ریٹائرڈ اے سی پی نے سیشن کورٹ میں عرضداشت داخل کی، تفتیشی ایجنسی کے کردار کی بھی جانچ کا مطالبہ، کل سماعت۔
EPAPER
Updated: August 30, 2026, 1:03 PM IST | Ejaz Abdul Gani | Kalyan
ریٹائرڈ اے سی پی نے سیشن کورٹ میں عرضداشت داخل کی، تفتیشی ایجنسی کے کردار کی بھی جانچ کا مطالبہ، کل سماعت۔
معروف صنعت کار مکیش امبانی کی رہائش گاہ انٹیلیا کیس کی تفتیش کے طریقۂ کار اور نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کے کردار کو چیلنج کرتے ہوئے ریٹائرڈ اسسٹنٹ پولیس کمشنر (اے سی پی) بی آر گھاڈگے نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ دائر کردہ عرضداشت میں نہ صرف مرکزی تفتیشی ایجنسی پر سوالیہ نشان لگائے گئے ہیں بلکہ ممبئی کے سابق متنازع پولیس کمشنر پرم بیر سنگھ کے کردار پر بھی سنگین الزامات عائد کئے گئے ہیں جس کی باقاعدہ سماعت پیر کے روز طے ہے۔ اس قانونی پیش رفت کے تناظر میں کلیان میں ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جہاں بی آر گھاڈگے اور ان کے وکیل بھوشن بیندرے نے میڈیا کو عرضداشت کے اہم نکات اور اس کے قانونی پہلوؤں سے آگاہ کیا۔
پریس کانفرنس میں ریٹائرڈ اے سی پی بی آر گھاڈگے اور ان کے ایڈوکیٹ بھوشن بیندرے نے اس معاملے سے متعلق اہم تفصیلات ذرائع ابلاغ کے سامنے پیش کیں۔ انہوں نے بتایا کہ انٹیلیا معاملے میں ٹیلی گرام کے ذریعے ایک پیغام موصول ہوا تھا جس میں ’ جیش اُل ہند‘ نام کی تنظیم کی جانب سے معاملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: یکم ستمبر سے ۵؍مقامات پر ایس آئی آر ہیلپ ڈیسک
گھاڈگے کے مطابق ۲۱ ؍مارچ ۲۰۲۱ء کو سائبر ماہر ایشانت سنہا نے مذکورہ پیغام سے متعلق معلومات اُس وقت کے ممبئی پولیس کمشنر پرم بیر سنگھ کو فراہم کی تھیں۔ سائبر ماہر نے مبینہ طور پر این آئی اے کو دئیے گئے اپنے بیان میں بتایا تھا کہ `جیش اُل ہند کی جانب سے بھیجا گیا پیغام تہاڑ جیل سے آپریٹ کیا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ پرم بیر سنگھ نے ایشانت سنہا کو مذکورہ معلومات ممبئی پولیس کمشنر کے سرکاری ای میل پر بھیجنے کی ہدایت دی تھی۔ گھاڈگے اور ایڈووکیٹ بیندرے کا دعویٰ ہے کہ اس کام کیلئے سائبر ماہر کو ۵؍ لاکھ روپے ادا کئے گئے تھے۔ ان کے مطابق اس ادائیگی اور دیگر اہم تفصیلات کا ذکر ایشانت سنہا نے تفتیشی ایجنسی کے سامنے ریکارڈ کرائے گئے اپنے بیان میں کیا ہے۔ گھاڈگے اور ان کے وکیل کا مزید دعویٰ ہے کہ ایشانت سنہا کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ میں بعد میں بعض معلومات مبینہ طور پر بڑھا دی گئیں اور اس کے بعد رپورٹ کو آگے بھیجا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں بھی سنہا کے این آئی اے کے سامنے دئیے گئے بیان میں اہم تفصیلات موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایشانت سنہا نے ۲۵؍ اگست ۲۰۲۱ ءکو تفتیشی ایجنسی کے افسران کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کرایا تھا اور وہ اس معاملے کی تفتیش میں گواہ نمبر ۱۵۲؍ ہیں۔ پریس کانفرنس کے دوران گھاڈگے اور ایڈووکیٹ بھوشن بیندرے نے سنہا کے بیان کی نقل بھی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سامنے پیش کی۔
اس پورے معاملے کی بنیاد پر بی آر گھاڈگے نے پرم بیر سنگھ کے کردار پر متعدد سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سائبر ماہر کو ۵؍ لاکھ روپے کی رقم کس مقصد کیلئےدی گئی؟ یہ رقم کہاں سے فراہم کی گئی؟سائبر ماہر کی تیار کردہ رپورٹ میں مبینہ طور پر اضافی معلومات کیوں شامل کی گئیں ؟ اور اگر ان معاملات کے شواہد موجود ہیں تو پرم بیر سنگھ کو اس معاملے میں ملزم کیوں نہیں بنایا گیا؟گھاڈگے اور ان کے وکیل کا کہنا ہے کہ انہی سوالات کے جوابات حاصل کرنے اور این آئی اے کے کردار کی بھی مکمل جانچ کرانے کے مقصد سے ممبئی سیشن کورٹ میں عرضی داخل کی گئی ہے۔ اب اس عرضی پر پیر کو ہونے والی سماعت میں عدالت کا رخ کیا رہتا ہے اس پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