Inquilab Logo Happiest Places to Work

ورلڈ کپ سیمی فائنل میں روایتی حریف انگلینڈ اور ارجنٹائنا ایک بار پھر آمنے سامنے

Updated: July 14, 2026, 5:07 PM IST | New York

فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے دوسرے سیمی فائنل میں بدھ کو انگلینڈ اور ارجنٹائنا ایک بار پھر آمنے سامنے ہوں گے، جہاں ورلڈ کپ کی تاریخ کی سب سے مشہور اور پرانی دیرینہ حریف میں سے ایک کا نیا باب رقم ہوگا۔ دونوں ٹیمیں دو دہائیوں سے زیادہ عرصے بعد ورلڈ کپ کے اہم مرحلے میں ایک دوسرے کا سامنا کریں گی۔

England Team.Photo:X
انگلینڈ کی ٹیم۔ تصویر:ایکس

 فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے دوسرے سیمی فائنل میں بدھ کو انگلینڈ اور ارجنٹائنا ایک بار پھر آمنے سامنے ہوں گے، جہاں ورلڈ کپ کی تاریخ کی سب سے مشہور اور پرانی دیرینہ حریف میں سے ایک کا نیا باب رقم ہوگا۔ دونوں ٹیمیں دو دہائیوں سے زیادہ عرصے بعد ورلڈ کپ کے اہم مرحلے میں ایک دوسرے کا سامنا کریں گی۔  ورلڈ کپ کی تاریخ میں دونوں ٹیمیں اب تک پانچ مرتبہ مدمقابل آ چکی ہیں، جن میں انگلینڈ نے تین جبکہ ارجنٹائنا نے دو فتوحات حاصل کی ہیں، جن میں ایک کامیابی پنالٹی شوٹ آؤٹ کے ذریعے ملی تھی۔ تاہم اس رقابت کی اہمیت صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں بلکہ اس کے ساتھ کئی تاریخی اور جذباتی واقعات بھی جڑے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:یورپ میں جون کے آخر میں پڑنے والی شدید گرمی سے ۱۰؍ ہزار سے زائد اموات!


  دونوں ٹیموں کا سامنا ۱۹۶۲ء کے ورلڈ کپ میں ہوا تھا، جہاں انگلینڈ نے گروپ مرحلے میں ۱۔۳؍گول  سے کامیابی حاصل کی لیکن ان کی اصل حریف ۱۹۶۶ء کے ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل سے شروع ہوئی۔ ویمبلے میں کھیلے گئے اس میچ میں انگلینڈ نے ۰۔۱؍گول  سے کامیابی حاصل کی، تاہم یہ مقابلہ ارجنٹائنا کے کپتان انتونیو راٹن کو ریفری کی جانب سے ریڈ کارڈ دکھائے جانے کی وجہ سے زیادہ یاد رکھا جاتا ہے۔یہ قدیم حریف اپنے عروج پر ۱۹۸۶ء کے میکسیکو ورلڈ کپ کے کوارٹر فائنل میں پہنچی، جب ارجنٹائنا  کے لیجنڈ ڈیاگو میراڈونا نے انگلینڈ کے خلاف دو یادگار گول کیے۔ پہلا متنازع گول، جسے بعد میں ’’ہینڈ آف گاڈ‘‘ کا نام دیا گیا، جبکہ دوسرا گول ورلڈ کپ کی تاریخ کے بہترین گولز میں شمار کیا جاتا ہے، جس میں میراڈونا نے کئی انگلش کھلاڑیوں کو ڈاج دیتے ہوئے گیند جال میں پہنچائی۔ ارجنٹائنا  نے یہ مقابلہ ۱۔۲؍گول سے جیت کر بعد میں عالمی خطاب بھی اپنے نام کیا۔ 
۱۹۹۸ء کے ورلڈ کپ میں دونوں ٹیمیں ایک بار پھر ناک آؤٹ مرحلے میں ٹکرائیں۔ اس میچ میں ڈیوڈ بیکہم کو ڈیاگو سیمیونے کو لات مارنے پر ریڈ کارڈ دکھایا گیا  جبکہ پنالٹی شوٹ آؤٹ میں ارجنٹائنا  نے۳۔۴؍گول  سے کامیابی حاصل کی۔ اس واقعہ کے بعد بیکہم کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ بعد میں سیمیونے نے اعتراف کیا کہ انہوں نے اس واقعہ کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے:سیاستداں اتحاد کا ہنر ان سے سیکھیں:شیکھر سمن کا عامر خان کی تیسری شادی پر طنز


۲۰۰۲ء کے ورلڈ کپ میں انگلینڈ نے بیکہم کے پنالٹی گول کی بدولت ارجنٹائنا  کو۰۔۱؍گول سے شکست دی۔ یہ ورلڈ کپ میں دونوں ٹیموں کا اب تک آخری مقابلہ تھا جبکہ آخری بار۲۰۰۵ء میں جنیوا میں ایک دوستانہ میچ میں انگلینڈ نے۲۔۳؍گول سے کامیابی حاصل کی تھی۔  دلچسپ بات یہ ہے کہ ارجنٹائنا کے عظیم اسٹار لیونل میسی، جن کا بین الاقوامی کریئر دو دہائیوں سے زیادہ پر محیط ہے، کبھی بھی انگلینڈ کے خلاف کوئی میچ نہیں کھیل سکے۔ اب بدھ کو ہونے والے سیمی فائنل میں دونوں روایتی حریف ایک بار پھر تاریخ رقم کرنے کے لیے میدان میں اتریں گے، جہاں فاتح ٹیم ورلڈ کپ کے فائنل میں جگہ بنائے گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK