اکولہ میں ۱۰؍ دن بعد جبکہ واشم اور بلڈانہ میں ۸؍ دن میں ایک بار پانی کی سپلائی۔ جالنہ کے کاٹے پورنا ڈیم میں صرف ۴۲ء۱۸؍ فیصد پانی ذخیرہ ۔ ۱۵؍ سے ۲۰؍گاؤں متاثر۔
EPAPER
Updated: October 07, 2026, 1:26 PM IST | Ali Imran | Akola/Jalna
اکولہ میں ۱۰؍ دن بعد جبکہ واشم اور بلڈانہ میں ۸؍ دن میں ایک بار پانی کی سپلائی۔ جالنہ کے کاٹے پورنا ڈیم میں صرف ۴۲ء۱۸؍ فیصد پانی ذخیرہ ۔ ۱۵؍ سے ۲۰؍گاؤں متاثر۔
ریاست بھر میں اس وقت خشک سالی کی سنگین صورتحال ہے جبکہ آنے والے دنوں میں اس کی شدت مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مغربی ودربھ میں خشک سالی کی مار اب کھیتوں سے نکل کر گھروں تک پہنچ گئی ہے۔ فصلیں سوکھ چکی ہیں، چارا ختم ہو چکا ہے اور اب پینے کے پانی کیلئے بھی لوگوں کو طویل انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ کہیں ایک ہفتے بعد تو کہیں دس دن بعد نل میں پانی آ رہا ہے۔
اکولہ کے شہریوں کو اب دس دن میں صرف ایک مرتبہ پانی فراہم کیا جائے گاجس کے باعث پانی کی قلت کا بحران مزید سنگین ہو گیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ڈیموں میں پانی کا ذخیرہ تیزی سے کم ہو رہا ہے اور مغربی ودربھ میں خشک سالی کی شدت دن بہ دن تشویشناک ہوتی جا رہی ہے۔ پینے حاصل کرنے کی جدوجہد کے آثار اب اکولہ سمیت مغربی ودربھ کے مختلف شہریوں کو صاف دکھائی دینے لگے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: نوی ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر مسافر سہولتوں میں اضافہ
ایک طرف کھیتوں میں کھڑی فصلیں پانی کی کمی کے باعث سوکھ گئی ہیں تو دوسری جانب محکمہ آب رسانی لمبے وقفہ کے بعد شہریوں کو پانی مہیا کررہا ہے۔ اکولہ کی صورتحال کتنی تشویشناک ہے، اس کا اندازہ کاٹے پورنا ڈیم میں موجود پانی کے ذخیرے سے لگایا جا سکتا ہے۔ ڈیم میں اس وقت محض ۱۸ء۴۲؍ فیصد پانی باقی ہے جبکہ گزشتہ سال اسی مدت میں یہ ذخیرہ تقریباً ۹۷؍ فیصد تھا جس کے نتیجے میں اکولہ شہر کو فی الحال سات دن میں ایک مرتبہ ہونے والی پانی کی فراہمی اب دس دن میں ایک مرتبہ کی جائے گی۔کاٹے پورنا ڈیم پر صرف اکولہ شہر کی پانی کی ضرورت منحصر نہیں ہے بلکہ اکولہ، مرتضیٰ پور، ایم آئی ڈی سی علاقے سمیت تقریباً ۶۰ ؍دیہات بھی اسی آبی ذخیرے پر انحصار کرتے ہیں۔ اس لئے ڈیم میں ہر گزرتے دن کے ساتھ کم ہوتا پانی مستقبل کے سنگین آبی بحران کے خطرے کی گھنٹی ثابت ہو رہا ہے۔
پانی کی قلت کا بحران صرف اکولہ تک محدود نہیں رہا۔ بلڈانہ، واشم، امراوتی اور ایوت محل ضلع میں بھی پانی کی قلت بڑھتی نظر آ رہی ہے۔ کہیں ایک ہفتے بعد نل میں پانی آ رہا ہے تو کہیں اس سے بھی زیادہ انتظار کرنا پڑ رہا ہے۔ دیہی علاقوں کے بعد اب شہروں میں بھی پینے کے پانی کیلئے ٹینکروں، کنوؤں اور دستیاب آبی وسائل پر انحصار کرنے کی نوبت آ گئی ہے۔
جالنہ کے۲۰؍ دیہاتوں میں پانی کا بحران گہرا ہو گیا
جالنہ ضلع کے امبڈ تعلقہ میں واقع بارسواڑہ میں گلہاٹی مدھیمپروجیکٹ مکمل طور پر سوکھ گیا ہے۔ اس پروجیکٹ پر منحصر تقریباً۱۵؍ سے۲۰؍ گاؤں اب پانی کے بحران کے خطرے سے دوچار ہیں۔ گلہاٹی مدھیم پروجیکٹ ان۱۵؍ سے۲۰؍ دیہاتوں کے لوگوں کو پینے کے پانی کے ساتھ ساتھ زراعت اور مویشیوں کیلئے پانی فراہم کرتا ہے۔ تاہم اس سال بارش کی کمی کے باعث اکتوبر میں یہ منصوبہ مکمل طور پر سوکھ گیا۔اس سال خریف کا موسم بھی بارش کی کمی کی وجہ سے کسانوں کیلئے مشکل تھا جبکہ واپسی کی بارش کی توقع تھی جس سے پرو جیکٹ میں پانی ذخیرہ ہو سکتا تھا اور کسانوں کو ربیع کے موسم کی کٹائی میں مدد مل سکتی تھی۔ تاہم اب موسم ختم ہونے کے وقت کی بارش کی کمی سے ربیع کے سیزن کو بھی خطرہ لاحق ہے۔
