اچانک اسے ایک ہچکی آئی اور وہ قربانی کا پیکر سراپا محبت ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگیا....
EPAPER
Updated: August 18, 2026, 1:54 PM IST | Arisha Kokab | Muzaffarnagar
اچانک اسے ایک ہچکی آئی اور وہ قربانی کا پیکر سراپا محبت ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگیا....
آج وہ بیمار کمزور سا وجود لئے بستر پر پڑا تھا۔ اُس کے آس پاس اس کے بیوی بچے تھے جو اس کی خدمت کے لئے موجود تھے۔ لیکن وہ پھر بھی خود کو بڑا تنہا محسوس کر رہا تھا۔ کمزوری اور بیماری نے اسے چڑچڑا بنا دیا تھا۔ ایک انسان جس نے زندگی بھر کام کیا ہو، دوسروں کی مدد کیلئے پیش پیش رہا ہو، جس نے اپنی پروا کئے بغیر دوسروں کیلئے اپنی ذات فنا کر دی ہو۔ وہ آج بستر پر مجبور پڑا تھا۔ آج وہ اپنے ان ہی رشتوں کو یاد کر رہا تھا جن کی اس نے جان و مال سے خدمت کی تھی۔ لیکن غرض پورا ہوتے ہی وہ بھی اس سے منہ موڑ چکے تھے۔ شاید اسی لئے وہ بیوی بچوں کے ہوتے ہوئے بھی خود کو بڑا تنہا محسوس کر رہا تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ اپنی بیوی اور بچوں سے محبت نہیں کرتا تھا۔ لیکن اظہار کرنے سے ڈرتا تھا۔یا شاید زندگی نے اتنی مہلت ہی نہیں دی کہ وہ ان کے پاس دو گھڑی بیٹھ بھی سکتا۔ اسکے بیوی بچے اس کے دائیں بائیں کھڑے اس سے بات کرنا چاہ رہے تھے اس کی دلجوئی کی کوشش کر رہے تھے۔ اس کے باوجود اس کے اندر کا چڑچڑا پن بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ اسے کسی کی بھی آواز اچھی نہیں لگ رہی تھی۔ وہ خالی خالی نظروں سے بس چھت کو گھورے جا رہا تھا۔ ان لوگوں کا انتظار کر رہا تھا جو اس کی ذات سے فائدہ اٹھا کر اسے بھول چکے تھے۔ جن لوگوں کو اس نے اپنی اولاد سے زیادہ اہمیت دی تھی وہ اسے فراموش کر چکے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: افسانہ : وہ خواب جو شرمندۂ تعبیر نہ ہوا
اس نے نظریں گھما کر اپنی بیٹی کو دیکھا جس کے ہاتھ میں فون تھا۔ اس کی نظر اس موبائل فون پر جم گئی۔ جیسے ابھی کسی کی کال آ جائے گی۔ اس کی بیٹی باپ کی نظروں کا مفہوم سمجھ گئی تھی اس نے جھٹ موبائل فون کو اپنے پیچھے کیا۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کا باپ اس بے جان چیز سے بھی کوئی امید باندھ لے۔ اس نے پھر سے اپنی آنکھیں چھت پر مرکوز کر لیں۔ اسے آج شدت سے وہ دن یاد آرہے تھے جب وہ چلنے پھرنے کے قابل تھا اور سب کی خیریت پوچھ کر سب کی ضروریات کا خیال رکھتا تھا۔ لیکن آج جب اسے اپنوں کی ضرورت ہے تو وہ لوگ اس سے منہ موڑ رہے ہیں۔ ہاں یہ وہی لوگ تھے جنہیں اس نے سب سے زیادہ اہمیت دی تھی۔ اس کی بیٹی اب اس کے سرہانے جا بیٹھی تھی۔ جیسے اسے دلاسہ دینے کی کوشش کر رہی ہو کہ مَیں ہوں آپ کے ساتھ، آپ اکیلے نہیں ہیں۔ وہ ہولے ہولے اس کے سر کو سہلا رہی تھی۔ وہ بیٹی کی اس ادا پر مسکرا دیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: کہانی: انسانیت اور ہمدردی
