زمانے کے سرد وگرم سے نکھار پھیکا پڑجاتا ہے لیکن یامی گوتم کا نکھاردن بہ دن بڑھتاہی جارہا ہے۔ فیئر اینڈ لولی کےاشتہار سے ماڈلنگ کی دنیا میں قدم رکھنے والی یامی گوتم آج ہندوستانی ٹیلی ویژن اور فلم انڈسٹری کا روشن ستارہ ہیں۔
یامی گوتم ایک دلکش اداکارہ۔ تصویر:آئی این این
زمانے کے سرد وگرم سے نکھار پھیکا پڑجاتا ہے لیکن یامی گوتم کا نکھاردن بہ دن بڑھتاہی جارہا ہے۔ فیئر اینڈ لولی کےاشتہار سے ماڈلنگ کی دنیا میں قدم رکھنے والی یامی گوتم آج ہندوستانی ٹیلی ویژن اور فلم انڈسٹری کا روشن ستارہ ہیں۔
ہماچل پردیش کے ضلع بلاسپور میں۲۸؍ نومبر ۱۹۸۸ءکوپیدا ہوئیں اورچنڈی گڑھ میں پرورش پائی۔ والد مکیش گوتم ایک پنجابی فلم ڈائرکٹراور والدہ انجلی گوتم ہیں۔بچپن میں یامی بہت کم گو اور شرمیلی تھیں۔ ایک انٹرویومیں انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ انہیں اسٹیج پر ایک نظم پیش کرنی تھی لیکن جیسے ہی وہ اسٹیج پر پہنچیںوہ سب بھول گئیں۔ جیسے تیسے انہوں نے جلدی میں کچھ کہا اور اسٹیج سے اتر گئیں۔ یامی بچپن سےہی بہت محنتی ہیں۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے وکالت کی تعلیم حاصل کی ۔ آئی اے ایس آفیسر بننے کا ارادہ تھا لیکن قدرت نے یامی کے لیے کچھ اور ہی منتخب کر رکھا تھا اور وہ تھا اداکاری کا میدان۔ جہاں یامی کے فن کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا اور ٹیلی ویژن اور فلموں میں نت نئے رول نبھا کرانہوں نے یہ ثابت کر دیاکہ پوشیدہ صلاحیتوں کو صحیح وقت اور اظہار کا وسیلہ درکار ہوتا ہے۔ خوبصورت مسکان اور جگمگاتے چہرے والی یامی گوتم سے جب یہ سوال کیا جاتا ہے کہ اگر آپ ایکٹریس نہ ہوتی تو کیا ہوتیں؟تو وہ یہی جواب دیتی ہیں کہ میں آئی اے ایس ہوتی ۔ یامی نے ۲۰۰۸ء میںٹی وی سیریل ’چاندکےپار چلو‘سےاپنے کرئیرکی شروعات کی اور۲۰۱۰ءمیںکنڑ فلم ’الاسا اتساہا‘ سے پردۂ سیمیں پر جلوہ گر ہوئیں۔ پہلی ہندی فلم ’وکی ڈونر‘تھی جس میں ان کے ساتھ بطور ہیرو آیوشمان کھرانہ تھے۔یامی کہتی ہیں کہ وہ اور آیوشمان پہلے سے ایک دوسرے کو جانتے تھے لیکن مدتوں بعد جب دونوں اس فلم کے لیے ایک دوسرے کے روبرو ہوئے تو حیران رہ گئے اور یامی کے منہ سے بے ساختہ نکلا ارے تم!۔ اس فلم کو بے پناہ مقبولیت ملی اور اس فلم کے لیے یامی کو’ففتھ بورو پلس گولڈ ایورڈ۲۰۱۲ء‘،’انٹرٹینمنٹ ایوارڈ۲۰۱۲ء‘، ’موسٹ ڈیزائیریبل ویمن ایوارڈ‘، ’زی سینے ایوارڈ۲۰۱۳ء‘،’آئیفا ایوارڈ۲۰۱۳ء‘ اور فلم ’بلا‘کےلیے’موسٹ اسٹائلش اَن کنوینشنل ایکٹرس‘ ایوارڈ سے نوازا گیا۔ یامی نےہندی، تیلگو، تمل، پنجابی اور ملیالم فلموں میں بھی کام کیا۔ان کی مشہور فلموں میں قابل، اُری: دی سرجیکل اسٹرائیک، بلا ، اے تھرس ڈے،او ایم جی۲؍ ، بدلا پور اور آرٹیکل ۳۷۰؍وغیرہ شامل ہیں لیکن حال میں ریلیز ہوئی فلم ’حق‘ نےیامی کو غیر معمولی شہرت سے نوازا۔
تقدیر کی قائل ہیں لیکن مکافاتِ عمل پر بہت یقین ہے۔اچھے کاموںکے ساتھ دعاؤں کی طاقت پربہت بھروسہ ہے۔ جتنی خوبصورت اور پرکشش ہیں اتنی ہی سادہ اور معصوم بھی۔چائے کی بہت شوقین ہیں،کام کرتے وقت، میک اپ صاف کرتے وقت بھی اکثر چائے کا کپ ساتھ ہوتاہے۔اچھے گانوں کی بھی شوقین ہیں فرصت کے اوقات میں مطالعہ، انٹیریئرڈیزائننگ اور موسیقی سے لطف اندوز ہوتی ہیں۔ فطرت کی دلدادہ ہیں اور ہماچل پردیش میں اپنا گرین ہاؤس اور آرگینک گارڈن بنا رکھا ہے ۔
اپنےگھر والوں سے بہت محبت کرتی ہیں۴؍ جون۲۰۲۱ء کو فلم ڈائرکٹر آدتیہ دھر سے شادی کی اور یامی ایک پیارے سے بیٹے کی ماں بھی ہیں ۔یامی کی کامیابی ان کی محنت ، لگن اور خلوص کے علاوہ زندگی کے تئیں ان کے مثبت طرز فکر اور حسن عمل میں پوشیدہ ہے اور یہ وہ نکھار ہے جو حسن کو کبھی ماند نہیں پڑنے دیتا۔