Updated: May 24, 2026, 6:06 PM IST
| Mumbai
پروڈیوسر واشو بھگنانی نے ’’ہے جوانی تو عشق ہونا ہے‘‘ میں مشہور گانے ’’چنری چنری‘‘ کے دوبارہ استعمال پر شدید ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ گانا اصل میں ’’بیوی نمبر ون‘‘ کا حصہ تھا اور اس کے استعمال کے لیے انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ واشو نے ڈیوڈ دھون اور ورون پر بھی تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ’’قلی نمبر ون‘‘ کے مالی نقصان کے بعد کسی نے ان سے رابطہ تک نہیں کیا۔
بالی ووڈ کے سینئر پروڈیوسر واشو بھگنانی نے ہدایت کار ڈیوڈ دھون اور پروڈیوسر رمیش تورانی پر شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ان کی فلم ’’بیوی نمبر ون‘‘ کے مقبول گانے ’’چنری چنری‘‘ کو بغیر مناسب اجازت کے نئی فلم ’’ہے جوانی تو عشق ہونا ہے‘‘ میں استعمال کیا گیا۔ جمعہ کو میڈیا نمائندوں کے ساتھ ایک ورچوئل پریس کانفرنس میں واشو بھگنانی نے نہ صرف اس تنازعے پر کھل کر بات کی بلکہ’’قلی نمبر ون‘‘ کی ناکامی سے ہونے والے مالی نقصان کا ذکر کرتے ہوئے بھی اپنی مایوسی ظاہر کی۔
یہ بھی پڑھئے : ہومی واڈیا سنسنی خیز فلموں کے ذریعہ تفریح فراہم کرتے تھے
انہوں نے کہا کہ ’’قلی نمبر وَن‘‘ کی وجہ سے انہیں تقریباً ۲۷؍ کروڑ روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ ان کے مطابق، اگرچہ وہ فلم کے پروڈیوسر تھے، لیکن پروڈکشن اور اخراجات کا مکمل کنٹرول ڈیوڈ دھون کے پاس تھا۔ واشو بھگنانی نے دعویٰ کیا کہ ’’میں صرف نام کا پروڈیوسر تھا۔ ڈیوڈ جی نے تمام پروڈکشن سنبھالی تھی۔ میں نے ان کی فلم سازی کے لیے تقریباً ۷۰؍ کروڑ روپے ادا کیے، لیکن اس نقصان کے بعد نہ ڈیوڈ دھون نے اور نہ ہی ورون دھون نے کبھی پوچھا کہ نقصان کی بھرپائی کون کرے گا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے : کانز ۲۰۲۶ء: ایشوریہ رائے کےپنک گاؤن نے توجہ سمیٹ لی
انہوں نے مزید بتایا کہ کووڈ کے دوران ڈیوڈ دھون نے ان سے کہا تھا کہ وہ مستقبل میں نقصان کا خیال رکھیں گے اور اسی دوران دونوں نے ’’بیوی نمبر ون‘‘ کے ایک نئے ورژن پر بھی کام شروع کیا تھا۔ تاہم، چند ماہ بعد انہیں معلوم ہوا کہ ڈیوڈ دھون اور رمیش تورانی ایک نئی فلم پر ساتھ کام کر رہے ہیں۔ واشو بھگنانی کے مطابق اصل تنازع اس وقت پیدا ہوا جب انہیں معلوم ہوا کہ ’’چنری چنری‘‘ گانے کو ’’ہے جوانی تو عشق ہونا ہے‘‘ میں دوبارہ استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’میں نے ڈیوڈ دھون کو فون کر کے پوچھا کہ آپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟‘‘
انہوں نے وضاحت کی کہ ’’بیوی نمبر ون‘‘ کے آڈیو حقوق پہلے ہی Tips Industries کو فروخت کیے جا چکے تھے، لیکن ان کے مطابق اس کا مطلب یہ نہیں کہ اصل ویژول یا تخلیقی شناخت کو نئی فلم میں استعمال کیا جائے۔ پروڈیوسر نے الزام لگایا کہ انہیں اس معاملے میں اعتماد میں نہیں لیا گیا اور نہ ہی مناسب گفتگو کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’اگر رمیش تورانی نے حقوق خریدے بھی ہیں تو کم از کم ایک ہی گانا میرے پروڈکشن بینر سے لے کر اپنے بیٹے کی فلم میں استعمال کرنے سے پہلے مجھ سے بات تو کرنی چاہیے تھی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے : موہن لال کی مشہور تھرلر ’’درِیشیم‘‘ کا انڈونیشیائی ری میک بنے گا
رپورٹس کے مطابق پوجا انٹرٹینمنٹ نے اس معاملے پر قانونی کارروائی بھی شروع کر دی ہے۔ پروڈکشن ہاؤس نے الزام لگایا ہے کہ ’’چنری چنری‘‘ کا استعمال غیر مجاز طریقے سے کیا گیا۔ اطلاعات ہیں کہ بہار کے شہر کٹیہار کی ایک عدالت نے معاملے میں جمود برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے۔ دوسری جانب ’’ہے جوانی تو عشق ہونا ہے‘‘ کے ٹریلر اور گانوں کو سوشل میڈیا پر خاصی توجہ مل رہی ہے۔ فلم میں ورون دھون، مرنال ٹھاکر اور پوجا ہیگڑے مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ فلم ۵؍ جون ۲۰۲۶ء کو سنیما گھروں میں ریلیز ہوگی۔