اسے بستر سے لگے ایک سال ہوچکا تھا اور یہ ایک سال کے ہر دن اس کے لئے صدیوں پر محیط تھے۔ اتنے دنوں میں نہ جانے کتنی بار اسے اپنی صحت یابی کی امید جگی تھی۔ اور نہ جانے کتنی بار ناامید ہوا تھا۔ اب وہ کمزور سا وجود لئے اپنی آخری سانسیں گن رہا تھا۔ اس کی بیوی بچے مسلسل اس کی خدمت اور اس کی دلجوئی میں مصروف تھے لیکن شاید اب اس میں جینے کی خواہش بالکل ہی ختم ہو چکی تھی۔ اس کے اندر کی مایوسی بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ دھیرے دھیرے اس کے دماغ نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا اسے کوئی بات یاد نہیں رہتی تھی۔ لیکن پرانی ساری باتیں یاد آتی تھیں۔ بعض اوقات وہ اپنی اولادوں کی شکلوں میں بھی ان کو ہی دیکھا کرتا تھا جنہوں نے اسے ہر طرح سے نقصان پہنچایا تھا۔ وہ اکثر و بیشتر چیخنے چلانے لگتا اور جب اس سے وجہ معلوم کی جاتی تو وہ یہی بتاتا کہ میں نے اس شخص کو اپنے نزدیک دیکھا ہے۔ اسے بھگاؤ وہ لوگ مجھے مار دیں گے۔ اس کی بیوی بچے اس کی اذیت کو محسوس کرسکتے تھے۔ لیکن اس کی تکلیف کو دور نہیں کرسکتے تھے۔
صبح و شام یوں ہی بے رنگ سے گزر رہی تھی۔ یہ فروری کی ایک سردراک تھے جب اس کی طبیعت زیادہ خراب ہونے لگی۔ پہلے ہی کسی چیز کی سکت نہیں تھی، اب بخار نے اسے مزید نڈھال کر دیا تھا۔ اس کی تمام اولادیں اس کے ارد گرد کھڑی تھیں۔ اس کی بیوی اس کے سرہانے بیٹھی تھی سبھی پریشان تھے۔ بخار کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ یہ رات سب کیلئے بڑی بھاری تھی۔
یہ بھی پڑھئے:افسانہ: پھپھو کا بیٹا
نہ جانے رات سب لوگ کتنے بجے سوئے تھے۔ قدرت کا اشارہ تھا شاید کہ اگلی صبح اور سخت ہونے والی ہے۔ صبح سب کی آنکھ بڑی دیر سے کھلی۔ اس کے بیٹے نے جا کر باپ کی پیشانی پر ہاتھ رکھا جو کہ بالکل نارمل تھا۔ اس نے خوشی خوشی ماں کو بتایا۔ اس کی بیوی بھی اٹھ کر اسے چیک کرنے لگی۔ واقعی میں اس کی طبیعت بہتر ہو رہی تھی۔ بخار کا زور ختم ہوچکا تھا۔ ایک ایک کرکے سبھی اُٹھ گئے۔ سبھی اسے دیکھ کر سکون محسوس کر رہے تھے۔ اس کی بیٹیاں کھانے کی تیاریاں کر رہی تھیں۔ اور اس کی بیوی اس کے کمرے کی صفائی کرنے لگی اور وہ گہرے نیند سو رہا تھا۔ کچھ دیر بعد اس نے اپنی آنکھیں کھولیں، اس کی بیوی نے بیٹیوں کی مدد سے اسے اٹھایا تاکہ کچھ کھلایا پلایا جائے۔ اس کی بیٹی دودھ گرم کرکے لائی لیکن اس کے نصیب کا رزق اس دنیا سے ختم ہو چکا تھا۔ یکایک اس کی سانس اکھڑنے لگی۔ جو دودھ اس کے منہ میں گیا تھا وہ باہر گر گیا۔ سبھی گھر والے رونے لگے۔ اس کی حالت بگڑنے لگی تھی یہ اس کے نزع کا وقت تھا۔ وہی وقت جب روح جسم کا ساتھ چھوڑنے لگتی ہے۔ اس کی بیٹی نے سورہ یٰسین کی تلاوت شروع کر دی۔ اسے اندازہ ہوگیا تھا کہ باپ پر سخت آن پڑی ہے۔ جسے وہ کلام پاک کی تلاوت سے آسان کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس نے آخری دفعہ آنکھیں کھول کر اپنی آل و اولاد کو دیکھا۔ اس کے اندر بولنے کی سکت نہیں تھی۔ لیکن اس کی نگاہیں بتا رہی تھیں کہ وہ آج اپنی بیوی اور بچوں سے محبت کا اظہار کرنا چاہ رہا تھا۔ لیکن جسے زندگی نے مہلت نہ دی، اسے قضا کہاں سے وقت دیتی۔ اچانک اسے ایک ہچکی آئی اور وہ قربانی کا پیکر سراپا محبت ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگیا۔ پھر دیکھنے والوں نے دیکھا کہ اس کے چہرے پر زمانے بھر کی تھکان موجود تھی۔ لیکن پھر بھی ایک سکون نمایاں تھا۔ جیسے کوئی دن بھر مشقت والا کام کرکے سکون پاتا ہے۔ بلا شبہ اس نے بہت مشقت بھری زندگی گزاری تھی۔ اور اب اسے سکون میسر آیا تھا، ابدی سکون۔
(افسانہ نگار ایم ایس سی زولوجی کی طالبہ ہیں)