• Mon, 26 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

وکرم بھٹ نے ڈرائونی فلموں کے ذریعہ خوب نام کمایا

Updated: January 26, 2026, 3:30 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

ہندی فلمی دنیا میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو کسی بڑے فلمی خانوادےکے سائے کے بغیر اپنی راہ خود تراشتے ہیں۔ وکرم بھٹ بھی انہی میں سے ایک ہیں۔

Vikram Bhatt is a horror film expert. Picture: INN
وکرم بھٹ ڈرائونی فلموں کے ماہر۔ تصویر: آئی این این
ہندی فلمی دنیا میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں جو کسی بڑے فلمی خانوادےکے سائے کے بغیر اپنی راہ خود تراشتے ہیں۔ وکرم بھٹ بھی انہی میں سے ایک ہیں۔ اگرچہ ان کے نام کے ساتھ ’بھٹ‘لگا ہونے کی وجہ سے اکثر لوگ انہیں مہیش بھٹ سے جوڑ دیتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ وکرم بھٹ کا مہیش بھٹ سے کوئی نسَبی یا خاندانی تعلق نہیں۔ ان کی پہچان مکمل طور پر ان کی اپنی محنت، موضوعاتی جرأت اور ایک مخصوص فلمی مزاج کی مرہونِ منت ہے۔
وکرم بھٹ کی پیدائش ۲۷؍جنوری ۱۹۶۹ءکو گجرات میں ہوئی۔ انہوں نے فلمی دنیا میں قدم کسی شاہانہ پس منظر کے ساتھ نہیں رکھا بلکہ معمولی سطح سے آغاز کیا۔نوجوانی ہی میں انہیں فلم سازی، کہانی اور انسانی نفسیات میں غیر معمولی دلچسپی پیدا ہو گئی تھی۔
فلمی کریئرکے ابتدائی دور میں انہوں نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر کام کیا اور پردے کے پیچھے رہ کر فلم کی باریکیوں کو سمجھا۔ یہی عملی تربیت آگے چل کر ان کے اسلوب کی بنیاد بنی۔
وکرم بھٹ نے ۱۹۹۰ءکی دہائی میں بطور ہدایتکار اپنی شناخت بناناشروع کی۔ ان کی ابتدائی فلمیں رومانوی اور جذباتی نوعیت کی تھیں جن میں انسانی رشتوں کی پیچیدگی کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ ان کی پہلی فلم جانم تھی جو زیادہ کامیاب نہیں رہی۔ اس کے بعد مدہوش، گنہگار،فریب، بمبئی کا بابو ریلیز ہوئیں۔
اس کے بعد ریلیز ہونے والی فلم’غلام‘(۱۹۹۸ء) ان کی زندگی کا اہم موڑ ثابت ہوئی۔ عام آدمی، اندرونی خوف، سماجی دباؤ اور بغاوت جیسے موضوعات پر بنی یہ فلم نہ صرف تجارتی طور پر کامیاب ہوئی بلکہ ناقدین کی توجہ بھی حاصل کی۔عام طور پر اسے ہالی ووڈ فلم ’آن دی واٹرفرنٹ‘سے متاثر مانا جاتا ہے، مگر وکرم بھٹ نے اسے ہندوستانی سماج کے تناظر میں ڈھال کر ایک نئی صورت دی۔
اگر وکرم بھٹ کو کسی ایک صنف نے پہچان دی تو وہ ہارر فلمیں ہیں۔  ۲۰۰۲ءمیں ریلیز ہونے والی فلم ’راز‘نے بالی ووڈ میں خوف کے تصور کونیا رخ دیا۔ یہ فلم صرف ڈر پر نہیں بلکہ نفسیاتی خوف، ماضی کے صدمات اور جذباتی الجھنوں پر مبنی تھی۔’راز‘کی کامیابی نے ثابت کر دیا کہ ہندی سنیما میں ہارر کو سنجیدگی سے پیش کیا جا سکتا ہے۔اس کے بعدانہوںنے ۱۹۲۰ء،شاپت، ہانٹیڈ تھی ڈی اور کریئچرجیسی فلمیں بنائی جنہوںنے وکرم بھٹ کو ہارر سنیما کا مستقل نام بنا دیا۔ ان کی فلموں میں خوف صرف چیخ و پکار نہیں بلکہ انسانی ذہن کے اندھیروں سے جنم لیتا ہے۔
وکرم بھٹ کی فلموں میں چند عناصر بار بار نظر آتے ہیں جن میں نفسیاتی کشمکش،ٹوٹے ہوئے رشتے،محبت اور خوف کا ملاپ اورماضی کے سائےوہ کرداروں کو محض اچھا یا بُرا نہیں بناتے بلکہ ان کے اندرونی تضادات کو اجاگرکرتےہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی فلمیں دیکھنے والے کو سوچنے پر مجبور کرتی ہیں۔وقت کے ساتھ وکرم بھٹ نے خود کو ڈیجیٹل دور کے مطابق ڈھالا۔انہوں نے ویب سیریز اور او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر بھی کام کیا، جہاں انہیں موضوعاتی آزادی زیادہ ملی۔ان کی ویب سیریز میں بھی وہی نفسیاتی گہرائی اور سنجیدہ لہجہ دکھائی دیتا ہے جو ان کی فلموں کی پہچان ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK