جنوبی ۲۴؍ پرگنہ کے۱۵؍ بوتھوں پر ۹۰؍ فیصد پولنگ، ٹی ایم سی اور بی جے پی کارکنوںمیں جھڑپیں، مرکزی فورسیز پرزیادتی کا الزام۔
EPAPER
Updated: May 03, 2026, 9:29 AM IST | Kolkata
جنوبی ۲۴؍ پرگنہ کے۱۵؍ بوتھوں پر ۹۰؍ فیصد پولنگ، ٹی ایم سی اور بی جے پی کارکنوںمیں جھڑپیں، مرکزی فورسیز پرزیادتی کا الزام۔
بنگال اسمبلی انتخابات کے سلسلے میں جنوب ۲۴؍پرگنہ کے ۱۵؍ پولنگ بوتھوں پر دوبارہ ووٹنگ کا عمل مکمل ہو گیا جہاں تقریباً۹۰؍ فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ واضح رہےکہ الیکشن کمیشن نے انتخابی بدانتظامی اور تشدد کی اطلاعات موصول ہونے کے بعد ان حلقوں میں دوبارہ پولنگ کا حکم دیا تھا۔ ۲۹؍ اپریل کو ہونے والے دوسرے مرحلے کے انتخابات کے دوران یہاں ای وی ایم میں مبینہ طور پرچھیڑ چھاڑ کی شکایات بھی ملی تھیں جس کے بعد تمام حالات پر غور کرنے کے بعد گزشتہ روز ہی الیکشن کمیشن نے ان ۱۵؍ بوتھوں پر دوبارہ پولنگ کروانے کا اعلان کیا تھا۔ سنیچر کی شام سخت سیکوریٹی انتظامات کے درمیان ووٹنگ اپنے اختتام کو پہنچی،تاہم کچھ علاقوں میں زبردست کشیدگی رہی اور کچھ جگہوں پر تشدد کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض مقامات پر بی جے پی اور ٹی ایم سی کے کارکنوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جس سے کچھ دیر کے لئے وہاں حالات کشیدہ ہو گئے تھے تاہم سیکوریٹی فورسیز نے بروقت مداخلت کر کے حالات کو قابو میں کر لیا۔ حکمراں ترنمول کانگریس کی جانب سے الزام لگایا کہ مرکزی فورسیز کی جانب سے ان علاقوں میں طاقت کا استعمال کرتے ہوئےووٹرس کو ڈرایا دھمکایا گیااور انہیں پولنگ بوتھ تک جانے سے روکا گیا۔ حالانکہ الیکشن کمیشن اور بی جے پی نے ان الزامات کو مسترد کردیا۔
یہ بھی پڑھئے: کمرشیل سلنڈر مہنگا ہونے پر اپوزیشن نے مودی حکومت کو گھیرا
دوسری جانب بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے انتخابات میں اپنی جماعت کی واضح برتری کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترنمول کانگریس ۲۰۰؍ سے زائد نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوگی۔ انہوں نے اگزٹ پولس کو صرف اور صرف شیئر بازار کو متاثر کرنے کی کوشش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو اگزٹ پولس پر بھروسہ نہیں کرنا چاہئےکیوں کہ وہ جھوٹ کا پلندہ ہوتے ہیں۔
ادھر الیکشن کمیشن نے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کی ۴؍ مئی کو ہونے والی ووٹوں کی گنتی کے حوالے سےسیکوریٹی انتظامات کو مزید سخت کر دیا ہے۔سرکاری اطلاع کے مطابق ریاست میں اسمبلی انتخابات کے لئے پیر کو ہونے والی ووٹوں کی گنتی میں ۱۶۵؍ اضافی کاؤنٹنگ آبزرور اور۷۷؍ پولیس آبزرور تعینات کئے گئے ہیں۔ تاکہ گنتی کے مراکز پر امن و امان برقرار رہے اور پورا عمل پرامن اور منصفانہ ماحول میں مکمل ہو سکے۔ کمیشن کے مطابق ان مبصرین کی تعیناتی کا مقصد ووٹوں کی گنتی کو محفوظ، خوف سے پاک اور شفاف ماحول میں انجام دینا ہے۔کاؤنٹنگ مراکز میں داخلہ صرف کیو آر کوڈ پر مبنی فوٹو شناختی کارڈ کی بنیاد پر ہوگا جسے ریٹرننگ افسر جاری کرے گا۔ کاؤنٹنگ ہال کے اندر موبائل فون لے جانے کی اجازت صرف کاؤنٹنگ آبزرور اور ریٹرننگ افسر کو ہی ہوگی۔ ووٹوں کی گنتی کے دوران ہر مرحلے کے نتائج فارم ۱۷-سی (حصہ دوم) میں کاؤنٹنگ آبزرور کی موجودگی میں تیار کئے جائیں گے اور ایجنٹوں کے دستخط کے لئے شیئر کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ ہر میز پر تعینات مائیکرو آبزرور بھی نتائج کو آزادانہ طور پر درج کر کے کاؤنٹنگ آبزرور کے حوالے کریں گے تاکہ ملاپ کے ذریعے پورے عمل کی شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