبہ کیا جو انہیں نہیں ملا، اور ۳۳؍ ویں منٹ میں انہوں نے گول کر دیا تھا، لیکن اسے آف سائیڈ قرار دے کر منسوخ کر دیا گیا۔ بوسنیا کو پورا یقین تھا کہ انہوں نے میچ کو ہاف ٹائم تک برابری پر لانے کے لیے کافی کچھ کر لیا ہے۔ لیکن ۴۵؍ ویں منٹ میں ٹم ریم نے میدان کے بیچ میں گیند چھین لی اور ٹائلر ایڈمز کی طرف گیند بڑھائی، جنہوں نے بڑی چوتھرائی سے ٹلمین کو پاس دیا۔ مڈفیلڈر نے ایک ایسا پاس دیا جو اتفاقاً اچھلا، بوسنیائی دفاعی لائن نے اسے روکنے کی کوشش کی لیکن وہ اپنے ہی ساتھی کھلاڑی سے ٹکرا کر واپس آ گئی اور گیند بالوگون کے پاس گری، جنہوں نے اسے گول کیپر کے نیچے سے گول میں ڈال دیا۔