Inquilab Logo Happiest Places to Work

عالمی سطح پر تعلیمی اداروں پر۸۵۰۰؍ سے زائد حملے، فلسطین سب سے زیادہ متاثر: رپورٹ

Updated: June 17, 2026, 10:05 PM IST | Washington

ایک رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر تعلیمی اداروں پر۸۵۰۰؍ سے زائد حملے کئے گئے، ان میں فلسطین سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہے، ان حملوں میں گزشتہ دو سالوں میں ۴۰؍ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

جی سی پی ای اے کی طرف سے پیر کو جاری کردہ رپورٹ ’’ایجوکیشن انڈر اٹیک ۲۰۲۶ء‘‘ کے مطابق، ۲۰۲۴ء اور۲۰۲۵ء کے دوران ہونے والے حملوں نے۸۳؍ ممالک میں کم از کم۱۰۶۰۰؍ اسکول اور یونیورسٹی کے طلباء، اساتذہ، پروفیسرز اور تعلیمی عملے کو نقصان پہنچایا، جن میں۵۵؍ ایسے ممالک شامل ہیں جہاں فعال مسلح تصادم نہیں ہو رہا۔جی سی پی ای اے نے کولمبیا، ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو (ڈی آر سی)، ایتھوپیا، ہیٹی، فلسطین اور یوکرین میں سب سے زیادہ حملے درج کیے۔رپورٹ کے مطابق، ہندوستان میں ۲۰۲۴ء اور۲۰۲۵ء کی رپورٹنگ مدت کے دوران تعلیمی اداروں، طلباء اور اساتذہ پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا، جس میں اسکولوں پر کم از کم۱۷؍ حملے، اسکولی طلباء اور تعلیمی عملے پر۶۴؍ حملے، اور اعلیٰ تعلیمی اداروں اور معاشرے پر ۱۵۴؍حملے درج ہوئے۔

یہ بھی پڑھئے: منظم سازشوں کے باوجود مسلم یونیورسٹیوں کی عمدہ کارکردگی

ان حملوں میں بہت سے واقعات کا تعلق منی پور میں نسلی تشدد، بم کی دھمکیوں، آتشزدگی کے حملوں، اور طلباء، اساتذہ اور تعلیمی کارکنوں کے مظاہروں پر پولیس کی کارروائیوں سے تھا۔رپورٹ میں کہا گیا،’’جموں و کشمیر (پہلگام حملہ) میں مہلک حملے کے بعد قومی براڈکاسٹ نیٹ ورکس اور سوشل میڈیا صارفین کی غصے بھری بیان بازی کے نتیجے میں ہندو ہجوم نے مسلمانوں، خاص طور پر کشمیری طلباء، دکانداروں اور مزدوروں پر حملے کیے، جنہیں مختلف ریاستوں میں دھمکیوں اور تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔‘‘ رپورٹ میں یہ بھی درج کیا گیا کہ اس عرصے کے دوران مسلمانوں اور عیسائیوں سمیت اقلیتوں کے خلاف مذہبی طور پر تشدد جاری رہا، جبکہ کئی ریاستوں میں حکام نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود مسلمانوں کے گھروں، دکانوں اور مذہبی مقامات کو مسمار کیا۔اس کے علاوہ، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سمیت قدرتی آفات نے متعدد ریاستوں میں تعلیم کو متاثر کیا، جس سے لاکھوں بچے متاثر ہوئے اور سینکڑوں اسکول تباہ ہوئے۔

یہ بھی پڑھئے: نئے تعلیمی سال کا آغاز لیکن اسکولوں میں بد انتظامی اور اساتذہ کی کمی برقرار