یہ بھی پڑھئے: لکھنؤ میں گیانیش کمار کے خلاف سماجوادی پارٹی اور کانگریس کے کارکنان کا زبردست احتجاج
گلہاٹی مدھیم پروجیکٹ کے خشک ہونے کی وجہ سے اس منصوبے پر منحصر۱۵؍ سے۲۰؍ دیہاتوں میں آنے والے دنوں میں پینے کے پانی کا مسئلہ سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔ اس کے علاوہ مویشیوں کیلئے پانی اور فصلوں کیلئے آبپاشی کے حوالے سے بھی ایک اہم بحران ہے۔ پانی کی کمی نے کسانوں کیلئے ربیع کی فصل کی کٹائی کے تعلق سے سوال کھڑا کر دیا ہے۔ گلہاٹی مدھیم پروجیکٹ اس علاقے کے کسانوں کیلئے آبپاشی کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
جب اس پروجیکٹ میں پانی دستیاب ہوتا ہے تو قریبی کسان اسے کاشتکاری کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ تاہم اس سال بارش کی کمی کے باعث یہ منصوبہ مکمل طور پر خشک ہو گیا ہے جس سے کسانوں اور دیہاتیوں کی پریشانیوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔ دیہاتیوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت بارش نہ ہوئی یا پانی کے متبادل انتظامات نہ کئے گئے تو آنے والے دنوں میں پینے کے پانی اور مویشیوں اور زراعت دونوں کیلئے پانی کا سنگین بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
حکومت اور انتظامیہ کو اس علاقے میں پانی کے بحران سے نمٹنے کیلئے فوری اور ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ دیہاتیوں نے حکومت سے متاثرہ دیہات کیلئے پینے کے پانی کے متبادل انتظامات کرنے اور زراعت اور مویشیوں کیلئے پانی کی قلت کو دور کرنے کے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
خشک سالی کے خلاف کسانوں کاانوکھا احتجاج
بلڈانہ ضلع کے سرحدی علاقے اور مدھیہ پردیش کی سرحد سے متصل جلگاؤں جامود تعلقہ میں منگل کو انوکھا احتجاج کیا گیا۔ جلگاؤں جامود تعلقہ کے کھانڈوی پھاٹا پر خشک سالی سے متاثرہ کسانوں کے مطالبات کی جانب حکومت اور انتظامیہ کی توجہ مبذول کرانے کیلئے مظاہرین براہِ راست ایک گہرے کنویں میں اتر گئے۔ اس احتجاج کے باعث انتظامیہ اور پولیس میں بھی ہلچل مچ گئی ہے۔
اس احتجاج کی قیادت سماجی کارکن اکشے پاٹل کر رہے ہیں۔ شیوداس کھیروڈکار، ویبھاؤ جانے اور آکاش آٹولے سمیت دیگر افراد نے بھی احتجاج میں شرکت کی۔مظاہرین نے مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خشک سالی کی سنگین صورتحال کے باوجود حکومت کی جانب سے کسانوں کو خاطر خواہ امداد نہیں مل رہی، جس کے باعث کسان شدید مالی بحران کا شکار ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے: امریکی خفیہ رپورٹ
احتجاج کی اطلاع ملتے ہی انتظامی مشینری حرکت میں آگئی اور مظاہرین کو احتجاج ختم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوششیں شروع کر دی گئیں۔
مغربی ودربھ میں پانی سپلائی کا وقفہ
امراوتی: ایک دن کے وقفے سے
اکولہ: ۱۰؍دن میں ایک مرتبہ
بلڈانہ: ۸؍ دن میں ایک مرتبہ
ایوت محل: ۳؍ دن میں ایک مرتبہ
واشم: ۸؍ دن میں ایک مرتبہ
مغربی ودربھ کے ڈیموں میں پانی کا ذخیرہ
ایوت محل : ۶۵ ؍فیصد
بلڈانہ : ۵۷ ؍فیصد
امراوتی : ۹۲ء۵۲ ؍فیصد
اکولہ : ۶۶ء۶۷؍فیصد
واشم : ۸۸ء۳۹؍فیصد