شکر، گُڑ، چاول، پیاز اور انڈوں کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ اب کھاری، بٹر، ٹوسٹ اور بسکٹ وغیرہ کی قیمتیں بھی بڑھیں۔
EPAPER
Updated: August 30, 2026, 1:04 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
شکر، گُڑ، چاول، پیاز اور انڈوں کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ اب کھاری، بٹر، ٹوسٹ اور بسکٹ وغیرہ کی قیمتیں بھی بڑھیں۔
شکر، گُڑ، چاول، پیاز اور انڈوں کی قیمتوں میں ہونے والے ہوش ربا اضافے کے ساتھ اب بیکری مصنوعات کے داموں کے بڑھنے سے عام شہریوں کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ حالانکہ بیکری اسوسی ایشن نےاپنے مصنوعات کی قیمتوں میں اضافےکاباقاعدہ اعلان نہیں کیا ہے لیکن شکر اور میدہ کی قیمتیں بڑھنے سے شہرو مضافات کے بیکری والے اپنے طور پر کھاری، بٹر، ٹوسٹ اور بسکٹ وغیرہ کی قیمتیں بڑھا نے پر مجبور ہیں ۔ شکر، گُڑ، چاول، پیاز اور انڈوں کی قیمتوں میں آنے والے اچانک اُچھال کے ساتھ اب بیکری مصنوعات کی قیمتیں بھی اچانک بڑھ رہی ہیں ۔ کچھ دنوں پہلے جو کھاری اور بٹر ۲۰۰؍ روپے کلو دستیاب تھے، وہ اچانک ۲۴۰؍ روپے کلوہو گیا ہے۔ ان اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ شکر اور میدہ کی بڑھتی قیمت بتائی گئی ہے۔
مدنپورہ، محمد عمر رجب روڈ کے ایک صارف نے بتایا کہ ’’ میں جس بیکری سے روزانہ ٹوسٹ، بٹراور کھاری وغیرہ خریدتا ہوں، چند دنوں قبل یہ آئٹم ۵۰؍روپےمیں پائوکلو دسیتاب تھا۔ سنیچر کواس دکان پرجب ٹوسٹ خریدنے گیا تو سیلزمین نے بتایا کہ پائوکلو ٹوسٹ کی قیمت ۵۰؍ کے بجائے ۶۰؍ روپے ہو گئی ہے۔ اب ٹوسٹ ۶۰؍روپے کا پائو کلو ملے گا۔ وجہ دریافت کرنے پر اس نے بتایا کہ بیکری آئٹم کی تیاری میں استعمال ہونے والاخام مال مثلاً شکر اور میدہ وغیرہ کی قیمتیں آسمان چُھو ر ہی ہیں ۔ مجبوراً ہمیں بھی قیمت بڑھانی پڑی ہے۔ ‘‘واضح رہے کہ بیکری مصنوعات ہماری روزمرہ کی خوراک کا ایک اہم حصہ ہیں۔ خردہ مارکیٹ میں پائو کلو کھاری یا ٹوسٹ خریدنے پر اضافی ۱۰؍روپے کا بوجھ پڑنے سے صارف میں بےچینی پائی جا رہی ہے۔ صارفین کو اضافی ۱۰؍ روپے ادا کرنے پڑ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: جنک فوڈپر پابندی کے بعدایف ڈی اے کا مڈڈے میل کےمعائنہ کا اعلان
فورٹ پر واقع ایڈورڈ بیکری کے مالک عمیش صدیقی نے بتایا کہ ’’مہنگائی کے اس دور میں بیکری کا کاروبار نقصان کا سودا ہے۔ لکڑی بھٹی کے بند ہونے سے بڑا نقصا ن پہنچا ہے۔ لکڑی بھٹی سے جو کام ایک ہزارروپے میں ہو جاتا تھا، اب الیکٹرک اور گیس بھٹی سے وہ کام ۷؍ہزار روپے میں ہو رہا ہے جس کی وجہ سے مال کی لاگت بڑھ گئی ہے۔ دوسرے ایک مہینے میں میدہ کی ۵۰؍ کلوکی بوری کی قیمت میں مرحلہ وار ۳۰۰؍روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ ابھی میدہ کی قیمت بڑھ ہی رہی تھی کہ اچانک شکر کی قیمت میں فی کلو ۲۰؍سے ۲۵؍روپے کا اضافہ ہونے سے بیکری والوں کی کمر ہی ٹوٹ گئی۔ اس کے باوجود بیکری والے آج بھی ۱۲؍ روپے میں ایک لادی پائو فروخت کر رہے ہیں جبکہ اس کی تیاری پر ۱۲؍روپے سے کہیں زیادہ لاگت آرہی ہے لہٰذا ان دنوں بیکری کے کاروبار میں نقصان ہو رہا ہے۔ ‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’ جنوبی ممبئی۲؍ اور نوی ممبئی میں میری ایک بیکری ہے۔ میں نے ابھی تک کسی آئٹم کادام نہیں بڑھایا ہے لیکن چند دنوں میں دام بڑھاناناگزیر ہے۔ ‘‘
بامبے بیکری اسوسی ایشن کے صدر ناصر انصاری سے بھی اس معاملہ میں استفسار کرنے کیلئے انہیں موبائل پر فون کیا گیالیکن ان سے بات نہیں ہوسکی۔
اپنے طور پر قیمتیں بڑھانے پر مجبور
بیکری آئٹم کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال کی قیمتوں میں اضافہ ہونے پربھی بیکری اسوسی ایشن نے باقاعدہ بیکری مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کا اعلان نہیں کیا ہے لیکن قیمتیں بڑھانے کےسوا کوئی چارہ بھی نہیں ہے، اسی لئے شہر ومضافات میں متعدد بیکریاں اپنے طورپر کھاری، بٹر، ٹوسٹ اور بسکٹ وغیرہ کی قیمتیں بڑھانے پر مجبور ہیں ۔