آخری ۲؍ دنوں میں ملک کے کھلاڑیوں کی کارکردگی شاندار رہی، اگر یہ تسلسل شروع سے برقراررہتا تو یقیناً اور زیادہ تمغے آتے۔
EPAPER
Updated: October 07, 2026, 1:07 PM IST | Sports Desk | Mumbai
آخری ۲؍ دنوں میں ملک کے کھلاڑیوں کی کارکردگی شاندار رہی، اگر یہ تسلسل شروع سے برقراررہتا تو یقیناً اور زیادہ تمغے آتے۔
جاپان کے شہر ناگویا میں منعقد ہونے والے ایشیائی کھیلوں (ایشین گیمز/ایشیاڈ) میں ہندو ستا ن سے گزشتہ مقابلوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ شاندار کارکردگی کی توقع تھی۔ تیاریوں کے حوالے سے جو بیانات دئیے جا رہے تھے اور قومی و بین الاقوامی کوچز کی خدمات حاصل کی جا رہی تھیں، ان سے یہ خوش گوار احساس پیدا ہوا تھا کہ اس بار ہمارا ملک بہترین مظاہرہ کرتے ہوئے تمغوں کی مجموعی تعداد میں نمایاں اضافہ کرے گا۔ تاہم، توقعات کے برعکس ہانگژو ایشیاڈ کے ۱۰۷ ؍تمغوں کے مقابلے میں اس بار ۸۵ ؍تمغوں پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔مقابلوں کے آخری ۲؍ دنوں میں جس طرح شاندار کارکردگی کے ساتھ ہندوستان نے مسلسل طلائی تمغے سمیٹے، اس سے یہ عیاں ہو گیا کہ ہندوستانی دستے نے آخری لمحے تک اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرنے کا تہیہ کر رکھا تھا ۔ آخری روز کرکٹ، ہاکی، کشتی، تیر اندازی اور گولف میں طلائی تمغے حاصل ہوئے ۔ اگر یہی تسلسل اور کارکردگی آغاز ہی سے برقرار رہتی تو ممکنہ طورہندوستان کے تمغوں کی تعداد کافی زیادہ ہوسکتی تھی۔
یہ بھی پڑھئے:آئی پی ایل ۲۰۲۷ء سیزن کے لیے سورو گنگولی دہلی کیپٹلز کے ہیڈ کوچ مقرر
روایتی طور پر چین نے کھیلوں کے اس اکھاڑے میں اپنی برتری قائم رکھتے ہوئے ۱۶۹ ؍ طلائی تمغوں سمیت مجموعی طور پر ۳۴۱ ؍میڈلز جیتے ۔ قابل غورہے کہ آبادی کے لحاظ سے ہندوستان اور چین تقریباً ہم پلہ ہیں، لیکن جب کھیلوں کے میدان میں کارکردگی کی بات آتی ہے تو ہم کافی پچھڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ حتیٰ کہ جاپان اور کوریا بھی ہم سے آگے دکھائی دیتے ہیں۔ اب وقت کا تقاضا ہے کہ ہندوستان محض رسمی نمائندگی کے لئے ایشیائی کھیلوں میں شرکت نہ کرے بلکہ کھلاڑیوں کی تربیت اور استعداد کار میں سنجیدہ سرمایہ کاری کرے تاکہ وہ میدان میں فتح کے جھنڈے گاڑ کر ملک کا نام روشن کریں اور کھیل کود کی دنیا میں ’وشو گرو‘ بننے کی منزل کی جانب گامزن ہوں۔ہمیشہ کی طرح جب بھی کوئی بین الاقوامی کھیل کود کا میلہ سجتا ہے، ہندوستانی شائقین کی نگاہیں کرکٹ، ہاکی، نشانہ بازی، کشتی اور تیر اندازی پر ہی ٹکی رہتی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ غالباً یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے انہی کھیلوں پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے اور بڑی تعداد میں نوجوان ان کھیلوں میں قسمت آزمائی کا عزم کرتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں ایک بہترین باصلاحیت پول تیار ہوتا ہے، جن میں سے کئی کھلاڑی عالمی نہیں تو کم از کم ایشیائی سطح پر ضرور کامیابی کا پرچم لہراتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ناسک کی ۱۶؍ سالہ تیراک دیویہ مہاجن نے۱۴؍ گھنٹے۳۵؍ منٹ میں انگلش چینل عبور کرلیا
