ایل پی جی کی قلت: کئی ڈیری آپریٹرز اور مالکان کا کہنا ہے کہ دودھ کے پیکٹ بنانے والی فیکٹریوں کو گیس کی مناسب سپلائی نہیں مل رہی، جس کی وجہ سے پیداوار متاثر ہو رہی ہے اور اس کے نتیجے میں دودھ کی صنعت میں کمی پیدا ہو رہی ہے۔
EPAPER
Updated: March 16, 2026, 3:32 PM IST | New Delhi
ایل پی جی کی قلت: کئی ڈیری آپریٹرز اور مالکان کا کہنا ہے کہ دودھ کے پیکٹ بنانے والی فیکٹریوں کو گیس کی مناسب سپلائی نہیں مل رہی، جس کی وجہ سے پیداوار متاثر ہو رہی ہے اور اس کے نتیجے میں دودھ کی صنعت میں کمی پیدا ہو رہی ہے۔
مہمان نوازی اور فوڈ بزنس کے شعبوں کے بعد کیا ایل پی جی کی سپلائی کے بارے میں جاری غیر یقینی صورتحال اب ڈیری صنعت کو بھی متاثر کرے گی؟ مہاراشٹر کی کئی ڈیریز نے دودھ کی پروسیسنگ اور پیسچرائزیشن میں سست روی کے ساتھ ساتھ دودھ کے پیکٹ اور کارٹن کی کمی پر تشویش ظاہر کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان کی پیداوار مغربی ایشیا میں امریکہ اسرائیل ایران جنگ سے پیدا ہونے والے توانائی بحران کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے۔
ایک ویب سائٹ مطابق کئی ڈیری آپریٹرز اور مالکان کا کہنا ہے کہ دودھ کے پیکٹ اور کارٹن بنانے والی فیکٹریوں کو گیس کی مناسب سپلائی نہیں مل رہی، جس کی وجہ سے پیداوار متاثر ہو رہی ہے اور اس کے نتیجے میں دودھ کی صنعت میں کمی پیدا ہو رہی ہے۔گوردھن ڈیری کے بانی اور صدر دیویندر شاہ نے کہا کہ اس وقت دودھ کے پیکٹ اور کارٹن آسانی سے دستیاب نہیں ہیں کیونکہ انہیں بنانے والی فیکٹریوں کو کافی گیس نہیں مل رہی۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ سپلائی صرف ۱۰؍دن تک چل سکتی ہے۔
ہوٹلوں، ریستورانوں اور ہول سیل خریداروں کی جانب سے دودھ کی طلب بھی کم ہو گئی ہے کیونکہ ایل پی جی کی کمی کے باعث کئی تجارتی کچن کو اپنے مینو کم کرنے پڑے ہیں۔ اس کے نتیجے میں مقامی ڈیریز کو بھینس اور گائے کا دودھ کم قیمت پر فروخت کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ چیمبور میں سریش ڈیری کے منیجر شارب شیخ نے بھی پلاسٹک پیکٹ کی کمی کی تصدیق کی اور کہا کہ اگر سپلائی جلد معمول پر نہ آئی تو آئندہ ۱۰؍ دنوں میں ڈیری صنعت کو بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:آسکر ۲۰۲۶ء: ’’ون بیٹل آفٹر اَندر‘‘ ۶؍ ایوارڈز کے ساتھ بہترین فلم
بامبے ملک پروڈیوسرز ایسوسی ایشن کے صدر سی کے سنگھ نے کہا کہ حال ہی میں بھینس کے دودھ کے تین بڑے آرڈر منسوخ ہو گئے، جس کے باعث ذخیرہ شدہ دودھ کم قیمت پر فروخت کرنا پڑا۔ چھوٹی ڈیریاں زیادہ دودھ ذخیرہ نہیں کر سکتیں، اس لیے انہیں زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:قطر میں شیڈول اسپین اور ارجنٹائنا کا فائنليسيما میچ منسوخ
تمام ڈیری پروڈیوسرز متاثر نہیں ہوئے ہیں۔ امول کے منیجنگ ڈائریکٹر جین مہتا نے کہا کہ دودھ کی یہ کوآپریٹو روزانہ تقریباً ۵ء۳؍ کروڑ لیٹر دودھ پروسیس کرتی ہے۔ ان کی گیس کی تقریباً ۸۰؍ فیصد ضرورت پوری ہو جاتی ہے جبکہ باقی ڈیزل اور دیگر ایندھن سے پوری کی جاتی ہے۔ امول کو پیکیجنگ میٹریل کی کمی بھی نہیں ہے کیونکہ وہ دودھ اور دہی کے لیے اپنے پیکٹ خود تیار کرتے ہیں۔ ایک اور بڑی کمپنی مدر ڈیری بھی اپنے پروسیسنگ مراکز میں پی این جی اور دیگر ایندھن استعمال کرتی ہے۔