ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کی جانب سے جاری کردہ شو کاز نوٹس کے باوجود نامور خاتون پہلوان ونیش پھوگاٹ نے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے اشارے دیے ہیں۔
EPAPER
Updated: May 10, 2026, 6:08 PM IST | New Delhi
ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کی جانب سے جاری کردہ شو کاز نوٹس کے باوجود نامور خاتون پہلوان ونیش پھوگاٹ نے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے اشارے دیے ہیں۔
ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کی جانب سے جاری کردہ شو کاز نوٹس کے باوجود نامور خاتون پہلوان ونیش پھوگاٹ نے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے اشارے دیے ہیں۔سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے ونیش نے لکھا’’زندگی کسی گہرے بھنور میں پھنسی ہوئی ہے۔ دنیا میرے کردار میں خامیاں تلاش کرتی رہتی ہے۔ زندگی نے ہمیشہ آپ کا سر بلند رکھا ہے۔ کسی تلوار میں اتنی طاقت نہیں کہ اسے جھکا سکے۔ وہ اس جھٹکے کے باوجود لڑائی جاری رکھنے کا پختہ ارادہ رکھتی ہیں۔‘‘
ونیش پھوگاٹ کو ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کی جانب سے شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ اس نوٹس میں ونیش پر نظم و ضبط کی خلاف ورزی اور اینٹی ڈوپنگ قواعد کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ ونیش کو ۲۶؍ جون تک گھریلو ٹورنامنٹس میں حصہ لینے کے لیے نااہل قرار دیا گیا ہے۔ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا نے۱۵؍ صفحات پر مشتمل نوٹس میں الزام لگایا ہے کہ ونیش نے یونائیٹڈ ورلڈ ریسلنگ کے اینٹی ڈوپنگ قوانین کے تحت ریٹائرمنٹ سے واپسی کرنے والے کھلاڑیوں کے لیے لازمی چھ ماہ کی نوٹس مدت پوری نہیں کی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دو مرتبہ کی عالمی چیمپئن کو دوبارہ ریسلنگ میں واپسی کے لیے انتظار کرنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے:’دِریشیم ۳‘ کا زبردست ٹریلر جاری، خطرناک معمہ میں الجھے جارج کُٹّی
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ پیرس اولمپکس کے تنازع کے دوران ونیش کے اقدامات سے ہندوستانی ریسلنگ کی ساکھ کو مستقل نقصان پہنچا ہے۔ ان پر ڈبلیو ایف آئی کے آئین، یو ڈبلیو ڈبلیو انٹرنیشنل ریسلنگ قوانین اور اینٹی ڈوپنگ رہنما اصولوں کی خلاف ورزی کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔ ونیش کی نظر اتوار سے گونڈا میں شروع ہونے والے نیشنل اوپن رینکنگ ایونٹ کے ذریعے واپسی پر تھی۔ انہوں نے ۲۰۲۴ء کے پیرس اولمپکس میں فائنل سے قبل زیادہ وزن ہونے کی وجہ سے نااہل قرار دیے جانے کے بعد ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔
یہ بھی پڑھئے:فیفاورلڈ کپ ۲۰۲۶ء:ایران اپنے قومی پرچم اور وقار پر سمجھوتہ نہیں کرے گا
ونیش نے حال ہی میں دوبارہ کشتی میں واپسی کا اعلان کیا تھا تاکہ وہ عالمی سطح پر ہندوستان کے لیے تمغہ جیت سکیں اور اپنے ادھورے خواب کو پورا کر سکیں۔ تاہم اب انہیں اپنی واپسی کے لیے مزید انتظار کرنا ہوگا۔