آل مالیگاؤں پاورلوم تنظیموں کی جانب سے بند میں پاپلین، پی سی، پالیسٹر اور کیمرک کپڑوں کے کارخانے شامل۔
EPAPER
Updated: October 07, 2026, 1:32 PM IST | Inquilab News Network | Jalgaon
آل مالیگاؤں پاورلوم تنظیموں کی جانب سے بند میں پاپلین، پی سی، پالیسٹر اور کیمرک کپڑوں کے کارخانے شامل۔
صنعتی شہر میں ایک مرتبہ پھر پاورلوم کارخانے بند کردیئے گئے ہیں۔ منگل ۶؍ اکتوبر سے ۱۲؍ اکتوبر کے درمیان کاروبار بند رہیں گے۔اس بند سے قبل پاورلوم صنعت کے حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیموں کی کئی منٹنگیں ہوئی تھیں۔حالات کے پیش نظر طے پایا کہ بحرانی کیفیت سے نمٹنے کیلئے کپڑے کا پروڈکشن روک دیا جائے۔ اِس بند میں پاپلین، پی سی،پالیسٹر اور کیمرک کپڑے تیار کرنے والے سبھی کارخانے شامل ہیں۔ اس بند کا اہتمام آل مالیگاؤں پاورلوم تنظیموں کی جانب سے کیا گیا ہے۔
صنعت کاروں کا بیان
حاجی یوسف الیاس نے کہا کہ بازار میں کپڑوں کے خریداری نہیں ہورہی ہیں۔خام مال کی قیمتیں آسمان چُھو رہی ہیں۔مختلف اقسام کے کپڑے تیار کرنے والے پارچہ بافوں کے مسائل حل کرنے کیلئے ریاستی کابینی وزیر دادا بھسے اور مالیگاؤں کے رُکن اسمبلی مفتی اسماعیل قاسمی سے ملاقات کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے:پونے: مطالبات منظور نہ کرنے پر رکن اسمبلی روہت پوار کا پونے بند کا انتباہ
ساجد انصاری نے کہا کہ مالیگاؤں کی معیشت پاورلوم انڈسٹری پر منحصر ہے۔ اِس صنعت کی موجودہ اَبتری کو بہتری میں بدلنے کیلئے ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔ کارخانے کے مالکان مہنگی بجلی سے بھی پریشان ہیں۔اربابِ اقتدار کو چاہئے کہ وہ ۶؍ مہینے کا بجلی بِل معاف کریں تاکہ بُنکروں کو جزوی راحت مل سکے۔
اس تعلق سے ایڈوکیٹ ہدایت اللہ نے کہا کہ ریاست میں خشک سالی کا سرکاری اعلان ہوگیا ہے۔ کاشتکاروں اور زرعی پیشہ افراد کے لئے حکومتی سطح پر راحتی اقدامات ہورہے ہیں، اُسی طرح پارچہ بافوں ، بُنکروں اور اس صنعت سے منسلک مزدوروں کے لئے بھی راحتی اقدامات کئے جائیں۔
یہ بھی پڑھئے:مغربی ودربھ میں پانی کی شدید قلت، بلڈانہ میں کسانوں کا کنویں میں اترکراحتجاج
پارچہ بافوں کا اتحاد صنعت کی بقاء
عارف عباس سیٹھ نے کہا کہ مالیگاؤں کی پاورلوم صنعت کا تحفظ پارچہ بافوں کے اتحاد پر منحصر ہے۔آبائی پیشہ اور بنیادی روزگار کو بچانے کیلئے پاورلوم صنعت سے سبھی شعبوں سے جڑے افراد ایک مرکز پر آجائیں۔صنعت کے ساتھ مالیگاؤں میں اس کے مفاد میں غور کرتے ہوئے اس بند میں شامل ہوں۔ بصورتِ دیگر معاشی خسارے کے سوا کچھ بھی ہاتھ نہیں آنے والا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس اہم مسئلے پر رُکن پارلیمنٹ ڈاکٹر شوبھا بچھاؤ کے توسط سے مرکزی حکومت تک رسائی حاصل کی جارہی ہے۔اس معاملے میں مرکزی حکومت مداخلت کرتے ہوئے ریاستی حکومت کو متنبہ کرے تو اس کے مثبت نتائج سامنے آسکتے ہیں۔
صرف مالیگاؤں میں ہی بند کیوں؟
(۱) سُوت اور خام مالوں کی قیمتوں میں یکطرفہ اضافے ۔ (۲) دیوالی کے تہوار پیش نظر کپڑا منڈیوں کی ڈائنگ بلیچنگ پروسیسنگ کارخانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی وطن روانگی ۔ (۳) کپڑے کے پیمنٹ کی ادائیگی میں تاجروں بیوپاریوں کی طرف سے تاخیر ۔ (۴)مہنگی بجلی کی وجہ سے کاسٹنگ میں فرق ۔(۵) ریاست کے دیگر پاورلوم مراکز پر حکومت کی توجہ اور مالیگاؤں سے چشم پوشی۔