امریکی صدر کےنمائندوں کشنر اورملادینوف نے حماس سے وعدہ کیا کہ تحریک کے ہتھیار ڈالنے کے ساتھ ساتھ غزہ پٹی سے اسرائیلی فوج بھی نکل جائے گی، نمائندوں نے امریکی امن منصوبہ کی کامیابی کیلئےسبھی فریقوں پراپنی ذمہ داریاں ادا کرنے پر زور دیا، حماس کا اسرائیل کو وعدوں پرعمل کا پابند بنانے کا مطالبہ۔
غزہ بورڈ آف پیس کے نمائندہ اورمذاکرات کا جیرڈ کشنر۔ تصویر: آئی این این
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے نمائندے جیرڈ کشنر نے حماس کے ساتھ ملاقات میںغزہ سے اسرائیل کے انخلاء کاو عدہ کیا ہے۔’العربیہ‘ اور ’الحدث ‘کے ذرائع نے بتایا ہےکہ جیرڈ کشنر اور نیکولے ملادینوف نے حماس سے وعدہ کیا کہ تحریک کے ہتھیار ڈالنے کے ساتھ ساتھ غزہ پٹی سے اسرائیلی فوج بھی نکل جائے گی۔ یہ اقدام غزہ کے بارے میں واشنگٹن کے منصوبے کو آگے بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے ۔ جیرڈ کشنر نے مصر میں خلیل الحیہ کی سربراہی میں حماس کے وفد سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران خلیل الحیہ نے شہریوں کے مصائب کے خاتمے اور غزہ کی پٹی میں بحالی کی شروعات کیلئے ٹرمپ کے منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے حماس کے عزم کی تصدیق کی۔ حماس کے وفد میں خلیل الحیہ کے علاوہ، زاہر جبارین کی سربراہی میں مذاکراتی ٹیم کے اراکین بھی شامل تھے۔
یہ بھی پڑھئے:سی جے پی کا خوف، راجستھان کے اسکولوں میں باہری افراد کے داخلہ پر پابندی
ذرائع کے مطابق ٹرمپ کے نمائندے کشنر نے حماس کے نمائندوں سے کہا کہ غزہ میں امن صرف اسی صورت میں حاصل ہوگا جب تمام فریق امریکی امن منصوبے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں ۔ ذرائع نے مزید کہا کہ جیرڈ اور ملادینوف نے ہتھیاروں کو ذخیرہ کرنے کی حماس کی تجویز کو مسترد کر دیا اور تحریک کے رہنماؤں کو تاکید کی کہ اس کے ہتھیار غز ہ پٹی سے باہر جائیں گے اور وہاں ذخیرہ نہیں کیے جائیں گے۔ ذرائع نے بتایا کہ جیرڈ کشنر اور ملادینوف نے حماس کی جانب سے ہتھیار ڈالنے اور اس کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے پر اصرار کیا۔ ذرائع کے مطابق کشنر نے مصری شہر العلمین میں غزہ کی صورتحال سے متعلق کئی ملاقاتیں کی ہیں جن میں اسرائیل اور حماس کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں شامل ثالثوں اور غزہ پٹی کے بارے میں پیس کونسل کے اعلیٰ نمائندے ملادینوف کے ساتھ ملاقاتیں شامل ہیں۔
ایک سفارتی ذریعہ نے بتایا کہ ٹرمپ کے مندوبین نے اتوار کو قاہرہ میں مصر، قطر اور ترکی کے ثالثوں سے امریکی منصوبے کو آگے بڑھانے کی کوشش میں ملاقات کی۔ حماس کے کچھ لیڈروں نے ان میں سے بعض میٹنگوں میں شرکت کی۔ جیرڈ کشنر اور ملادینوف نے غزہ انتظامی کمیٹی کے ساتھ بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد کشنر اور ملادینوف اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے ملاقات کرنے کیلئے تل ابیب روانہ ہوگئے۔واضح رہے امریکی منصوبہ غزہ میں فوجی کارروائیوں کے فوری خاتمے، حماس کا غیر مسلح ہونا اورغزہ سے اسرائیلی افواج کے انخلاء کے نکات پر مبنی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ منصوبہ ایک نئی سویلین فلسطینی انتظامیہ کے تحت بحالی کے عمل کے آغاز کی بھی بنیاد رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’جنگ بندی کی امریکی کوشش جنگ کے نئے مرحلہ کی تیاری ہے‘‘
حماس کے نئے سربراہ خلیل الحیہ کی سربراہی میں ایک وفد العلمین پہنچا جہاں تحریک کے سیاسی دفتر کے نمائندوں نے مصری جنرل انٹیلی جنس سروس کے سربراہ حسن رشاد کے ساتھ غزہ کی صورتحال پر بات چیت کی۔ اس دوران ’حماس‘ نے ثالثوں اور امن کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور قابض اسرائیل کو جنگ بندی معاہدے کے پہلے مرحلے میں اپنے تمام وعدوں کو نافذ کرنے، خلاف ورزیاں ختم کرنے، قتل و غارت اور فوجی پیش قدمی روکنے، امریکی صدر ٹرمپ کے منصوبے کے دوسرے مرحلے کے روڈ میپ کی منظوری دینے اور اس کے نفاذ کیلئے ایک شیڈول تیار کرنے کا پابند بنائیں۔
غزہ امن منصوبہ مسترد کرنے کے نیتن یاہو کے فیصلے کی مذمت
سعودی عرب سمیت ۸؍ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل کی طرف سے صدر ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کو مسترد کرنے کی مذمت کی ہے۔ صدر ٹرمپ کے اس غزہ امن منصوبے پر عمل درآمد کیلئے ایک روڈ میپ حال ہی میں جاری کیا گیا جسے اسرائیل نے مسترد کر دیا ۔سعودی عرب، مصر، اردن ، پاکستان ، ترکی ، قطر ، انڈونیشیا اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کا یہ رویہ درحقیقت قیام امن کو ناکام بنانے کی کوشش ہے۔واضح رہے اسرائیل خود اس امن منصوبے کے اب تک سب سے بڑے استفادہ کنندہ کے طورپر سامنے آیا ہے مگر وہی ہٹ دھرمی پر بی قائم ہے ۔