پیٹرول پمپ پر نل لگا رہے نوجوان سے پیٹرول کے تعلق سے سوال کیا گیا، لاعلمی کا اظہار کرنے پر توتو میں میں شروع ہو گئی اور بات قتل تک پہنچ گئی۔
EPAPER
Updated: June 12, 2026, 12:43 PM IST | Z. A. Khan | Nanded
پیٹرول پمپ پر نل لگا رہے نوجوان سے پیٹرول کے تعلق سے سوال کیا گیا، لاعلمی کا اظہار کرنے پر توتو میں میں شروع ہو گئی اور بات قتل تک پہنچ گئی۔
ناندیڑ (زیڈ اے خان) ناندیڑ ضلع کے سون کھیڑ علاقے میں معمولی بات پر ہونے والا تنازع پرتشدد جھگڑے میں تبدیل ہو گیا، جس میں زخمی ہونے والا ایک نوجوان دورانِ علاج فوت ہو گیا۔ اس معاملے میں سون کھیڑ پولیس اسٹیشن میں دو افراد کے خلاف معاملہ درج کیا گیا ہے۔
اطلاع کے مطابق بدھ کے روزشام چار بجے کے قریب پیر برہان علاقے کے رہنے والے کفایت علی اپنے بھائی اور ساتھیوں کے ساتھ ناندیڑ سے قریب سون کھیڑ کے مورگے پیٹرول پمپ کے احاطے میں نل فٹنگ کا کام کر رہا تھا۔اسی دوران موٹر سائیکل پر ۲؍ افراد پیٹرول بھروانے آئے اور پیٹرول کے تعلق سے استفسار کرنے لگے۔ اس وقت پیٹرول بھرنے کی ڈیوٹی پر مامور افراد موجود نہیں تھے ۔ لہٰذا کفایت علی اور ان کے بھائی نے پیٹرول کے تعلق سے لاعلمی کا اظہار کیا۔ اس پر وہ دونوں برہم ہوگئے ۔عینی شاہدین کے مطابق اس بات پر دونوں فریقوں کے درمیان بحث شروع ہوگئی، جو بڑھتے بڑھتے ہاتھاپائی اور مارپیٹ میں تبدیل ہوگئی۔الزام ہے کہ حملہ آوروں نے کفایت علی اور ان کے بھائی پر جان لیوا حملہ کیا، جس میں کفایت علی شدید زخمی ہوگیا۔ اسے ناندیڑ کے سرکاری اسپتال پہنچایا گیا، جہاں علاج کے دوران اس کی موت ہوگئی ۔اس معاملے میں پولیس نے بی این ایس کی مختلف دفعات کے تحت معاملہ درج کیا ہے۔ ساتھ ہی پولیس نے بدھ کی رات پون چودھری اور بالاجی مورے نامی دونوں ملزمین کو ناندیر ریلوے اسٹیشن کے احاطہ سے گرفتار کرلیا ہے ۔اور جلد ہی انہیں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ پیٹرول پمپ پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں میں پوری واردات ریکارڈ ہوگئی ہے، جبکہ متعدد عینی شاہدین بھی موجود تھے۔
جب اس قتل کی خبر پیر برہان علاقے میں پہنچی تو وہاں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ لوگوں نے احتجاجاً جمعرات کو اپنی دکانیں بند رکھیں ۔ لوگوں نے اس واقعے کی شدید مذمت کی اور ملزمین کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ جمعرات کی صبح ۱۱؍ بجے کفایت علی کے مکان سے اس کا جنازہ نکلا ۔جنازے میں بھی کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ اس قتل کی ونچت بہوجن اگھاڑی کے ریاستی نائب صدر فاروق احمد نے بھی شدید مذمت کی۔انہوں نے ایف آئی آر درج کرنے سے لے کر ملزمین کی گرفتاری تک پولیس کی فوری کارروائی کی ستائش کی اور مطالبہ کیا کہ تفتیش کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے ملزمین کو سخت سے سخت سزا دلائی جائے۔ اس سے قبل فاروق احمد اور کارپوریٹر شیخ بلال سمیت متعدد سماجی کارکنان نے اسپتال پہنچ کر مقتول کے رشتہ داروں سے ملاقات کی تھی اور انہیں بھروسہ دلایا کہ اس معاملے میں ملزمین کو بخشا نہیں جائے گااور ان کے خلاف قانونی طورپر کڑی سے کڑی کارروائی کی جائے گی۔پولیس نے پیڑول پمپ اور آس پاس میں پہرہ سخت کر دیا ہے۔