رپورٹ میں کہا گیا، ’’رپورٹنگ کی مدت کے دوران کئی ریاستوں بشمول اتراکھنڈ، پنجاب، مغربی بنگال، ہماچل پردیش، بہار، کیرالا، آسام اور میزورم میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ ہوئی، جس نے تعلیم میں عارضی رکاوٹیں پیدا کیں۔‘‘رپورٹ میں مظاہروں میں شریک ہزاروں طلباء، اساتذہ اور تعلیمی عملے کے خلاف طاقت کے استعمال، حراستوں اور گرفتاریوں کے ساتھ ساتھ اسکولوں کے فوجی استعمال اور یونیورسٹیوں اور کالجوں پر حملوں کی دستاویز کی گئی، خاص طور پر تنازعات سے متاثرہ علاقوں میں۔رپورٹ کے مطابق، فلسطین میں۲۰۰۰؍ سے زائد حملے تعلیم پر ہوئے، اور۲۰۲۵ء کے آخر تک غزہ میں تقریباً تمام اسکول مکمل یا جزوی تباہ ہو چکے تھے۔ 
اس کے علاوہ یوکرین میں اسکولوں پر۹۰۰؍ سے زائد حملے درج کیے گئے۔ ہیٹی، جو اس رپورٹ میں پہلی بار شامل کیا گیا ہے،۴۰۰؍ سے زائد حملوں کا شکار ہوا، جبکہ کیمرون، میانمار، نائیجیریا اور یمن میں سب سے زیادہ افراد ہلاک یا زخمی ہوئے۔جی سی پی ای اے نے پایا کہ ان چار ممالک میں حملوں میں ۱۷۰۰؍ طلباء اور عملے کے ارکان ہلاک یا زخمی ہوئے۔نائیجیریا میں۷۰۰؍ سے زائد طلباء اور عملے کے ارکان کو اغوا کیا گیا۔ رپورٹس کے مطابق  میانمار میں  تعلیم پر حملوں میں کم از کم۸۰؍ طلباء اور عملے کے اراکین ہلاک اور کم از کم۲۴۰؍ زخمی ہوئے۔دوسری جانب اسکولوں کے فوجی استعمال کی تعداد تقریباً دوگنی ہوگئیں۔ جی سی پی ای اے نے۱۹۰۰؍ سے زائد ایسے واقعات دستاویز کیے، جن میں کولمبیا، ڈی آر سی اور ایتھوپیا سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ واضح رہے کہ جب مسلح افواج یا مسلح گروہ اسکولوں پر قبضہ کر لیتے ہیں، تو تعلیم میں خلل پڑتا ہے اور اہم بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوتا ہے۔ اس سے بچوں کے مسلح گروہوں میں جبری بھرتی، جنسی تشدد کا نشانہ بننے، یا حملوں کا ہدف بننے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
مزید برآںرپورٹ میں زور دیا گیا کہ لڑکیوں اور خواتین کو تشدد اور اخراج کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے، جس میں کیمرون، وسطی افریقی جمہوریہ، کولمبیا، ہیٹی، نائیجیریا اور افغانستان میں لڑکیوں کے اسکولوں پر نشانہ بنائے گئے حملوں اور تنازعات سے متعلق جنسی تشدد کی اطلاع دی گئی۔افغانستان میں حکام نے چھٹی جماعت سے اوپر کی لڑکیوں کے لیے تعلیمی مراکز بند کر دیے اور خواتین اساتذہ کو حراست میں لیا، جس سے لڑکیوں کی تعلیم پر حملہ جاری رہا۔رپورٹ نے آبادی والے علاقوں میں دھماکہ خیز ہتھیاروں کے بڑھتے ہوئے استعمال کی طرف بھی اشارہ کیا، جس میں ڈرون سے گرائے جانے والے دھماکہ خیز مواد بھی شامل ہیں، جو تعلیم پر تقریباً۳۰۰؍ حملوں میں استعمال ہوئے۔جبکہ  بہت سے حملے کلاس کے اوقات میں ہوئے، جس سے طلباء اور اساتذہ ہلاک ہوئے اور اسکولوں کو طویل بندش کا سامنا کرنا پڑا۔

یہ بھی پڑھئے: اہرامِ مصر نے ۴۵۰۰ برسوں تک متعدد زلزلوں کا سامنا کیسے کیا؟ تحقیق نے اس راز سے پردہ اٹھایا

دریں اثناءجی سی پی ای اے نے سیف اسکول ڈیکلریشن کی عالمی توثیق پر زور دیا اور حکومتوں، اقوام متحدہ کی ایجنسیوں اور عطیہ دہندگان سے پانچ فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا، جن میں بچوں اور تعلیمی نظاموں کے لیے قانونی تحفظات کو مضبوط بنانا، اسکولوں کا فوجی استعمال ختم کرنا، حملوں کی عالمی نگرانی کو برقرار رکھنا اور اس کی حفاظت کرنا، انتخابی ادوار کے دوران تعلیم کا تحفظ، اور ابتدائی انتباہ اور پیشگی کارروائی کے نظام کو وسائل فراہم کرنا شامل ہیں۔’’ایجوکیشن انڈر اٹیک۲۰۲۶ء‘‘ رپورٹ کی سرکردہ محقق فیلیسٹی پیئرس نے کہا، ’’ہمیں یقین ہے کہ حقیقی اضافہ اس سے کہیں زیادہ ہے۔‘‘انہوں نے زور دیاکہ ’’بڑھتے ہوئے تنازعات، انسانی امداد تک رسائی میں کمی، اور وسیع پیمانے پر معلومات کے فقدان  کا مطلب ہے کہ بہت سے حملے کبھی درج نہیں ہوتے۔‘‘جی سی پی ای اے کی ڈائریکٹر لیزا چنگ بینڈر نے کہا کہ رپورٹ کے نتائج تعلیم کو بڑھتے ہوئے خطرے کے بارے میں خطرے کی گھنٹی ہیں، انہوں نے کہا کہ ’’یہ ایک انتباہ ہے کہ عالمی اصول جو کبھی بچوں کی حفاظت کرتے تھے، ختم ہو رہے ہیں۔ایک انتباہ کہ دنیا ایسیسمت  بڑھ رہی ہے جہاں چھوٹے سے چھوٹے بچے بھی حدود سے باہر نہیں رہے۔ اور ایک انتباہ کہ اگر ہم نے ابھی حد کو برقرار نہ رکھا، تو ہم شاید اسے کبھی واپس نہ پا سکیں۔‘‘ اس رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے، یونیسیف ایجوکیشن نے پیر کو ایکس پر کہا کہ ’’نتائج ایک بڑھتے ہوئے عالمی بحران اور تنازعات میں تعلیم کے تحفظ کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK