Inquilab Logo Happiest Places to Work

ویلکم ٹو دی جنگل: ۱۸؍ کٹ کے بعد سینسر بورڈ نے یو اے ۱۶؍ پلس سرٹیفکیٹ دیا

Updated: June 23, 2026, 3:58 PM IST | Mumbai

اکشے کمار کی طویل عرصے سے زیرِ انتظار کامیڈی فلم ’’ویلکم ٹو دی جنگل‘‘ ریلیز سے قبل سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن (سی بی ایف سی) کی جانچ سے گزر چکی ہے۔ بورڈ نے فلم کو یو اے ۱۶؍ پلس سرٹیفکیٹ جاری کرتے ہوئے ۱۸؍ ترامیم اور کٹوتیوں کی ہدایت دی ہے، جن میں بعض مکالموں، فوجی حوالوں، جنسی نوعیت کے مناظر اور بصری مواد میں تبدیلیاں شامل ہیں۔

Welcome to the jungle. Photo: INN
ویلکم ٹو دی جنگل۔ تصویر: آئی این این

اکشے کمار کی کثیر ستاروں سے سجی کامیڈی فلم ’’ویلکم ٹو دی جنگل‘‘ بالآخر طویل تاخیر کے بعد ریلیز کے لیے تیار ہے، تاہم سنیما گھروں تک پہنچنے سے پہلے فلم کو سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفکیشن (سی بی ایف سی) کی جانب سے متعدد ترامیم کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ رپورٹس کے مطابق سی بی ایف سی نے فلم کو یو اے ۱۶؍ پلس سرٹیفکیٹ جاری کیا ہے اور ساتھ ہی ۱۸؍ مختلف تبدیلیوں اور کٹوتیوں کی ہدایت دی ہے۔ ان ترامیم میں بعض مکالموں، جنسی نوعیت کے بصری مناظر، فوجی حوالوں اور بعض حساس اصطلاحات کو تبدیل یا حذف کرنا شامل ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سیامی کھیر نے ۲۰۰؍ سال پرانے درخت کے کٹنے پر اپنے غصے اور غم کا اظہار کیا

فلم کا حتمی رن ٹائم ۱۶۴؍ منٹ ۵۰؍ سیکنڈ (۲؍ گھنٹے ۴۴؍ منٹ ۵۰؍ سیکنڈ) مقرر کیا گیا ہے، جبکہ مجموعی طور پر تقریباً ۱۰؍ سیکنڈ کا مواد حذف کیا گیا ہے۔ سی بی ایف سی کی ہدایات کے مطابق متعدد مکالموں میں تبدیلی کی گئی ہے۔ ’’کشمیر کے پانی‘‘ پر مشتمل ایک مکالمہ مکمل طور پر حذف کر دیا گیا، جبکہ ’’دیش کی تائی‘‘ جیسا جملہ بھی فلم سے نکال دیا گیا ہے۔ اسی طرح ایک اور مکالمہ ’’کالا ادا ہوا… کوئلہ ہے‘‘ کو تبدیل کرکے ’’سادہ ادا ہوا… نمونہ ہوا ہے‘‘ کر دیا گیا ہے۔ لفظ ’’اندھا‘‘ (نابینا) کو بھی خاموش کر کے اس کی جگہ ’’ڈھیلا‘‘ استعمال کیا گیا ہے۔ فوجی حوالوں کے سلسلے میں بھی بورڈ نے تبدیلیوں کی سفارش کی۔ فلم میں استعمال ہونے والا ’’گورکھا رجمنٹ‘‘ کا حوالہ تبدیل کر کے ’’تم آرمی سے ہو؟‘‘ کر دیا گیا، جبکہ لفظ ’’جنرل‘‘ کو بعض مقامات پر ’’افسر‘‘ یا ’’سر‘‘ سے تبدیل کیا گیا ہے۔

بصری مواد کے حوالے سے بھی کئی ترامیم کی گئی ہیں۔ وندو دارا سنگھ کے ایک کلوز اپ شاٹ میں دکھائے گئے نازیبا ہاتھ کے اشارے کو تبدیل کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ دشا پٹانی اور جیکلین فرنانڈیز پر فلمائے گئے بعض بکنی شاٹس، جسمانی حرکات کے کلوز اپ مناظر اور دیگر حساس بصری مناظر کو مختصر یا حذف کیا گیا ہے۔ سی بی ایف سی نے فلم سازوں کو ہدایت دی ہے کہ جہاں بھی شراب نوشی کے مناظر موجود ہوں وہاں اسکرین پر مناسب انتباہی پیغامات اور شراب نوشی کے خلاف ڈسکلیمر بھی شامل کیے جائیں۔ ہدایت کار احمد خان کی اس فلم میں بالی ووڈ کے کئی بڑے نام ایک ساتھ نظر آئیں گے۔ فلم کی کاسٹ میں اکشے کمار، سنیل شیٹی، دشا پٹانی، جیکلین فرنانڈیز ، پریش راول، ارشد وارثی، جیکی شروف، راجپال یادو، روینہ ٹنڈن، لارا دتہ، فریدہ جلال، جانی لیور، شریاس تلپڑے اور تشار کپور شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: راج کمار ہیرانی کی فلموں میں حالات حقیقی ویلن ہوتے ہیں: وکرانت میسی

فلم کی کہانی ایک فلمی شوٹنگ کے پس منظر میں آگے بڑھتی ہے جہاں ایک گمشدہ سابق سپر اسٹار کی تلاش کے دوران مزاحیہ اور افراتفری سے بھرپور واقعات رونما ہوتے ہیں۔ ٹریلر کے مطابق فلم فرنچائز کے روایتی مزاح، غلط فہمیوں اور پاگل پن سے بھرپور انداز کو برقرار رکھتی ہے۔ فلم کی ایک اور خاص بات اکشے کمار اور روینہ ٹنڈن کی دوبارہ جوڑی ہے، جو تقریباً ۲۲؍ سال بعد ایک فلم میں اکٹھے نظر آئیں گے۔ یہ فلم ۲۶؍ جون کو دنیا بھر کے سنیما گھروں میں ریلیز ہوگی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK