لاک ڈائون کے دور میں اپنے جدوجہد کی کہانی کو اپنے فیشن برانڈ میں انڈیلنے کی کوشش کی جو آج عالمی سطح کا لگژری فیشن برانڈ بن چکا ہے
EPAPER
Updated: February 10, 2026, 12:05 PM IST | Mohammed Habeeb | Mumbai
لاک ڈائون کے دور میں اپنے جدوجہد کی کہانی کو اپنے فیشن برانڈ میں انڈیلنے کی کوشش کی جو آج عالمی سطح کا لگژری فیشن برانڈ بن چکا ہے
خواتین کے فیشن کی دنیا ہمہ وقت بدلتی رہتی ہے، مگر کچھ برانڈز ایسےہیں جو وقت کے ساتھ بدلنے کے بجائے اپنامخصوص انداز، سلیقہ اور شناخت بناتے ہیں۔ ’اے کے-او کے‘انہی برانڈز میں سے ایک ہے۔ وہ نام جس نے جدید رجحانات کو روایت کی گرمی کے ساتھ ملایا، اور ہر عمر، ہر مقام اور ہر موقع کے لیے ملبوسات کو معنی عطا کیا۔ ’اے کے- او کے‘کی کہانی صرف کپڑوں تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک ذاتی جدوجہد اور امید کی علامت ہے۔ اس کا نام انگریزی کے مشہور جملے ’ایوری تھنگ از اے کے-او کے‘سےماخوذ ہے۔ جب انامیکا کھنہ صحت کے شدید مسائل سے گزر رہی تھیں، تو ان کے بیٹوں نے اس جملے کو ایک حوصلے کے طور پر استعمال کیا۔ یہی حوصلہ بعد میں ایک ایسےبرانڈ کی شکل اختیار کر گیا جو ہر مشکل کے بعد ’سب ٹھیک ہے‘ کے پیغام کو عام کرتا ہے۔
آغاز اور بنیاد
جب انامیکا کھنہ صحت یاب ہو کر واپس آئیں، تو انہوں نے اس مثبت توانائی اور’منتر‘ کو ایک فیشن برانڈ کی شکل دینے کا فیصلہ کیا۔ برانڈ کا پہلا باقاعدہ کلیکشن مارچ۲۰۱۹ءمیںانسٹاگرام کے ذریعے لانچ کیا گیا، جو کہ انامیکا کے روایتی بھاری ملبوسات سے ہٹ کر ایک زیادہ ذاتی اور جدید طرز کا حامل تھا۔ وراج اور وشیش نے تعلیم مکمل کرنےکے بعد اپنی والدہ کے ساتھ مل کر اس برانڈ کو ایک مکمل ریڈی ٹو ویئر اور لائف اسٹائل برانڈ میں تبدیل کیا۔ ان کا مقصد ایسے کپڑےتیار کرنا تھا جو کسی خاص تقریب کے محتاج نہ ہوں بلکہ روزمرہ زندگی میں پہنے جا سکیں۔ برانڈ کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے، دسمبر ۲۰۲۱ءمیںریلائنس برانڈز لمیٹڈ(آر بی ایل) نے انامیکا کھنہ کے ساتھ ایک مشترکہ منصوبہ(جوائنٹ وینچر)شروع کیا۔اس شراکت داری کا مقصد ’اے کے-او کے‘کو نہ صرف ہندوستان بلکہ عالمی سطح پر ایک لگژری برانڈ کے طور پر مستحکم کرنا تھا۔
برانڈ کا مقصد
اس برانڈ کے آغاز کا سب سے بڑا مقصد فیشن کے روایتی اصولوںکو توڑنا تھا۔ اس لیے اس کے ڈیزائن میںعمر، صنف اور سائز کی کوئی قید نہیں رکھی گئی۔ہندوستانی دستکاری (مثلاً کڑھائی اور پرنٹس) کو جدید کٹس اور اسٹریٹ ویئر کے ساتھ ملایا گیا۔ آج’اے کے-او کےممبئی کے جیو ورلڈ پلازہ جیسے بڑے اسٹورز سے لے کر لندن فیشن ویک تک اپنی پہچان بنا چکا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:جنوبی افریقہ نے کنیڈا کو۵۷؍ رنز سے شکست دی
ممبئی میں اسٹور
ممبئی میں اس کے خصوصی طور پر ۲؍ عالیشان اسٹور موجود ہیں جن میں سے ایک باندرہ کے جیو ورلڈ پلازہ میں موجود ہے جبکہ دوسرا لوئر پریل کے پلاڈیم مال میں واقع ہے۔ اس کے علاوہ آپ یہاں کی مصنوعات آن لائن بھی خرید سکتے ہیں جن میں ان کی آفیشل ویب سائٹ https://akok.in/خصوصی اہمیت رکھتی ہے کیوں کہ یہاں ان کا پورا کلیکشن دیکھا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ مشہور آن لائن ریٹیلر آجیو کا لگژری ونگ Ajio Luxe ہے جہاں ’اےکے-اوکے‘کی مصنوعات دستیاب ہیں۔ایک معروف ملٹی ڈیزائن اسٹورOgaan.com ہے جو ’اے کے-او کے‘ کے کلیکشن کو آن لائن فروخت کرتا ہے۔اسی طرح Ensemble India بھی ایک اور لگژری فیشن اسٹور ہے جس کی ویب سائٹ پر ’اے کے-اوکے‘ کی مصنوعات فروخت کیلئے موجود ہیں۔Aza Fashions میں بھی آپ کو ’اے کے-او کے‘ کے ڈیزائنر ملبوسات مل جائیں گے۔Evoluzione نامی پلیٹ فارم بھی اس کی مصنوعات کو آن لائن فروخت کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:سائی مانجریکر ’’دی انڈیا ہاؤس ‘‘کی شوٹنگ کے تعلق سے پُر جوش
یہاں کیا ملتا ہے؟
یہاں کپڑوں کی مناسبت سےکو آرڈ سیٹ،ڈریسیز، جیکٹ، بلیزر، اسکرٹ ملتے ہیں۔اس کے علاوہ مختلف تقریبات جیسے برنچ یعنی دعوت کیلئے ، ڈینم،ڈیسٹی نیشن ویڈنگ، فیوژن ویسٹرن،ہیلو ویک اینڈ،پرنٹ اسٹوری اور اسپرنگ کیلئےکپڑے ملتے ہیں۔