ناگویا کے ان کھیلوں میں جہاں ہم نے کرکٹ اور ہاکی کے زمرے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ’گولڈن ڈبل‘ اپنے نام کیا وہیں اس شاندار کامیابی کی بدولت مردوں اور خواتین کی ہاکی ٹیموں نے ۲۰۲۸ء کے لاس اینجلز اولمپک کھیلوں کے لئے براہ راست کوالیفائی بھی کر لیا۔ کرکٹ اور ہاکی دونوں ہی کھیلوں میں ٹیموں سے بڑی توقعات وابستہ تھیں اور کھلاڑیوں نے مایوس کرنے کے بجائے ملک کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ ایک دور ایسا بھی تھا جب عالمی ہاکی میں ہندوستان کا طوطی بولتا تھا، مگر گزشتہ چند دہائیوں میں اس کھیل کو کئی نشیب و فراز سے گزرنا پڑا۔ اب مسلسل ۲؍ ایشیائی کھیلوں میں طلائی تمغہ اس امر کا بین ثبوت ہے کہ ہندوستانی مردوں کی ہاکی ٹیم نے بین الاقوامی سطح پر اپنا کھویا ہوا وقار اور مضبوط پوزیشن بحال کر لی ہے۔
ناگویا ایشین گیمز میں اتھلیٹک ہندوستان کی تمغوں کی مہم کا سب سے بڑا سہارا ثابت ہوئی ۔ اس زمرے میں ہندوستان نے مجموعی طور پر ۲۴؍ تمغے جیتے۔ اس سے یہ روشن حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ہندوستانی کھیلوں کے نظام میں اتھلیٹک کی جڑیں تیزی سے مضبوط ہو رہی ہیں۔ اتھلیٹک میں اتنی بڑی تعداد میں تمغوں کا حصول اس لئے بھی زیادہ معنی رکھتا ہے کہ اس میں لمبی کود ، ہائی جمپ اور جیولن تھرو جیسے مقابلے شامل ہوتے ہیں جن میں ہندوستانی کھلاڑیوں کا ایشیائی سطح پر دبدبہ رہا ہے۔ ایک ہی زمرے سے اتنے زیادہ تمغے ملنا ملک میں کھیل کود کی متنوع صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ تیراندازی میںملک کی کا رکردگی سب سے یادگار رہی جس میں۵ ؍ طلائی،۲؍ نقرئی اور۲؍ کانسے سمیت کل ۹؍ تمغےملے۔تیر انداز کم کم موہودنے اپنے پہلے ہی ایشین گیمز میںگولڈن ڈبل کی کارکردگی دکھائی ۔ ناگویا ایشین گیمز سنسنی، حیرت اور کامرانی کے انمٹ اور یادگار لمحوں سے بھرپور رہے، تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم چند روایتی کھیلوں تک محدود رہنے کے بجائے ان شعبوں پر بھی بھرپور توجہ مرکوز کی جائے جہاں اب تک ہماری رسائی نہیں ہو سکی ہے۔مجموعی جائزہ لیا جائے تو ہم نے ناگویا میں تمغوں کی دوڑ میں چوتھا مقام حاصل کیا ہے، لیکن سرفہرست ۳؍ ممالک کے تمغوں کے انبار پر نظر ڈالی جائے تو ہم خود کو ہنوز کافی فاصلے پر پائیں گے۔ وقت کا تقاضا ہےکہ ہمیں ابھی سے قطر میں منعقد ہونے والے آئندہ کھیلوں کے لئے کمر بستہ ہوجانا چاہئے۔