Updated: September 03, 2026, 8:04 PM IST
| Karachi
پاکستان کے سابق عظیم فاسٹ بولر وسیم اکرم نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کرکٹ میچوں کو غیر ضروری جذبات اور سیاسی تنازعات سے جوڑنے کے بجائے انہیں صرف ایک کھیل کے طور پر دیکھنے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مقابلے ہمیشہ سنسنی خیز ہوتے ہیں، لیکن میچ ختم ہونے کے بعد شائقین کو کھیل کے نتیجے کو دشمنی یا طویل عرصے تک جاری رہنے والی کشیدگی کی وجہ نہیں بنانا چاہیے۔
ہندوستان اور پاکستان کا میچ۔ تصویر:آئی این این
پاکستان کے سابق عظیم فاسٹ بولر وسیم اکرم نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کرکٹ میچوں کو غیر ضروری جذبات اور سیاسی تنازعات سے جوڑنے کے بجائے انہیں صرف ایک کھیل کے طور پر دیکھنے کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مقابلے ہمیشہ سنسنی خیز ہوتے ہیں، لیکن میچ ختم ہونے کے بعد شائقین کو کھیل کے نتیجے کو دشمنی یا طویل عرصے تک جاری رہنے والی کشیدگی کی وجہ نہیں بنانا چاہیے۔
وسیم اکرم نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کرکٹ کی رقابت میں ماضی کے واقعات، سیاسی معاملات اور حد سے زیادہ جذبات کو شامل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے مطابق، آخرکار یہ صرف ایک کھیل ہے، جس میں ایک ٹیم جیتتی ہے اور دوسری کو شکست ہوتی ہے، اس کے بعد اگلے مقابلے کی طرف بڑھ جانا چاہیے۔
ایک منٹ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے وسیم اکرم نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کرکٹ میچوں کے حوالے سے شائقین کے غیر معمولی جوش و جذبے پر بات کی۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ کرکٹ کا میچ دو ٹیموں کے درمیان ایک کھیل ہے۔ کسی ایک ٹیم کو کامیابی حاصل کرنی ہے اور دوسری کو شکست، لیکن میچ کے نتیجے کو برسوں تک دل میں رکھنا مناسب نہیں۔
اکرم کے مطابق ماضی کے واقعات کو بار بار یاد کرکے بدلے یا انتقام کی باتیں کرنا درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے خیالات بہت پرانے زمانے سے چلے آ رہے ہیں اور آج کے دور میں کھیل کو کھیل کی طرح ہی دیکھا جانا چاہیے۔انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ لوگوں کے پاس بہت وقت ہے، لیکن انہیں سمجھنا چاہیے کہ ’’یہ بس ایک کھیل ہے، آخرکار یہ صرف ایک میچ ہے۔ کسی کو جیتنا ہے، کسی کو ہارنا ہے اور پھر اگلے میچ کی طرف بڑھنا ہے۔‘‘
وسیم اکرم نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ کئی دہائیوں پرانے واقعات آج بھی ہندوستان اور پاکستان کے شائقین کے جذبات پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ان کے مطابق۱۹۷۰ء کی دہائی کے واقعات یا اس سے بھی پرانی باتوں کو موجودہ کرکٹ مقابلوں کے ساتھ جوڑنا مناسب نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کھیل کو بدلے یا دشمنی کے جذبے سے دیکھنے کے بجائے شائقین کو مثبت انداز میں مقابلے سے لطف اندوز ہونا چاہیے۔
گفتگو کے دوران وسیم اکرم نے سابق ہندوستانی آل راؤنڈر عرفان پٹھان کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلق کا بھی ذکر کیا۔ دونوں کے درمیان کئی برس سے اچھے تعلقات ہیں اور وہ ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں۔ وسیم اکرم نے بتایا کہ ان کی عرفان پٹھان سے پہلی ملاقات ۲۰۰۴ء میں آسٹریلیا کے دورے کے دوران ہوئی تھی۔ اس وقت عرفان پٹھان بین الاقوامی کرکٹ میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے، جبکہ اکرم کمنٹری کر رہے تھے۔ اکرم کے مطابق، عرفان پٹھان ان کے بڑے مداح تھے اور پاکستان کے عظیم بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولر کو دیکھ کر بڑے ہوئے تھے۔ انہوں نے نوجوان عرفان کو کچھ مشورے بھی دیے تھے۔
یہ بھی پڑھئے:توحید ہردوئے کی ریکارڈ ساز اننگز نے ٹیسٹ کرکٹ کے دروازے پر پھر دستک دے دی
وسیم اکرم نے کہا کہ عرفان پٹھان کا بولنگ ایکشن شروع ہی سے ان کے ایکشن سے کافی مشابہ تھا، تاہم جب کوئی کھلاڑی بین الاقوامی سطح پر پہنچ جاتا ہے تو اس وقت اسے بنیادی ایکشن تبدیل کرنے کے بجائے ذہنی مضبوطی اور کھیل کی حکمت عملی پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ وسیم اکرم نے بتایا کہ وہ نوجوان کھلاڑیوں کو تکنیک تبدیل کرنے کے بجائے اس بات پر توجہ دینے کا مشورہ دیتے تھے کہ مختلف حالات میں اپنی صلاحیتوں کا استعمال کس طرح کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایک فاسٹ بولر کے لیے یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ کب گیند میں ورائٹی استعمال کرنی ہے اور کب نہیں ۔ ان کے مطابق، اعلیٰ سطح کے کھلاڑی پہلے ہی اپنی بنیادی تکنیک پر عبور حاصل کر چکے ہوتے ہیں، اس لیے انہیں میچ کی صورتحال کے مطابق درست فیصلے کرنے کی تربیت زیادہ اہم ہوتی ہے۔
اکرم نے عرفان پٹھان کو ’’اچھا لڑکا‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اب بھی ان سے ملاقات کرتے رہتے ہیں۔ وسیم اکرم نے مذاقاً کہا کہ عرفان پٹھان کبھی کبھار پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پر کچھ نہ کچھ پوسٹ کرتے رہتے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ پاکستانی شائقین بھی سوشل میڈیا پر نظر رکھتے ہیں اور وہ اس کا جواب دینے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ اکرم کے مطابق، دونوں ممالک کے شائقین کے درمیان سوشل میڈیا کی نوک جھونک اپنی جگہ، لیکن اسے حقیقی زندگی میں دشمنی یا نفرت میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھئے:ہیری پوٹر سیریز کا نیا ٹریلر جاری، جادوگروں کی نئی نسل ہاگ وارٹس پہنچ گئی
عرفان پٹھان نے ۲۰۰۳ء میں آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ کرکٹ میں ڈیبیو کیا تھا اور جلد ہی وہ ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے اہم آل راؤنڈرز میں شمار ہونے لگے۔ بائیں ہاتھ کی تیز گیند بازی، نئی گیند کو سوئنگ کرانے کی صلاحیت اور جارحانہ بولنگ ایکشن کی وجہ سے ان کے کریئر کے ابتدائی دور میں ان کا موازنہ اکثر وسیم اکرم سے کیا جاتا تھا۔ وسیم اکرم کے مطابق، اگرچہ عرفان کے بولنگ ایکشن میں ان سے مشابہت تھی، لیکن ایک کھلاڑی کی کامیابی صرف ایکشن یا تکنیک پر منحصر نہیں ہوتی۔ اعلیٰ سطح پر کامیابی کے لیے ذہنی مضبوطی، صورتحال کو سمجھنے کی صلاحیت اور درست وقت پر درست گیند کا انتخاب بھی انتہائی اہم ہے۔