یہاں بلند و برف پوش پہاڑوں کے درمیان ریت کے ٹیلے، سبز کھیت، خوبانی کے باغ، بدھ خانقاہیں اور دو کوہان والے اونٹ ایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔
EPAPER
Updated: September 23, 2026, 1:01 PM IST | Mohammed Habib | Mumbai
یہاں بلند و برف پوش پہاڑوں کے درمیان ریت کے ٹیلے، سبز کھیت، خوبانی کے باغ، بدھ خانقاہیں اور دو کوہان والے اونٹ ایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔
نوبرا وادی لداخ کے شمال میں واقع ایک ایساحسین خطہ ہے جسے دیکھ کر پہلی نظر میں یقین کرنا مشکل ہوتا ہے کہ یہ اسی لداخ کا حصہ ہےجسے عموماً خشک، بنجر اور پتھریلے پہاڑوں کیلئے جانا جاتا ہے۔ یہاں بلند و بالا پہاڑوں کے دامن میں سبزہ زار، پھلوں کے باغ، دریا، ریت کے ٹیلے اور قدیم بدھ خانقاہیں ایک دوسرے کے قریب دکھائی دیتی ہیں۔ شیوک اور نوبرا دریاؤں کی وجہ سے وادی کے کئی حصوں میں ایسی ہریالی پیدا ہوئی ہے جو لداخ کے عمومی منظر سے بالکل مختلف محسوس ہوتی ہے۔ سرکاری طور پر بھی نوبرا کو ’لدُمرا‘ یعنی باغوں یا پھولوں کی وادی کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔
کھار ڈنگ لا
نوبرا کا سفر خود ایک یادگار تجربہ ہے۔ لیہ سے وادی کی طرف جاتے ہوئے راستہ بلند پہاڑی درّوں، سنگلاخ چٹانوں اور برف پوش چوٹیوں کے درمیان سے گزرتا ہے۔ عام سیاحتی راستہ کھارڈنگ لاکے ذریعے نوبرا میں داخل ہوتا ہے۔ لداخ انتظامیہ کے مطابق کھارڈنگ لا نوبرا کی اہم کششوں میں شامل ہے، جبکہ سرکاری سیاحتی ویب سائٹ بھی اسے لیہ اور نوبرا کے درمیان نمایاں پہاڑی درّے کے طور پر درج کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:انڈمان نکوبار کاہیولاک جزیرہ ساحل سمندر، جنگل اور سکون سےبھرپور دنیا
کھارڈنگ لا نوبرا کے سفر کا سب سے مشہور پڑاؤ ہے۔ یہاں پہنچ کر ایک طرف دور تک پھیلے ہوئے پہاڑ نظر آتے ہیں اور دوسری طرف گہری وادیوں کا سلسلہ دکھائی دیتا ہے۔ اگرچہ کھارڈنگ لا کی بلندی کے بارے میں مختلف سرکاری و سیاحتی ذرائع میں اعداد مختلف ملتے ہیں، لیکن یہ بات واضح ہے کہ یہ انتہائی بلند پہاڑی درّوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں موسم اچانک تبدیل ہوسکتا ہے، اس لیے سفر کے دوران گرم کپڑے اور مناسب تیاری ضروری ہے۔
ڈسکٹ
کھارڈنگ لا سے آگے بڑھتے ہوئے نوبرا کا منظر آہستہ آہستہ بدلنےلگتا ہے۔ خشک پہاڑوں کے درمیان سبز وادی کے ٹکڑے دکھائی دینے لگتے ہیں اور پھر ڈسکِٹ کا علاقہ سامنے آتا ہے۔ ڈسکِٹ نوبرا کا اہم قصبہ اور خطے کا ایک بڑا انتظامی و تجارتی مرکز ہے۔ لیکن سیاحوں کیلئے اس کی سب سے بڑی کشش ڈسکِٹ خانقاہ ہے۔
ڈسکِٹ خانقاہ نوبرا کی قدیم بدھ خانقاہوں میں سب سے اہم سمجھی جاتی ہے۔حکومتِ ہند کے ’انکریڈیبل انڈیا‘ پورٹل کے مطابق یہ خانقاہ ۱۵؍ویں صدی میں چانگسیم شیرب زانگپو نے قائم کی تھی اور نوبرا کی قدیم ترین اور بڑی بدھ خانقاہوں میں شمار ہوتی ہے۔پہاڑی ڈھلوان پر واقع اس خانقاہ سے نیچے پھیلی پوری وادی کا شاندار منظر دیکھا جاسکتا ہے۔
ہنڈر
ڈسکِٹ سے آگے بڑھیں تو ہنڈر آتا ہے، جو نوبرا کی شاید سب سےمشہور سیاحتی منزل ہے۔ ہنڈر اپنے غیر معمولی سرد صحرائی ریت کے ٹیلوں کے لیے مشہور ہے۔ ایک طرف برف پوش پہاڑ اور دوسری طرف ہلکی رنگت کی ریت، اس کے درمیان گھومتے ہوئے دو کوہان والے اونٹ یہ منظر لداخ کے عام تصور سے بالکل مختلف نظر آتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:تواَنگ: ہماچل پردیش میں بادلوں، برف اور آبشاروں کی دلکش سرزمین
سمور
نوبرا کا ایک اور اہم مقام سُمور ہے۔ یہ شیوک وادی سے قدرے مختلف ماحول پیش کرتا ہے اور سبزہ، کھیتوں اور پہاڑی مناظر کے درمیان پھیلا ہوا ایک پرسکون گاؤں ہے۔ سُمور کی سب سے اہم تاریخی کشش سامستانلنگ خانقاہ ہے۔ حکومتِ ہند کے سیاحتی پورٹل کے مطابق یہ خانقاہ ۱۸۴۰ءکی دہائی میں قائم ہوئی تھی اور۲؍بڑی عبادت گاہوں کے ساتھ وادی کے خوب صورت مناظر پیش کرتی ہے۔
پانامک
سُمور سے مزید شمال کی طرف سفر کریں تو پانامک آتا ہے۔ یہ نوبرا کے معروف مقامات میں شامل ہے اور اپنے قدرتی گرم چشموں کے لیے مشہور ہے۔ لداخ انتظامیہ بھی پانامک کے گرم چشمے کو نوبرا کی اہم سیاحتی کششوں میں شمار کرتی ہے۔
گرم پانی کے چشمے اورچھوٹے گائوں
پانامک کا سفر صرف گرم پانی کے چشموں تک محدود نہیں۔ راستے میں وادی کے بدلتے ہوئےمناظر، پہاڑوں کی ساخت اور مقامی آبادی کے چھوٹے چھوٹے گاؤں اس سفر کو یادگار بناتے ہیں۔ یہاں پہنچ کر یہ احساس مزید گہرا ہوجاتا ہے کہ نوبرا محض ایک سیاحتی مقام نہیں بلکہ صدیوں سے آباد ایک زندہ وادی ہے۔
ترتک
نوبرا کا ایک نسبتاً مختلف رنگ تُرتُک میں نظر آتا ہے۔ ہنڈر سے آگے واقع یہ سرحدی گاؤں اپنی ثقافت، زبان، طرزِ زندگی اور خوبانی کے باغات کے باعث منفرد شناخت رکھتا ہے۔ لیہ ضلع کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق تُرتُک میں مقامی ثقافت کو قریب سے دیکھنے اور گاؤں کی گلیوں میں گھومنے کا موقع ملتا ہے۔