• Wed, 07 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اوشا کھنہ بچپن ہی سے موسیقی ترتیب دینے لگی تھیں

Updated: October 07, 2026, 12:49 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

ہندی فلمی موسیقی کی تاریخ میں جب بھی خواتین موسیقاروں کا ذکرہوگا، اوشا کھنہ کا نام احترام کے ساتھ لیا جائے گا۔ وہ ایسے زمانے میں فلمی موسیقی کی دنیا میں داخل ہوئی تھیں جب اس شعبے پر مرد موسیقاروں کی مکمل اجارہ داری تھی۔

Usha Khanna has composed many excellent tunes. Photo: INN
اوشا کھنہ نے کئی عمدہ دھنیں تخلیق کی ہیں۔ تصویر: آئی این این

ہندی فلمی موسیقی کی تاریخ میں جب بھی خواتین موسیقاروں کا ذکرہوگا، اوشا کھنہ کا نام احترام کے ساتھ لیا جائے گا۔ وہ ایسے زمانے میں فلمی موسیقی کی دنیا میں داخل ہوئی تھیں جب اس شعبے پر مرد موسیقاروں کی مکمل اجارہ داری تھی۔ ایک کم عمر لڑکی کا فلموں کے لیے دھنیں ترتیب دینا اور پھر اپنی موسیقی سے کامیابی حاصل کرنا معمولی بات نہیں تھی۔ لیکن اوشا کھنہ نے نہ صرف یہ مشکل راستہ اختیار کیا بلکہ کئی دہائیوں تک فلمی دنیا میں اپنی جگہ برقرار رکھی۔

اوشا کھنہ۷؍اکتوبر ۱۹۴۱ءکوگوالیارمیںپیدا ہوئیں۔ ان کے والدمنوہر کھنہ شاعراور گیت نگار تھے اور موسیقی سے گہرا شغف رکھتے تھے۔گھرکایہی ماحول اوشا کھنہ کے لیے موسیقی کی پہلی درس گاہ بنا۔ انہوں نے کم عمری ہی میں دھنیں بنانا شروع کردی تھیں۔ اوشا کھنہ کے فلمی سفر میں موسیقار او پی نیّر کا کردار اہم رہا۔ انہوں نے اوشا کھنہ کو فلمی دنیا کی ایک بااثر شخصیت ششدھر مکھرجی سے متعارف کرایا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب اوشا کھنہ ششدھر مکھرجی سے ملنے گئیں تو انہیں گلوکارہ کے طور پر اپنی صلاحیت دکھانے کا موقع ملا۔

یہ بھی پڑھئے:میری والدہ کا مخصوص پاندان اور اُن کے ہاتھ کے بنائے گئے پان میوزک ڈائریکٹر اُوشاکھنہ کوبہت پسند تھے

۱۹۵۹ء میں اوشا کھنہ کو فلم ’دل دے کے دیکھو‘ میں موسیقار کی ذمہ داری ملی۔یہ فلم شمی کپور اور آشا پاریکھ کی اداکاری اور اپنی موسیقی کے باعث خاصی مقبول ہوئی۔ اس وقت اوشا کھنہ کی عمر تقریباً ۱۷؍ برس تھی۔ایک نوجوان لڑکی کا اتنی بڑی فلم کے لیے موسیقی ترتیب دینا اپنے آپ میں غیر معمولی واقعہ تھا۔ فلم کی کامیابی نے ثابت کردیا کہ اوشا کھنہ محض تجربے کے طور پر فلمی دنیا میں نہیں آئی تھیں بلکہ ان کے پاس واقعی دھن بنانے کی صلاحیت تھی۔فلم کی کامیابی کے بعد ششدھر مکھرجی نے انہیں ’ہم ہندوستانی‘ کیلئے بھی موسیقی ترتیب دینے کا موقع دیا۔ اس فلم میں بھی آشا پاریکھ نے اداکاری کی تھی۔ ’ہم ہندوستانی‘ کے گیتوں میں ’چھوڑو کل کی باتیں‘ خاص طور پر مقبول ہوا۔ اس گیت نے اوشا کھنہ کو فلمی موسیقی میں ایک الگ شناخت دینے میں مدد کی۔

اوشا کھنہ کی موسیقی کی ایک خاص بات یہ تھی کہ انہوں نے آشا بھوسلے اور محمد رفیع جیسے عظیم گلوکاروں کے ساتھ متعدد یادگار گیت دیے۔خاص طورپر محمد رفیع کی آواز میں ان کی کئی دھنیں آج بھی شائقین کو یاد ہیں۔ ’دل دے کے دیکھو‘، ’ہوس‘، ’آپ تو ایسے نہ تھے‘ اور ’ساجن کی سہیلی‘ جیسی فلموں میں رفیع کی آواز نے اوشا کھنہ کی دھنوں کو مزید مقبول بنایا۔ اوشا کھنہ اور آشا بھوسلے کی رفاقت بھی فلمی موسیقی میں خاصی کامیاب رہی۔ اوشا کھنہ نے ایک عرصے تک آشا بھوسلے کے ساتھ کام کیا اور دونوں نے مل کر کئی مقبول نغمے دیے۔

اوشا کھنہ نےصرف ہندی فلموں تک خود کو محدود نہیں رکھا۔ انہوں نے دوسری ہندوستانی زبانوں کی فلموں میں بھی موسیقی دی۔ ملیالم فلم ’مودل منجو‘ ۱۹۶۹ءمیںریلیز ہوئی تھی اور اس کی موسیقی بھی اوشا کھنہ نے ترتیب دی تھی۔ اس فلم کے گیتوں میں یسوداس اور ایس جانکی کی آوازیں شامل تھیں۔ اس طرح اوشا کھنہ نے اپنی موسیقی کو ہندی سنیما سے باہر بھی پہنچایا۔ فلمی دنیا کے ساتھ ساتھ اوشا کھنہ نے ٹیلی ویژن کے لیے بھی موسیقی ترتیب دی۔ ۱۹۹۰ءکی دہائی کے مقبول ٹی وی سیریل ’چندرکانتا‘ کے لیے بھی انہوں نے موسیقی دی تھی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بدلتے وقت کے ساتھ انہوں نے خود کو صرف فلمی پردے تک محدود نہیں رکھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK