عرضی میںمسلم خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کا دعویٰ کیاگیا،عرضی گزاروںکے وکیل پرشانت بھوشن سے چیف جسٹس کی بنچ نے کئی سوال کئے۔
EPAPER
Updated: March 11, 2026, 10:00 AM IST | Inquilab News Network | New Delhi
عرضی میںمسلم خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کا دعویٰ کیاگیا،عرضی گزاروںکے وکیل پرشانت بھوشن سے چیف جسٹس کی بنچ نے کئی سوال کئے۔
سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کرکے وراثت میں مسلم خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک کا دعویٰ کرتے ہوئے اسے تین طلاق کی طرح ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ پولومی پوانی شکلا اور نیا ناری فاؤنڈیشن نامی تنظیم نے یہ عرضی دائر کی ہے۔ منگل کو اس پر مختصر سماعت ہوئی اور پرشانت بھوشن وکیل کے طور پر پیش ہوئے۔
چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جویمالیہ باغچی اور جسٹس آر مہادیون پر مشتمل بنچ نے سماعت کے دوران پرشانت بھوشن سے پوچھا کہ کیا عدالت پرسنل لاء کی آئینی حیثیت کا فیصلہ کر سکتی ہے؟ جسٹس باغچی نے بامبے ہائی کورٹ کے فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پرسنل لاز کو آئینی جانچ کے دائرے میں نہیں لایا جاسکتا۔بنچ نے یہ بھی پوچھا کہ اگر عدالت نے شرعی وراثت کے قانون کو ختم کر دیا تو کیا اس سے قانونی خلا پیدا نہیں ہو گا، کیونکہ مسلم وراثت کو کنٹرول کرنے والا کوئی قانون موجود نہیں ہے۔ بھوشن نے جواب دیا کہ ملک میں موجود وراثت کا ایکٹ اس کی جگہ لے سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عدالت یہ اعلان کر سکتی ہے کہ مسلم خواتین مردوں کے برابر وراثت کی حقدار ہیں۔
‘یہ بھی پڑھئے:’ایوان کے وقار کیلئے اوم برلا کو ہٹانا ضروری
عدالت نے بھوشن کو روکتے ہوئے کہا کہ آیا عدالت پرسنل لاء میں مداخلت کر سکتی ہے؟ اس پر پرشانت بھوشن نے شاعرہ بانو مقدمہ میں تین طلاق کا ختم کرنے کا حوالہ دیا۔بھوشن نے کہا کہ وراثت سے متعلق پرسنل لاء کو آئین کے آرٹیکل ۲۵؍کے تحت تحفظ نہیں دیا گیا، جو مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ وراثت شہری حق کا معاملہ ہے اور اسے ایک لازمی مذہبی عمل کے طور پر دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔اس کے باوجود چیف جسٹس نے اس تشویش کا اظہار کیا کہ آیا ایسے کرنے سے مسلم خواتین کو کسی قانون کے تحفظ کے بغیر تونہیںچھوڑ دیا جائے گا؟انہوںنے کہا کہ اصلاحات کی کوشش میں ہم ان کو محروم کر سکتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ وہ اس سے کم حاصل کریں جو وہ پہلے سے حاصل کر رہی ہیں۔ سی جے آئی کانت نے کہا ’’اس کاجواب یکساں سول کوڈ ہے۔
یہ بھی پڑھئے:گیس سلنڈر کا بحران ، اپوزیشن حکومت پر حملہ آور
سی جے آئی کے تبصرے کے بعد جسٹس باغچی نےکہا کہ ایک مرد کیلئے ایک بیوی کے اصول کو تمام برادریوں پر یکساں طور پر لاگو نہیں کیا جا رہا ہےلیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ عدالت تمام شادیوں کو غیر آئینی قرار دے سکتی ہے؟ سپریم کورٹ نے پہلے ہی ملک میں یکساں سول کوڈ کی سفارش کی ہے۔بنچ نے یہ بھی کہا کہ خود مسلم خواتین اگر ا سکےخلاف آتی ہیں تو عدالت اس میں مداخلت کرسکتی ہے۔ بھوشن نےاس پر کہا کہ درخواست گزاروں میں سے کچھ مسلم خواتین ہیں۔اس کے بعد بنچ نے بھوشن کو مشورہ دیا کہ وہ عرضی میں ترمیم کریں تاکہ یہ تجاویز شامل کی جائیں کہ شرعی وراثت کی دفعات کو ختم کرنے کی صورت میں حل کیا ہونا چاہئے۔