Updated: May 19, 2026, 9:02 PM IST
| Mumbai
ویر داس نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ اپنی کامیڈی میں صرف موجودہ بی جے پی حکومت کو نشانہ بناتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ایک صارف کے تبصرے کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کانگریس کے دورِ حکومت میں بھی وہ مسلسل سیاسی طنز کرتے رہے ہیں۔ ویر داس نے کہا کہ کامیڈی کا بنیادی مقصد اقتدار میں بیٹھے لوگوں پر سوال اٹھانا اور انہیں انسانی سطح پر لانا ہے۔
ویر داس نے سوشل میڈیا پر جاری بحث کے دوران ان دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ وہ اپنی کامیڈی اور سیاسی طنز میں صرف موجودہ بی جے پی حکومت کو نشانہ بناتے ہیں جبکہ اپوزیشن جماعتوں پر خاموش رہتے ہیں۔ یہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب ایک سوشل میڈیا صارف نے ویر داس پر الزام لگایا کہ انہوں نے کبھی اپوزیشن پارٹیوں، خاص طور پر کانگریس، سے سوال نہیں کیے اور سیاسی گفتگو کو ’’آلودہ‘‘ کیا ہے۔ اس کے جواب میں ویر داس نے ایک طویل پوسٹ میں کہا کہ انہوں نے موجودہ حکومت سے بہت پہلے کانگریس حکومت اور دیگر سیاسی لیڈروں پر بھی برسوں تک طنزیہ پروگرام کیے۔
یہ بھی پڑھئے : امتیاز علی کی ’’مَیں واپس آؤں گا‘‘کا ٹریلر جاری، محبت اور ہجرت کی کہانی
انہوں نے لکھا کہ ’’ہاں! سر، میں نے سات سال تک ہر رات پرائم ٹائم ٹیلی ویژن پر کانگریس کے بارے میں لطیفے کیے۔ اس حکومت سے پہلے اقتدار میں آنے والے تقریباً ہر لیڈر پر مزاح، گانے اور خاکے کیے، اور اگلی حکومتوں کے بارے میں بھی کرتا رہوں گا۔‘‘ ویر داس نے سیاسی طنز کے دفاع میں مشہور ہالی ووڈ فلم ’’اسپائیڈر مین‘‘ کے مشہور جملے ’’With great power comes great responsibility‘‘ کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ اقتدار کے ساتھ تنقید اور طنز کو برداشت کرنے کی ذمہ داری بھی آتی ہے۔
ایک اور پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ ’’جب آپ اقتدار میں ہوں گے تو آپ کی پیروڈی بھی ہوگی۔ یہ بہت بنیادی بات ہے۔ کسی لیڈر کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ مزاح اور طنز کو کس حد تک برداشت کر سکتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ تاریخ میں جب بھی کسی حکومت یا طاقتور شخصیت نے کامیڈی کو دبانے کی کوشش کی، اس کے نتیجے میں مزید طنز اور زیادہ عوامی ردعمل سامنے آیا۔ ویر داس کے مطابق کامیڈی صدیوں سے اقتدار کے ساتھ ایک ’’بہروپیا رشتہ‘‘ رکھتی ہے، جہاں مزاح طاقتور لوگوں کو ’’انسانی‘‘ بناتا ہے اور معاشرے کو تنقیدی سوچ کا موقع دیتا ہے۔
سوشل میڈیا پر ان کے بیانات کے بعد ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔ کچھ صارفین نے ویر داس کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی طنز جمہوری معاشروں کا لازمی حصہ ہے اور اقتدار میں موجود افراد کو عوامی تنقید برداشت کرنی چاہیے۔ ایک صارف نے لکھا کہ ’’کامیڈی ہمیشہ طاقتور لوگوں کے بارے میں ہوتی ہے، عام آدمی کے بارے میں نہیں۔ ویر داس صرف وہی کر رہے ہیں جو ایک کامیڈین کا کام ہے۔‘‘ تاہم، ناقدین نے الزام لگایا کہ ہندوستانی کامیڈی انڈسٹری اکثر مخصوص سیاسی نظریات کی طرف جھکاؤ رکھتی ہے۔ بعض صارفین نے یہ بھی کہا کہ مزاح کے نام پر مذہبی یا سیاسی حساسیت کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
یاد رہے کہ ویر داس ماضی میں بھی اپنے سیاسی اور سماجی تبصروں کی وجہ سے تنازعات کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ ان کا مشہور مونولوگ Two Indias عالمی سطح پر وائرل ہوا تھا، جس پر ہندوستان میں شدید سیاسی ردعمل ظاہر ہوا تھا۔ اس تمام بحث کے دوران ویر داس نے واضح کیا کہ کامیڈی کا مقصد کسی ایک جماعت کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ اقتدار سے سوال کرنا ہے۔ ان کے مطابق، ’’کامیڈی سے وہ توقع نہ رکھیں جو آپ کو اپنے سیاسی لیڈروں سے ملنی چاہیے۔‘‘